ملک بھر میں مہنگائی کی لہر / فیصل شامی

ملک بھر میں مہنگائی کی لہر ہے، پٹرول، گیس،، بجلی، آٹا، دالیں، مشروبات، مصالحہ جات، دوائیوں اور سگریٹ سمیت ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ کہا جا رہا تھا عوام کو ریلیف ملے گا لیکن تاحال عوام کو ریلیف نا مل سکا اورطوفانی مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا اس قدر مہنگائی ہے کہ کیا بتائیں۔ بہت سے دوست مہنگائی پہ تجزیہ کرتے ہوئے برملا یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ حکومت نے غربت نہیں ملک بھر سے غریب ہی مکانے کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے۔ آئے روز عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس رہی ہے اور ایک خبر تازہ تازہ گردش کر رہی ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے والا ہے جو کہ عوام کے لئے باعث پریشانی ہے یہ بھی بتا دیں کہ آپ ملک کے جس مرضی گلی کو چے میں جائیں تو آپ کو مہنگائی ہی ملے گی۔مہنگائی یقینا ہرجگ ہی ہے اور ایک خبر ہے کہ عوام کی سہولت کیلئے قائم یوٹیلٹی اسٹورز بھی غیر فعال کر دئیے گئے ہیں جو کہ عوام کو کسی قسم کی سہولت میسر کرنے سے قاصر ہیں۔ سیر و تفریح کے لئے مری پہنچے تو مہنگائی کا سیلاب نظر آیا موٹر وے پہ سفر کیا تو مہنگائی نظر آئی۔ وفاقی دارلحکومت میں بھی ہمارا مہنگائی سے واسطہ رہا۔جی دوستو ہمارے ملک میں کچھ ملے نا ملے لیکن لوڈ شیڈنگ،گندگی اور مہنگائی ضرور ملے گی۔ جس مرضی گلی محلے میں چلے جائیں آپ کو چیزیں مہنگی ہی ملیں گی۔ ہر دکاندار کا ہر ہوٹل کا ریٹ الگ الگ ہے۔ شہر شہر نگر نگر مہنگائی کا سامنا ہے۔ مری اسلام آباد میں بھی بے تحاشہ مہنگائی ہے ہی لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف موٹروے پہ سفر کرتے ہوئے مہنگائی کا سامنا کرنے ہوئے ہوتی ہے۔موٹر وے پہ سفر کر نے والے مسافر بھی موٹروے پہ مہنگائی سے پریشان ہیں۔ موٹر وے پہ موجود دکانداروں نے اپنی مرضی کے ریٹس لگا رکھے ہیں جنہیں کوئی روکنے والا نہیں۔ اگر مہنگی اشیاء بارے پوچھا جائے تو تو جوابا ًکہتے ہیں کہ موٹر وے ہے اس لئے اشیاء مہنگی بیچ رہے ہیں جبکہ موٹر وے پہ قائم ہوٹلز بھی مہنگا کھانا بیچ رہے ہیں۔موٹروے پہ قائم ہوٹلز بارے انکشاف ہوا کہ اسلام آباد راولپنڈی و دیگر شہروں کے بڑے ہوٹلوں اور شادی ہالوں کا بچا ہوا کھانا موٹر وے پہ قائم ہوٹلز اور دیگر ڈھابوں پہ سپلائی ہوتا ہے جو کہ انتہائی سستے داموں خریدکر مہنگے داموں مسافروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔وفاقی دارالحکومت سے کھانا پلاسٹک کے شاپنگ بیگ میں پیک کر کے ہوٹلز پہ پارسل کیا جاتا ہے۔یقینا پلاسٹک بیگز مضر صحت ہے اور پلاسٹک بیگ پہ پابندی بھی لگ چکی ہے اس لئے حکومت اور محکمہ صحت کو اس بارے توجہ دینی چاہیے اور سخت ایکشن لینا چاہیے۔حکومت کو تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ملک بھر میں مہنگائی عوام کے لئے باعث پریشانی ہے اور اس پریشانی کو بھی حکومت ہی دور کر سکتی ہے اور یہ حکومت کا کام بھی ہے اور فرض بھی کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلوانے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اورملک بھر کے عوام کی دعائیں لی جائیں ۔ تو بہر حال اجازت دوستو ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا۔



