پانی اور پتھروں کا عذاب/ میاں ØØ¨ÛŒØ¨

سائنسدان جو مرضی توجیہات پیش کریں، موسموں کے اتار چڑھاؤ کی باتیں کریں لیکن جس قسم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں انسانی عقل دنگ ہے۔ اچانک کسی ایک جگہ پر آسمان سے اتنی بڑی تعداد میں پانی گرتا ہے کہ اس کی طاقت میزائلوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ انسان اسے کلاوڈ برسٹ کا نام دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آسمان پر ایک جگہ پانی جمع ہوتا ہے اور اچانک آسمان پھٹ جاتا ہے اور بہت بڑی تعداد میں پانی زمین پر گرتا ہے جس سے اس علاقے میں سیلاب آ جاتا ہے اور وہ سب کچھ بہا لے جاتا ہے کلاوڈ برسٹ کے سب سے زیادہ واقعات پاکستان میں رونما ہوئے ہیں لیکن بھارت اور امریکہ میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ چند سال قبل جب پہلی بار ایسی بارش پاکستان میں ہوئی تو کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ شاید کسی ملک نے موسموں پر تجربات کرتے ہوئے بادلوں کو اکٹھا کر کے کوئی مشق کی ہے کیونکہ ایسی خبریں آ رہی تھیں کہ حضرت انسان تباہی کے ایسے خوفناک ہتھیار تیار کر رہا ہے جو انسان کے وہم وگمان میں بھی نہیں۔ جس میں مصنوعی بیماریاں(جیسے کہ کرونا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی بیالوجیکل ویپن تھا جو تجربات کے دوران انسانوں کے کنٹرول سے باہر ہو گیا اور اس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی)۔ اسی طرح یہ بھی چہ میگوئیاں تھیں کہ سائنسدان ایسے تجربات کر رہے ہیں کہ موسموں کو جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جائے کیونکہ ان سے بچاؤ کے لیے انسان کے پاس کوئی توڑ نہیں ہو گا۔
اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی ایک جنگی ہتھیار کی شکل ہے جس سے سسٹم کو تہہ وبالا کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ انسان انسانوں کی تباہی کے لیے ایسے ایسے نسخے تیار کرکے محفوظ کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد اپنی بالا دستی قائم کرنا، پوری دنیا پر دسترس حاصل کرنا، پوری دنیا کے انسانوں کو اپنے کنٹرول میں کرنا اور پوری دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے اور اس دوڑ میں دنیا کے چار پانچ ملک شامل ہیں جن میں دنیا پر قبضہ کرنے کا مقابلہ جاری ہے۔ یہ نہ صرف دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ اپنے سیارے سے نکل کر دوسرے سیاروں اور دوسری دنیاؤں میں بھی مداخلت کر رہے ہیں یہ دراصل نظام قدرت میں مداخلت ہے جس کا مختلف شکلوں میں انسان خمیازہ بھی بھگت رہا ہے لیکن نظام قدرت سے مداخلت سے باز نہیں آرہا۔
حضرت انسان کی ہر چیز جاننے کی حس قدرت کے رازوں کو پا لینے کی جستجو جسے انسان اپنی ترقی کی معراج تصور کر رہا ہے دراصل انسان تنزلی کا شاخسانہ ہے اور اپنی بربادی کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہا ہے۔
حضرت انسان نے جو کچھ ایجاد کر لیا ہے ذرا تصور کریں ان میں کچھ چیزیں حادثاتی طور پر ہی لیک ہو جائیں تو زمین پر کوئی چیز نہ بچے۔ مثال کے طور پر انسانوں کے پاس جتنے ہائیڈروجن بم ہیں اگر ان میں سے دوچار بھی حادثاتی طور پر چل جائیں تو دنیا میں شاید ہی کچھ بچے۔ ہمارے عقلمند جس طرح سورج کی توانائی سے چھیڑخانی کر رہے ہیں اور جس طرح زمین کی تخلیق پر تجربات ہو رہے ہیں، اگر خدانخواستہ یہ تجربات الٹ پڑ جائیں تو کوئی شے نہیں بچے گی۔ ابھی ہم سے کلاوڈ برسٹ نہیں سنبھالے جا رہے، سائنسدان ابھی تک یہ نہیں جان سکے اور نہ ہی اس بارے کوئی پشین گوئی کر سکتے ہیں کہ کلاوڈ برسٹ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ زمین کے اندر ہلچل بارے نہیں بتایا جاسکتا کہ کس وقت کہاں زلزلہ آ جائے۔ جن علاقوں میں کلاوڈ برسٹ ہوئے ہیں وہاں کے کچھ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ نہ صرف آسمان سے خوفناک پانی بارش کی صورت میں گرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ آسمانی بجلی بھی گرتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پانی بہت بھاری بھاری پتھروں سمیت ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے۔ انسانی عقل دنگ ہے کہ جن پتھروں کو بڑے بڑے بلڈوزر ہلا بھی نہیں سکتے وہ پانی کے ساتھ تنکوں کی طرح بہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تباہی کے جو مناظر دیکھے گئے ہیں اسے عذاب ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم ایک مقدار میں آسمان سے مینہ برساتے ہیں کیونکہ بارشوں میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ پانی بوندوں کی صورت میں گرتا ہے اور جو کلاوڈ برسٹ کی صورت میں پانی گرتا ہے وہ تومیزائلوں اور بموں کی بارش لگتی ہے۔ یہ انسان کو تنبیہ ہے کہ وہ نظام قدرت میں مداخلت سے باز آ جائے، قدرت کے سسٹم سے چھیڑخانی نہ کرے۔ یہ وقت اجتماعی توبہ اور استغفار کا ہے۔ انسان کو اپنے کرتوتوں سے باز آ جانا چاہیے ورنہ ہم بڑی تیزی کے ساتھ روزِ قیامت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
٭…٭…٭




