غزل

غزل / لاریؔن جعفری

غزل

ترے قدموں میں میرا سر پڑا ہے
اُسی کے ساتھ ہی خنجر پڑا ہے

مری منزل میں حائل ہے رکاوٹ
مرے رستے میں تیرا گھر پڑا ہے

عجب شب ہے کہ میں دہشت زدہ ہوں
مجھے تکتا ہوا بستر پڑا ہے

کبھی مسکن یہی تھا بلبلوں کا
وہ اک گلشن جو اب بنجر پڑا ہے

نمی ہوتی ہے ساحل کا مقدر
یہ پیاسا آج بھی ساگر پڑا ہے

پڑا ہو جس طرح بیمار کوئی
یوں پہلو میں دلِ مضطر پڑا ہے

تمھاری بے رخی کا ہے نتیجہ
کہ اک انسان اب در در پڑا ہے

کسی ناقدر کے ہاتھوں لگا تھا
بمثلِ سنگ اب گوہر پڑا ہے

ہو شکوہ کیا بھلا چارہ گری کا
گریباں چاک چارہ گر پڑا ہے

جو چاہے حال ہو لاریؔن اِس کا
ترے قدموں میں یہ نوکر پڑا ہے

لاریؔن جعفری

 

Author

Related Articles

Back to top button