منتخب کالم

صوفی تبسم اکیڈمی/ بلقیس ریاض



نعیم فاطمہ جب بھی لاہور آتی ہیں…اس کے اعزاز میں کوئی نہ کوئی تقریب ضرور ہوتی ہے… اس مرتبہ صوفی تبسم اکیڈمی دیکھنے کا شوق اسلام آباد سے ہی لے کر آئی تھی…فوزیہ صوفی تبسم کی پوتی ہے… اس نے سلمیٰ اور مجھے بھی انوائٹ کیا… عرصہ سے مجھے بھی تمنا تھی کہ میں بھی صوفی تبسم اکیڈمی کا چکر لگا کر ان کے زمانے کے نوادرات دیکھوں۔
طے یہ پایہ کہ سلمیٰ اور نعیم فاطمہ میرے گھر ہی آجائیں گی اور مل کر یہاں سے فوزیہ تبسم کے گھر جائیں گی۔ رات کے آٹھ بجے ہوئے تھے گوکہ گرمی تھی مگر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ بارش برستی برستی بند ہو چکی تھی۔ آسمان پر چاند بڑا مدھم تھا اور کہیں بادلوں میں چھپا ہوا تھا…ننھی بدلیاں بادلوں کا پیچھا کر رہی تھیں۔ ہوا میں تازہ پھولوں کی مہک تھی۔ درخت جھوم رہے تھے۔ سو ہم چاروں سلمیٰ،نعیم فاطمہ اور ان کی بھابی بھی ہمارے ساتھ جانے کیلئے تیار تھیں… ایک ہی گاڑی میں ہم اس کے گھر پہنچ گئے۔ فوزیہ تبسم نے خندہ پیشانی اور مسکراتی آنکھوں سے ہمیں خوش آمدید کہا…اور ڈرائینگ روم میں بٹھا دیا… پرانے گھر کو جدید طرز سے آراستہ کیا ہوا تھا… ریک پر لندن اور امریکہ سے لائی ہوئی اشیاء  تھیں…دیواروں پر کچھ پینٹنگز آویزاں تھی…شینڈلئیر کے علاوہ جگمگاتے ٹیبل لیمپ اتنے خوبصورت تھے…کہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ملتان سے لائی ہے…اسی قسم کی اشیاء میں امریکہ کے سٹوروں میں دیکھ چکی تھی جہاں بتایا گیا تھا کہ یہ چائنیز ہیں۔ حالانکہ کافی اچھی چیزیں پاکستان سے امپورٹ ہوتی ہیں مگر جب بھی خریدو تو چائنہ کا نام اوپر لکھا ہوتا ہے…اور وہی چیزیں ہم وہاں سے خرید کر پاکستان لے آتے ہیں.
 سلمیٰ خاموش سی بیٹھی تھی…یوں لگتا تھا کہ اس کی طبیعت ناساز ہے مگر بڑی ہمت والی خاتون ہے مجال ہے کہ کہا ہو کہ میری طبیعت ناساز ہے۔ صوفی تبسم کی تمام چیزیں اور نوادرات اوپر کی منزل میں تھے۔ اب نعیم فاطمہ بے تاب تھیں کہ صوفی تبسم صاحب کی اشیاء دیکھی جائیں۔ سلمیٰ نے کہا۔
آپ لوگ چلی جائیں میں دیکھ چکی ہوں… فوزیہ اوپر ان کی رہائیش گاہ پر گول سیڑھیوں سے گھومتی گھماتی اوپر لے گئی۔اوپر ان کے میاں شاہد بھی مسکراتے ہوئے ہمارے منتظر تھے۔ صوفی تبسم کی پوتی ہونا….بڑے فخر کی بات ہے…میں حیران تھی…کہ اس افراتفری کے دور میں…بچے کہاں بزرگوں کی چیزیں سنبھال کر رکھتے ہیں… ان کی بے شمار ذاتی چیزیں جوں کی توں رکھی ہوئی ہیں…دیواروں کے ساتھ لگی آلماریاں اور ان کی کتابیں…گھر کے مکین لوگوں اور ان کی حفاظت کی وجہ سے دیکھنے کو نظر آرہی تھیں… یہ سب ایک گہری محبت کی اور اچھی تربیت کی وجہ سے بھی قائم ہیں۔ ان کا بیڈ…حقہ…گراموفون اور بہت سے تحائف جو لوگوں نے دئیے۔اس کے علاوہ صوفی تبسم کی ہینڈ رائٹنگ…بھی بڑی محبت سے دکھائی۔
اس کی محبت آنکھوں سے چھلک رہی تھی…میں حیران تھی ان کے شوہر شاہد کو دیکھ کر جو شانہ بشانہ بیوی کے ساتھ ان کے نوادرات دکھاتے ہوئے خوش ہو رہے تھے۔ تو میں نے ان سے پوچھا۔
آپ کا بھی ان کے ساتھ کوئی رشتہ تھا…انہوں نے جواب دیا۔
نہیں…میں اور بھی حیران ہوئی…اور سوچا فوزیہ تبسم اتنی خوش نصیب ہے کہ ایسا شوہر اس کو ملا جو شوہر کم اور دوست زیادہ ہے.
وہ چیزیں دیکھ کر مجھے پھر کہنا پڑتا ہے کہ آجکل کے بچوں کو شوق نہیں ہوتا بزرگوں کی چیزیں سنبھالنے کا۔ بچے اپنی بھاگ دوڑ میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر فوزیہ کی تربیت اچھی تھی آگے سے اس نے اپنی اولاد کی تربیت بھی اچھی کی ہے…۔ فوزیہ اور شاہد نے ان کی تمام چیزوں کو دل کے ساتھ لگا کر محفوظ کیا ہوا ہے۔ فوزیہ بھی بڑی باصلاحیت اور ذہین ہے۔ ایک بار پھر میری نظر صوفی تبسم صاحب کے پلنگ کے طرف گئی۔ صاف ستھری سفیدچادر پلنگ پر بچھی ہوئی تھی۔
صوفی تبسم صاحب کا پلنگ کے پاس حقہ رکھا ہوا تھا…یوں لگتا تھا کہ ابھی باہر سے آئیں گے اور لیٹ کر حقہ پئیں گے۔ خیر…کافی دیر ان کی چیزیں دیکھتے رہے۔ میں ضرور کہوں گی کہ صوفی تبسم صاحب کو شاہد اور فوزیہ نے ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے…اور پھر ان ہی سیڑھیوں کے ذریعے ہم واپس نیچے آئے…تو سلمیٰ کو ابھی بھی نڈھال دیکھا۔
فوزیہ نے بڑا پرتکلف کھانا اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہوا تھااور بڑی رغبت سے کھایا اور رخصت چاہی۔
٭…٭…٭





Source link

Author

Related Articles

Back to top button