ایوان زیریں میں وزیر قانون کی رائے لئے بغیر ہی قانون پاس/ وقار عباسی

بدھ کے روز ایوان زیریں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کا بل جبکہ سینٹ کی نشستیں96 سے بڑھا کر 113 کرنے کے بل پیش کردئیے۔ اجلاس کے دوران سپیکر سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی قیادت کو ایک مرتبہ پھر گرینڈ جرگہ کی پیشکش کی، عامر ڈوگر نے سپیکر سے درخواست کی کہ ہمارے پانچ ایم این ایز کو جیل ملاقات نہیں کرنے دی گئی، ہمارا استحقاق مجروح ہوا، لہٰذا اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کو بھجوایا جائے، اس پر سپیکر نے وزیر قانون سے کہا کہ وہ اس معاملے میں رولز پڑھ کر سنائیں جس پر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ استحقاق کے قانون میں گرے ایریاز ہیں، ہمارا لیڈر جیل میں ہے، پارلیمنٹرینز کا حق ہے کہ ان سے ملیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر ہم ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں۔ سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ آپ لوگ ایوان سے واک آئوٹ سے پہلے میری بات سنیں۔ کل انڈیا میں راہول گاندھی گرفتار ہوا، کوئی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے۔ بیٹھ کر بات کریں میرے لیے کوئی گرینڈ جرگہ نہیں ہے۔ میرا گرینڈ جرگہ یہ ایوان ہے، سینٹ ہے۔ میں سہولت کاری کے لیے تیار ہوں، آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔ مل کر بیٹھ کر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ابھی بیٹھ جائیں، بتائیں پھر کیا بات ہوئی؟۔ ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اطلاعات و نشریات سے متعلق پیش کیا گیا تو ڈپٹی سپیکر میر مصطفیٰ شاہ نے وزیر قانون سے رائے لیے بغیر ہی قانون پاس کروا دیا جس پر وزیر قانون نے دوبارہ قرارداد پیش کرتے ہوئے درخواست کی اس قانون کو متعلقہ کمیٹی کو ریفر کیا جائے۔ ایوان میں متعدد کمیٹیوں کی جائزہ رپورٹ پیش کی گئیں، اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے ایوان کی توجہ سپریم کورٹ کی فیسوں میں ہوشربا اضافے کی جانب مبذول کرواتے ہوئے اسے انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ قرار دیا اور وزیر قانون کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی بھی درخواست کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب میں کہا فیس بڑھانے کا فیصلہ عدالت کا ہے ہم انہیں نظرثانی کرنے کی استدعا کریں گے۔ انہوں سردار لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے آپ کے ساتھ کام کیا،1994 ء میں آپ کی فیس ایک لاکھ روپے تھی، آج آپ ایک کروڑ سے کم نہیں لیتے، اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں اس سے زیادہ لیتا ہوں۔ وزیر قانون نے کہا کہ مجھے ایک سیاسی شخصیت کے خلاف مقدمے کی پیروی کے لیے7 کروڑ فیس کی آفر ہوئی، میں نے وہ ٹھکرادی۔ ایوان کی کارروائی ابھی جاری تھی کہ سپیکر نے اجلاس آج صبح تک کیلئے ملتوی کر دیا۔




