اعتبار/کلثوم پارس

وہ اپنی چپل کو اپنے دونوں ہاتھوں پر سجائے سر کو نیہوڑائے اپنی ماں کے سامنے دو زانو بیٹھا تھا۔ ماں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو جاری تھے۔
"دور ہو جا میری نظروں سے۔۔۔۔” سکینہ بی بی نے شفقت کے ہاتھوں پر سجی جوتی کو اپنے ہاتھ سے پرے جھٹکا اور اسے بھی دھکا دیا۔ وہ پیچھے کمر کے بل جا گرا لیکن چند ساعتوں کے بعد پھر ماں کے سامنے سر جھکائے بیٹھ گیا۔
"ماں!!!!کیا تو مجھے نہیں جانتی؟؟ میں اپنی بہن کے زیورات میں سے انگوٹھی کیوں چراؤں گا؟؟”
"کیوں چرائے گا ؟؟؟ کیوں چرائے گا ؟؟ ہیں۔۔۔۔۔ یہ بھی میں تجھے بتاؤں؟؟”
"چل ٹھہر!!! میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔ اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے کم بخت !!! اب کی بار سکینہ نے اس کی چپل سے اسکی پٹائی شروع کر دی طعنے اور آنسوؤں کے ساتھ ساتھ چپل بھی شفقت پر برس رہی تھی۔
جب مار مار کر تھک گئی تو خود اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے لگی پیٹنے ۔ اس کی دونوں بیٹیاں جو کافی دیر سے خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھیں ان میں سے ایک نے جلدی سے آگے بڑھ کر ماں کو سنبھالا دیا اور دوسری اس کے پیچھے پر اسرار نظروں سے ماں کو بٹر بٹر تکے جا رہی تھی۔ پاس آ کر اس نے اپنی بند مُٹھی کھول لی۔ انگوٹھی ۔۔۔۔۔ سکینہ نے اپنی آنکھیں دوپٹے کے پلو سے رگڑ کر پونچھتے ہوئے لپک کر انگوٹھی پکڑ لی۔
یہ کہاں سے ملی ؟؟اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔
وہ ٹرنک کے پاس گری پڑی تھی۔
ماں نے ایک نظر شفقت پر ڈالی۔ مگر شفقت خاموشی سے اپنی ٹوٹی ہوئی چپل پاؤں میں اڑس کر آستین سے اپنی آنکھوں کو صاف کرتا ہوا بوجھل قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا۔
شفقت ایک خوبرو نوجوان تھا۔ جس ملک میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے لیے دھکے کھا رہے ہوں وہاں شفقت جیسے میٹرک پاس کو کون پوچھے گا۔ باپ سرکاری اسکول میں چپڑاسی تھا اس کے مرنے کے بعد تھوڑی بہت پینشن آتی تھی دونوں بہنیں گھر میں سلائی کا کام کرتی تھیں صبر شکر سے ان کی اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔
لے دے کے اب شفقت ہی گھر کا سربراہ تھا اس نے کافی جگہ قسمت آزمائی کی مگر کہیں نوکری نہ ملی۔ جو وقت رزق حلال کمانے میں بسر ہونا تھا اب وہ آوارہ اوباش لڑکوں کے ساتھ گذرنے لگا۔ آہستہ آہستہ سفید رنگت پیلی اور گلاب کی پتیوں جیسے سرخ ہونٹ سفید پڑنے لگے موتیوں کی طرح چمکتے دانتوں پر ایسی پیلاہٹ چپکی کہ منجن تو منجن ریت سے مانجھنے سے بھی نہ اترے۔
اب وہ صابن سے رگڑ رگڑ کر جتنا بھی منہ دھوئے، دانتوں پر برش گھسائے اور انگلیوں پر لگی کالک کو جتنا بھی صاف کرئے کوئی فائدہ نہ تھا۔ نشہ اس کے پورے جسم میں خون کی طرح سرائیت کر چکا تھا اور بقول سکینہ کے اس کا خون سفید ہو چکا تھا۔
:::::::::::::::::::
نشہ آہستہ آہستہ جوانی ،عزت , غیرت سب چاٹ رہا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی سکینہ بی بی گاؤں کے چودھری کی منت سماجت کر کے شفقت کو تھانے سے چھڑوا کر لائی تھی۔ انھی دنوں میں علاقے میں مرکز بحالی صحت ( Rehabilitation centre) کی ٹیم سروے کے لیے آئی تو سکینہ نے شفقت کو ان کے حوالے کر دیا۔ چند مہینوں کے علاج معالجے کے بعد شفقت چنگا بھلا ہو کر گھر لوٹ آیا۔جوانی کے آثار پھر سے نمایاں ہونے لگے تو غیرت بھی جاگنے لگی۔
"اماں اب تجھے کام کرنے کی ضرورت نہیں اب میں کما کر لاؤں گا۔” سکینہ بچپن سے ہی بچیوں کی شادی کے لیے جہیز جمع کرتی رہی اور دونوں بیٹیاں عزت سے اپنے گھروں کی ہو گئیں۔ شفقت بھی کام پر جانے لگا تو اب سکینہ بیٹے کے سر پر سہرا سجا دیکھنا چاہتی تھی۔
آج شفقت گلی کی نکڑ پر کھڑا تازہ ہوا کھا رہا تھا کہ سامنے سے ایک نو بیاہتا جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلا آرہا تھا۔ شفقت کی نظر جب اس جوڑے پر پڑی تو لڑکی کے ہونٹوں پر سے ہنسی پھُر سے اُڑ گئی اور شفقت سے نظریں چرانے لگی۔ جبکہ شفقت کے پاؤں زمین میں گڑ گئے شفقت کے اندر ایک جھماکے سے سب کچھ ٹوٹ گیا۔وہ وہیں بت بنا کھڑا رہ گیا اور گزرنے والے گزر گئے۔
گھر لوٹ کر اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا۔ اسے رہ رہ کر وہ وعدے قسمیں یاد آنے لگے جو شاہینہ نے اس سے کیے تھے۔ جب شفقت نے اسے انگوٹھی لا کر دی تھی تو کیسے اس نے کہا تھا
"شفقت جس دن میرے ہاتھ سے یہ انگوٹھی اترے گی اس دن میں اپنی انگلی ہی کاٹ ڈالوں گی۔۔۔۔۔۔ اب کسی اور کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ کیوں نہ کاٹ ڈالا” شفقت اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں لیے زاروقطار رو رہا تھا آج وہ اپنی ساری محبت آنسوں میں بہا دینا چاہتا تھا۔
"ایک نشئی سے اپنی بیٹی کون بیاہتا ہے پاگل ہو گئے ہو کیا ؟؟؟؟؟”
شفقت کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو آنکھوں کے کٹوروں میں ہی سہم گئے اس نے آواز کا تعاقب کیا۔۔۔۔۔۔ تلاش جلد ختم ہو گئی آواز اس کے ضمیر کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے اوراقِ ہستی سمیٹے اور اندر کی گٹھن دور کرنے کے لیے پھر سے اسی بدنامِ زمانہ آوارہ بدقماش لڑکوں کی محفل میں جا بیٹھا۔
"آ جا!!! لگا لے تو بھی دو کش۔۔۔۔۔۔” ایک لڑکے نے سگریٹ سلگا کر شفقت کے ہونٹوں کے قریب کرتے ہوئے کہا۔
"اب میں نشہ نہیں کرتا” یہ کہتے ہوئے شفقت نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا۔
"لگا لے یار دو گھونٹ۔۔۔۔۔ تیرے سارے غم غلط ہو جائیں گے۔ ” تھوڑی سی ذہنی کشمکش کے بعد شفقت نے شراب کی بوتل سے اپنے اندر کی آگ بجھانے کی کوشش کی۔ یوں شفقت نے پھر سے نشے میں راہِ فرار ڈھونڈ لی۔
::::::::::::::::::::::::::::
اگلے دن ہر جگہ شوروغوغا تھا چوہدریوں کی بھینس چوری ہو گئی تھی یہ بات ارد گرد کے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی چوہدری کے ڈیرے پر جو چور پکڑ کر لائے گئے ان میں شفقت بھی تھا۔
"چوہدری صاحب!!!! میرے بیٹے کا ان چوروں سے کوئی واسطہ نہیں آپ کو تو معلوم ہے اب یہ نشہ بھی نہیں کرتا اسے پولیس کے حوالے مت کریں۔”
سکینہ مسلسل چوہدری کی منت سماجت کر رہی تھی۔
"اچھا!!! سکینہ بہن میں اسے چھوڑ دیتا ہوں مگر۔۔۔۔۔۔ تو اس کی قسم دے کہ تیرا بیٹا نشہ نہیں کرتا اور بھینس کی چوری میں اس کا ہاتھ نہیں ہے۔ اگر تیری قسم جھوٹی ہوئی تو محشر میں میرا ہاتھ ہوگا اور تیرا گریبان۔”
یہ سنتے ہی سکینہ نے ایک نظر نشئیوں کی ٹولی پر ڈالی اور روتی دھوتی ڈیرے سے نکل گئی۔
چوہدری کی تفتیش سے فراغت پانے کے بعد شفقت تیز تیز قدموں سے ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا راستے میں جو بھی بات کرتا اسے ہاتھ جُھلا کر خدا حافظ کہتا جاتا۔۔۔جیسے گاؤں چھوڑ کر جا رہا ہو۔
ریل گاڑی اسٹیشن سے تھوڑا آگے جا کر رکی تھی جبکہ اپنے پیچھے کافی بھیڑ چھوڑ گئی تھی کیونکہ گاڑی کے نیچے آ کر ایک شخص کچلا گیا تھا۔ بتانے والے نے شفقت کے آخری الفاظ بتائے۔
” اسے جینے کا کوئی حق نہیں جس کی ماں بھی اس کا اعتبار نہ کرے۔”
کلثوم پارس




