منتخب کالم

  جمہوریت بہترین انتقام ہے/ ناصرہ عتیق



جمہوریت بہترین انتقام ہے۔یہ  وہ جملہ ہے جو ہم کئی سال سے سنتے اور سر دھنتے آ رہے ہیں حالانکہ اِس جملے پر وضاحت بالکل نہیں ہے کہ انتقام ہے کس سے،لوگ ابھی تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ شاید یہ انتقام اسٹیبلشمنٹ سے ہے،لیکن 25 سال لگے،اس بات کا اصل مطلب سمجھنے کو کہ جمہوریت ہمارے ملک میں دراصل عوام سے انتقام ہے۔ ہر جمہوری حکومت میں عوام دشمن منصوبے بنے، انڈسٹریاں بند ہوئیں، بیروزگاری کا طوفان آیا،مہنگائی ایک جن بن گئی جو کسی کے قابو میں نہیں۔بڑے بڑے ادارے تباہ ہو گئے، لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے،دور کسی پارٹی کا بھی ہو انتقام عوام سے ہی لیا گیا۔پھر عوام یہ بھی جان گئے ووٹ اور کسی بھی قسم  کے احتجاج کی کوئی قدر و قیمت نہیں، ووٹ کہیں پڑتا ہے جیت کوئی اور جاتا ہے یہ سب کچھ جان لینے کے بعد عوام کی کسی بھی معاملے میں دلچسپی ختم ہونے لگی۔

ایک اور بات ہمیشہ سے سنی تھی کہ جمہوریت میں احتجاج عوام کا حق ہے، احتجاج کرنے والے کی بات سنی جائے، اس کا مسئلہ حل نہ ہونے والا ہو تو اس سے مذاکرات کر کے اُسے سمجھایا جائے یا پھر اگر اُس کے مطالبات ماننے والے ہوں تو اُسے تسلی ضرور دے دی جائے،لیکن سیاسی احتجاجوں کو تو ایک طرف رکھیں آپ نابیناؤں کے احتجاج کا حال دیکھیں،ڈاکٹروں کے احتجاج کے ساتھ کیا ہوا،اس پر بھی نظر دوڑائیں،کسانوں کے ساتھ کیا کِیا گیا سب کے سامنے ہے۔جمہوریت کے متعلق ایک اور بات بہت مقبول تھی کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حُسن ہے،لیکن اب یہ حُسن گہنا گیا ہے۔اختلافِ رائے رکھنے والوں کے ساتھ اب کیا کِیا جاتا ہے، بچہ بچہ جان گیا ہے۔آنے والے دِنوں میں اختلافِ رائے رکھنے والوں میں اتنا خوف و ہراس پھیل چکا ہو گا کہ کوئی کسی بات پر اختلاف کرنے کی جرأت ہی نہیں کرے گا اور پھر راوی مقتدر قوتوں کے لئے چین ہی چین لکھے گا اور ملکی معاملات کسی احتجاج یا اختلاف سے پاک  ہونے کے بعد سب کچھ صرف ایک سمت میں ملے گا اور سمت ہو گی حکمران طبقے کے اپنے مفادات کی سمت۔اِس وقت بھی دیکھا جائے تو عوام ووٹ دینے کا خمیازہ ہی بھگت رہے ہیں اور ابھی مزید بھگتیں گے۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے میں اس صورتحال میں فٹ ہوتی ہوئی ایک بھارتی شاعر دیوی پرشاد کی ایک نظم قارئین کے لئے پیش کرنا چاہتی ہوں:

میں نے کہا آپ فاشسٹ ہیں 

اس نے کہا کہ وہ انسان ہے

میں نے کہا کہ آپ فاشسٹ ہیں 

اس نے کہا وہ عوامی نمائندہ ہے

میں نے کہا کہ آپ فاشسٹ ہیں 

تو اس نے کہا کہ اصل مسئلہ ترقی ہے

اب آخر میں بات کرتے ہیں پانچ اگست کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کی۔قارئین میں نے اپنے پچھلے کالم میں بتایا تھا کہ کسی زور دار احتجاج کی توقع نہیں ہے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔کئی جگہ پر چھوٹے موٹے خانہ پُری والے احتجاج ہوئے لیکن ایسے نہیں تھے کہ جن کا نوٹس لیا جائے۔پانچ اگست سے چند دن پہلے احتجاج میں ملوث افراد کو سخت سزائیں سنا دی گئیں۔کئی ارکان اسمبلی اور سینیٹر نااہل کر دیئے گئے،سڑکوں پر رکاوٹیں تھیں اور فورسیز الرٹ،ایسے میں چند سر پھروں کے سوا عام کارکنوں کا سڑکوں پر آنا ناممکن نظر آتا تھا اور پھر وہی ہوا۔کوئی زوردار احتجاج نہ ہو سکا۔اگر پولیس ریحانہ ڈار کو اس طریقے سے گرفتار کرنے کی بجائے اُسے صرف نعرے ہی لگانے دیتی تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ احتجاج کی مشہوری کا سارا سہرا پی ٹی آئی والے ریحانہ ڈار کی گرفتاری پر باندھ رہے ہیں جو خود ان کی ناکامی کی دلیل ہے۔

٭٭٭٭٭





Source link

Author

Related Articles

Back to top button