منتخب کالم

قدرتی انتباہات اور ہماری لاپروائی/ نورین Ù�اروق ابراÛ�یم



پاکستان ایک بار پھر بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریوں میں گھرا ہوا ہے، مگر درحقیقت یہ تباہ کاریاں صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ ہماری برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ حالیہ کلائوڈ برسٹ اور طوفانی بارشیں دراصل ایک انتباہ ہیں، یہ یاد دہانی ہیں کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے سامنے کس قدر کمزور ہوچکے ہیں اور اس کے باوجود ہماری تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ کمزوری حادثاتی نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، ماحول دشمن عمارتیں، بڑھتی ہوئی گرین ہائوس گیسز اور سب سے بڑھ کر درختوں کی بے دریغ کٹائی نے ہمیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ ماحولیاتی اصولوں کے مطابق ہر ملک کی کم از کم پچیس فیصد زمین پر جنگلات ہونے چاہئیں، مگر پاکستان میں یہ شرح صرف پانچ فیصد رہ گئی ہے اور وہ بھی لکڑ مافیا کے نشانے پر ہے۔ 
حالیہ سیلابوں میں جب پہاڑوں سے کٹی ہوئی لکڑیاں پانی کے ساتھ بہہ کر آئیں تو یہ منظر محض حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک لرزہ خیز حقیقت تھی کہ ہمارے قدرتی محافظ درخت پہلے ہی مار دیے گئے تھے۔
گزشتہ حکومت نے اس خطرے کو بھانپ کر بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا مگر آج نئے انفراسٹرکچر، شاہراہوں، رنگ روڈز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر سو سالہ برگد جیسے عظیم الشان درخت کاٹ دیے جا رہے ہیں۔ یہ محض درختوں کی کٹائی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ماحولیاتی ڈھال کو ختم کرنا ہے۔
اسی طرح سب سے تشویشناک پہلو پانی کا ضیاع ہے۔ ماہرین برسوں پہلے خبردار کر چکے تھے کہ 2025ء تک پاکستان پانی کی شدید قلت کا شکار ہوگا۔ مگر ہر مون سون کے موسم میں اربوں لٹر تازہ پانی تباہ کن سیلابوں کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔ کیوں ہر گھر میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ٹینک لازمی قرار نہیں دیے جاتے؟ کیوں شہر کے منصوبہ ساز ذخائر اور ریزروائر بنانے میں ناکام ہیں؟ آنے والے پانی کے بحران کے تناظر میں یہ غفلت ناقابل معافی ہے۔
جب آفت آتی ہے تو ریاست کا کردار سب سے نمایاں ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے یہی سب سے غیر واضح ہے۔ ادارے جیسے این ڈی ایم اے موجود تو ہیں، مگر ان کا کردار محدود اور غیر مؤثر نظر آتا ہے۔ جہاں کچھ اقدامات کیے بھی جا رہے ہیں، وہ ناکافی اور غیر مربوط ہیں۔ امدادی کام زیادہ تر عام شہریوں، رضاکاروں اور فلاحی تنظیموں کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ حکومتی مشینری پس منظر میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتحال ایک بڑا سوال کھڑا کرتی ہے کہ اگر حکومت کو آبادی کے حجم اور ان قدرتی آفات کی شدت کا بخوبی علم ہے تو پھر مؤثر تیاری کیوں نظر نہیں آتی؟ اگر خدانخواستہ کل ایک بڑے زلزلے نے دستک دے دی تو ہماری تیاری کس حد تک ہوگی؟ موجودہ حالات اس سوال کا جواب خود ہی دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ وارننگ ہیں۔ وارننگ کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی صفِ اوّل میں کھڑا ہے۔ وارننگ کہ اگر آج عملی اقدامات نہ کیے گئے تو تباہی مزید بڑھے گی۔ 
ہمیں ملک کو سرسبز بنانا ہوگا، ماحولیاتی موافق مکانات تعمیر کرنا ہوں گے، پانی کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہوگا اور اداروں کو جواب دہ بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر بے حسی کو عمل سے بدلنا ہوگا۔
پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آج ہمارے سامنے ڈوبے ہوئے گاؤں، بے گھر خاندان اور برباد فصلیں زندہ ثبوت ہیں۔ اگر آج بھی نہ جاگے تو کل اس سے کہیں زیادہ ہولناک منظر ہمارے سامنے ہوگا۔ عمل کا وقت کل نہیں‘آج ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button