اُردو ادباُردو شاعرینظم

کنڈیالی تھور / فاخرہ نورین

کنڈیالی تھور

 

 

بارِ اثمار سے جھکنے والا شجر

کتنی شدت سے بس چاہتا ہے کہ اب صرف 

یلغار ہو

 پک کے گرنے سے پہلے کسی لمسِ بے تاب کےمنتظر ، 

طالبانہ توجہ کی خواہش کےمارے ہوئے 

دستِ کم حوصلہ کی خنک نارسائی کے شکوہ کناں 

ٹوٹ کر کھائے جانے کی وارفتہ آسودگی کی تمنا کے مارے ہوئے کتنے پھل 

صرف شوبھا بڑھانے کے کام آ گئے 

اُدھرخاک کا رزق بنتے ہوئے 

کتنے پھل پھول بے موسمی ، موسمی نرمیاں سختیاں سہہ کے 

خوش باش جاتی رتوں کے حوالے ہوئے

لمس کا ذائقہ چکھنے والے کچھ ادھ کھائے، 

ادھ کچرے پھل خود پہ بیتے ہوئے موسموں کی 

شرارت پہ نازاں  

کسی جورِ بے جا سے بے شک خفا ہیں 

مگر گرمی دسترس سے بہت آشنا ہیں 

 

 اِدھرنارسائی کی حدت سے جھلسے ہوئے 

دستِ بے تاب کی اک مسلسل تمنا کی خواہش میں

 پگھلے ہوئےیہ ثمر،

ڈھلتی رت میں بھی لگتا ہے آئے تھے قندھار سے 

شاخ سے نوچے جانے کی وحشی تمنا

مسلسل تروٹک کی صورت ڈھلی ایسے اثمار میں

جو چھوئے ہی نہیں جا سکے پیار سے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button