منتخب کالم

داستان پاکستان دکھوں اور غموں سے آزادی تک کا سفر     (قسط دوم)/ محمد اکرم چوہدری



سی پیک اور ترقی کے خواب
2015 میں چین،پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا آغاز ہوا۔موٹرویز، بجلی کے منصوبے، اور صنعتی زون بننے لگے۔یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ترقی کی ایک امید تھا اور دنیا نے دوبارہ اس ملک کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔
2020 کی دہائی، وبا اور سیاست کا طوفان
کورونا وائرس نے معیشت کو جھنجھوڑ دیا لاکھوں لوگ بیروزگار ہوئے، ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم تھا، اور گلیوں میں سنّاٹااسی دوران سیاسی انتشار بڑھا ، جلسے، دھرنے، عدم اعتماد، اور عوام کا بڑھتا غصہ۔
آج کا پاکستان چیلنج اور اْمید
2025 میں پاکستان مشکلات کے بوجھ تلے دبا ہے:مہنگائی، بیروزگاری، سیاسی انتشار، اور بین الاقوامی دباؤہے لیکن یہ وہی قوم ہے جس نے 1947 کی خونریزی دیکھی، 1971 کا صدمہ سہنے کے بعد دوبارہ کھڑی ہوئی، دہشت گردی کے عفریت کو شکست دی، اور ایٹمی طاقت بن کر دنیا میں اپنی پہچان بنائی۔ہر بچے کے لب پر اب بھی وہی دعا ہے:‘‘یا اللہ، پاکستان کی حفاظت فرما!’’
پاکستان کی داستانِ غم و خوشی
یہ ملک ایک خواب سے شروع ہوا ایک ایسا خواب جو منٹو پارک کی گھاس پر بیٹھے ہوئے، دھوپ میں پسینہ پونچھتے، اور قائداعظم کی آواز سنتے لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔پھر وہ وقت آیا جب یہ خواب لہو کے دریا سے گزر کر حقیقت بنا۔ہم نے 1947 میں لاشوں سے بھری ٹرینیں دیکھیں، جلتی بستیاں دیکھیں، اور ان ماؤں کو دیکھا جو اپنے گمشدہ بچوں کے کپڑے چوم کر رو رہی تھیں۔یہ نوحہ صرف تاریخ کی کتاب میں نہیں، ہر پاکستانی کے خون میں لکھا ہے۔
زخموں پر زخم، مگر امید باقی
1971 میں مشرقی پاکستان ہاتھ سے گیا یہ شکست ہمارے وجود کو چیر کر گزر گئی، مگر ہم پھر کھڑے ہوئے۔ہم نے ایٹمی طاقت بننے کا خواب دیکھا، بھٹو نے وعدہ کیا، سائنسدانوں نے دن رات محنت کی، اور 28 مئی 1998 کو ہم نے دنیا کو بتا دیا:‘‘ہم زندہ ہیں!’’
دہشت گردی کا سیاہ دور
2001 سے آگے، بم دھماکے، جنازے، اور آنسو  یہ ہماری روزمرہ کی کہانی تھی۔آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔لیکن ہم نے دہشت گردوں کو شکست دی، اپنے شہیدوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔
وبا، سیاست، اور مہنگائی کا عذاب
پچھلے برسوں میں کورونا نے ہمیں کمزور کیا، سیاست نے ہمیں تقسیم کیا، اور مہنگائی نے ہمیں توڑ دیا۔ لیکن آج بھی ایک کسان صبح اْٹھ کر بیج بوتا ہے، ایک سپاہی سرحد پر کھڑا ہے، اور ایک ماں بیٹے کو پاکستان کے خواب کے ساتھ پال رہی ہے۔
راستہ نجات، ہم کہاں جائیں؟
پاکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں نیت کی کمی ہے، قیادت کی کمزوری ہے، اتحاد کی کمی ہے۔ہمیں اپنے آپ کو تین ستونوں پر دوبارہ کھڑا کرنا ہوگا:
1۔ایمان اور دیانت، وہی جذبہ جو 1940 میں تھا، جب لوگ ذاتی فائدہ نہیں بلکہ امت کا سوچتے تھے۔
2۔تعلیم اور علم، بندوق دشمن کو مارتا ہے، مگر قلم آنے والی نسل کو بچاتا ہے۔
3۔اتحاد اور قربانی، قومیں تقسیم ہو کر مٹتی ہیں، اور جڑ کر دنیا کو جیت لیتی ہیں۔
ایک جذباتی دعا
یا اللہ!
جیسے تْو نے ہمیں قیام پاکستان کی رات بچایا، جیسے 1965 میں دشمن کے مقابل کھڑا کیا، جیسے دہشت گردی کے اندھیروں سے نکالا،ویسے ہی آج ہمیں اتحاد دے، قربانی کا جذبہ دے، اور قیادت دے جو ہمارے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی
پاکستان کی کہانی غم اور خوشی دونوں کا مرکب ہے یہ ملک اب بھی جوان ہے، اس کی دھڑکنیں اب بھی تیز ہیں، اور اس کی آنکھوں میں اب بھی خواب ہیں۔اگر ہم نے ایمان، قربانی، اور اتحاد کو اپنا لیا تو یہ زمین ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دے گی۔
‘‘پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ’’، یہ صرف نعرہ نہیں، یہ ہماری بقا کی کنجی ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button