حیران کن خبر شہر اقتدار سے / فیصل شامی

اسلام آباد سے لاہور واپسی ہوئی اور اسلام آباد سے لاہور آنے کے لئے موٹر وے پہ ہی سفر کیا ہم یقینا لاہور سے اسلام آباد یا اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹر وے پہ ہی سفر کرنے کو ترجیچ دیتے ہیں وہ اسلئے کہ موٹر وے پہ سفر کرنے سے تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا انتہائی آرام دہ سفر ہے موٹر وے کا اور یہ بھی بتا دیں کہ موٹر وے بنانے کا سہرا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے سر پہ سجا اور یقینا موٹروے بننے سے نا صرف سفر آرام دہ ہوا بلکہ لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار بھی ملا اور یہ بھی بتا دیں کے موٹروے پہ ہزاروں دکاانیں ہیں لاتعداد ہوٹل ہیں اور لاتعداد بسیں موٹر وے سے گزرتی ہیں جن میں روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں ااور بسوں گاڑیوں سے روزانہ ٹول ٹیکس کی مد میں سرکار کو کروڑوں روپے کا سرمایہ بھی روز جمع ہوتا ہے۔یہ ن لیگ حکومت کی خااصیت ہے کہ میاں نواز شریف کے دورحکومت میں عوام کوروزگار کے لاتعداد مواقع فراہم کئے گئے اور آجکل مریم نواز جو وزیراعلیٰ پنجاب ہیں اپنے والد میاں نواز شریف کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے بے شمار کام اور بہت سے فلاحی منصوبوں کا آغاز کرتی نظر آرہی ہیں۔بہر حال بات ہو رہی تھی اسلام آباد سے براستہ موٹر وے لاہور واپسی کی تو یہ بھی بتا دیں کے یقیناہم نے اسلام آباد کی سیر بھی کی اور جی بھر کے بہت سارے دوستوں سے بھی ملاقات کی جن میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے دوست بھی شامل تھے اور ہمارے بڑے پیارے بھائی اظہر جتوئی نیشنل پریس کلب کے صدر ہیں اور انکا افضل بٹ گروپ سے تعلق ہے۔افضل بٹ گروپ کئی سالوں سے نیشنل پریس کلب پہ راج کر رہا ہے۔ اظہر جتوئی بہت خوش اخلاق، خوش مزاج سینئر صحافی ہیں۔ہم جب بھی اسلام آباد جاتے ہیں تو اسلام آباد پریس کلب کا چکر بھی لگاتے ہیں اور فارغ وقت میں فرصت کے لمحاات گزارتے ہیں اور ہمارے بہت سے دوست جانتے ہیں کہ ہم نے زندگی کا طویل حصہ اسلام آباد میں گزارا اور بطور سب ایڈیٹر خبروں کی کانٹ چھانٹ بھی کر نی سیکھی اور بطور رپورٹر خبروں کی تلاش میں شہر اسلام آباد کی سڑکوں اور گلیوں کی خاک بھی خوب چھانی اور بہت سی خبروں سے یا د آیا کہ آجکل جب ہم اسلام آباد سے لاہور واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے تو ایک خبر شہر اقتدار کی تھی جو عوام میں خاصی مقبول نظر آئی جو سوشل میڈیا پہ جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی۔ اور وہ خبر یہ تھی کہ وفاقی دارالحکومت میں فوڈ اتھارٹی نے چھاپہ مار کے کئی ہزار کلو گرام ذبح شدہ گدھوں کا گوشت برآمد کر لیاا ور مذبح خانے میں سے زندہ 45 گدھے بھی برآمد کر لئے اور اس ضمن میں یہ تفصیل سامنے آِئی کہ گدھوں کا گوشت غیر ملکی شہریوں کی خوراک کے لئے تھا بلکہ مقامی ہوٹلز و دکانوں پہ بھی فروخت کیا جارہا تھا اور یہ خبر یقیناباعث حیرانی بھی اور باعث تشویش بھی تھی کہ وفاقی دارالحکومت میں گدھے کا گوشت فروخت ہو رہا ہے اور نا جانے کتنے طویل عرصہ سے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔پہلے تو شہر لاہورمیں گدھوں کے گوشت کی فروخت بارے سنا تھا۔ اس خبر سے شہریوں میں بے چینی بھی پھیل گئی ہے اور شہریوں میں شدید غصہ بھی نظر آ رہا ہے اور یقینا ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے جو اپنی جیبیں بھرنے کی خاطر عوام کو حرام جانور تک فروخت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ایسے انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو مردار حرام جاانوروں کا گوشت کھلانے واالوں کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ آئندہ کوئی بھی معصوم و مظلوم عوام کو گدھے گھوڑے،کتے بلی کا گوشت یاادیگر مردار حرام گوشت فروخت کر نے کا سوچ بھی نا سکے۔ تو بہر حال اب مزید کیا کہیں۔ فی الحال اجازت آپ سے دوستو ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا




