اُردو ادباُردو شاعرینظم

خوشبو کی لپٹیں / حنا عنبرین

خوشبو کی لپٹیں

 

 

جھلمل کرتے جنگل پیڑ پرندوں سے

بھل بھل کرتے چشمے بہتے پانی کے 

ٹن ٹن بجتے گھنٹے معبد گاہوں کے 

شبنم جس کی بوندیں تازہ گھاس پہ ہیں 

اک خوشبو کی لپٹیں سرخ لباس پہ ہیں 

 

چھک چھک کرتی ریل گزرتی جاتی ہے

بادل من میں یادوں کی بِس گھولتے ہیں

دکھ بولتے ہیں

 

ٹم ٹم کرتی لڑیاں چاند ستاروں کی

سر سر کرتی بیلیں نم دیواروں کی

چک چک کرتی یاد کی چکیاں چلتی ہیں

ویرانے میں اب بھی شمعیں جلتی ہیں 

 

ٹپ ٹپ گرتی بوندیں پہلی بارش کی

بوندوں کی بوچھار میں سپنے جلتے ہیں

غم پلتے ہیں

 

سرخی مائل آنکھیں جاگنے والوں کی  

دھک دھک کرتی دھڑکن دیکھنے والوں کی

رو پہلا اکلاپا چھن چھن بولتا ہے 

دل ڈولتا ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button