غزل
غزل / اس لیے بھی تو سخاوت نہیں ہوتی مجھ سے / ذکی عاطف
غزل
اس لیے بھی تو سخاوت نہیں ہوتی مجھ سے
پوری خود اپنی ضرورت نہیں ہوتی مجھ سے
لے کے جاتی ہے مری تنگیِ داماں مجھ کو
یونہی سرزد کوئی ہجرت نہیں ہوتی مجھ سے
اس سے بڑھ کر نہیں کر سکتا میں دشت آرائی
اس سے بدتر مری حالت نہیں ہوتی مجھ سے
سالہا سال سے اک جیسا ہوں لیکن اب بھی
دور اس شخص کی حیرت نہیں ہوتی مجھ سے
بعض اوقات بنا لیتا ہوں اس کو معمول
بعض اوقات محبت نہیں ہوتی مجھ سے !




