افسانہ

خریدی ہوئی چیز کی کہانی / قرۃالعین شعیب

اس نے مجھے پیچھے کی طرف دھکیلا اور میں گرتے ساتھ ٹوٹ گئی۔ بمشکل اپنی کر چیاں سمیٹیں اور خود کو جوڑنا شروع کیا۔ بہت محنت سے ایک ایک ٹکڑا جوڑا اور پھر مکمل ہونے کے بعد  اپنی توانائیاں اکھٹی کیں۔ دل کو دھڑکنا سکھایا اور مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے لگی۔

چلتے چلتے اس نے پھر زور سے ہاتھ چھڑایا اور مجھے  پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔  اس بار پچھلی بار سے زیادہ ٹوٹی اور میرے ٹکڑے دور دور تک پھیل گئے۔ کئی دنوں کی مسلسل جدوجہد سے بالآخر میں کامیاب ہو گئی۔ اور میں نے خود کو مکمل جوڑ لیا۔۔۔

میں نے اپنے ٹکڑوں کی ترتیب یاد رکھنی شروع کر دی۔ کہ اب کی بار ٹوٹی تو کس ترتیب سے جوڑنا ہے۔ مکمل ہونے کے بعد دیکھا وہ تو چلتے چلتے بہت دور جا چکا ہے۔ میں دوڑتے ہانپتے مسکراتے اس کے ساتھ جا ملی۔ اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔

چلتے چلتے اچانک اسے پھر سے کیا ہوگیا۔ میں نے دیکھا اس بار اس نے مجھے پہلے سے زیادہ شدت سے دور پھینکا۔ میں اپنی ساری ترتیب بھول گئی۔ مہینوں سالوں لگ گئے میں وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔

اپنی کر چیاں سمیٹے ہاتھ زخمی کر بیٹھی۔ اب کی بار بہت وقت لگا۔  میں نے اپنے ٹکڑوں کو جوڑا۔ لیکن کچھ ترتیب یاد نہ رہی۔ اس بار وجود جڑ تو گیا لیکن بے ڈھنگا سا۔ کچھ ٹکڑے ملے۔ کچھ کھو گئے۔ میں آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چلنے لگی دو قدم پیچھے ۔ خاموش مکمل خاموش ۔۔۔۔ اس نے مڑ کر ایک بھی قدم میری مدد نہ کی۔ نہ ہی اس نے میرے کھوئے ہوئے کسی ٹکڑے کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بظاہر ہم ساتھ چل رہے تھے لیکن میں دو قدم پیچھے تھی۔

پیٹرن وہی تھا ۔۔۔ پھر سے ایک دھماکا ہوا ۔ جانتی ہو دھماکے میں کس طرح چیتھڑے ہو جاتے ہیں اور باقی ماندہ وجود جل جاتا ہے  ۔لاشیں پہچانی بھی نہیں جاتیں۔ ان کی شناخت  صرف ڈی این اے سے ہی معلوم کی  جا سکتی ہے۔

تو ایسا ہی ہوااس بار ۔۔۔۔  لیکن میں نے بھرپور کوشش جاری رکھی۔ ایک ایک چیتھڑے کو دیواروں سے فرش سے ہر جگہ سے اکھٹا کیا۔ اور وجود مکمل کر لیا۔

اب میں اس سے ہزار قدم پیچھے تھی۔ چل رہی تھی۔ لیکن میرے پاؤں دھماکے سے شدید زخمی تھے۔ اور شاید ایک پاؤں تو ملا بھی نہیں تھا۔

میں نے چلتے رہنے پر فوکس رکھا۔ کیا ملا کیا نہیں ملا ۔۔۔۔ یہ سب سوچنے کی فرصت نہیں تھی۔  ۔۔۔ میں ہزار قدموں کا فاصلہ ایک پاؤں سے جلد جلد طے کر کے اس کے ساتھ ملنا چاہتی تھی۔

لیکن یہ فاصلہ ایک ہزار ایک قدم سے ہوتا ہوا کئی ہزار قدموں تک پہنچ گیا۔ اور وہ میرے فوکس سے نکل گیا۔ جب وہ فوکس سے نکل گیا تو میری خود پر نظر پڑی ۔ میں خود کو مکمل دیکھنے سے قاصر تھی شاید وہ جاتے جاتے میری بینائی بھی ساتھ لے گیا۔

اس سارے عمل میں وہ چلتا رہا۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نہ ہی مجھے جوڑنے کی کوئی کوشش کی۔ اور میری ٹوٹ پھوٹ سے بے غرض وہ اپنی سمت میں چلتا جا رہا تھا۔

اب وہ بھی میرے فوکس میں نہیں رہا اور میرے پاس میرے وجود کے چند ایک ٹکڑے بچے ہیں۔  ان ٹکڑوں کی کوئی خاص مارکیٹ ویلیو نہیں رہی۔ اس نے مجھے مارکیٹ سے مکمل خریدا تھا۔  مکمل چیزیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں مکمل چیزیں جن میں فنکشن زیادہ ہو کم دام بکتی ہیں۔  اور کم قیمت چیزوں کے دام ذیادہ لگتے ہیں۔ یہ مختلف دنیا ہے۔

تمھارا اس دنیا میں ابھی تجربہ نیا ہے۔ لیکن یہاں ایسا ہی ہوتا پے۔ ایک سمت میں چلتے رہنا ہوتا ہے۔ سمت کا تعین آپ کے ہاتھ میں نہیں۔ سمت کا تعین خریدار کرتا ہے۔ خریدار مینٹیننس کا بھی ذمہ دار نہیں ہوتا۔ وہ صرف استعمال کرتا ہے۔

آپ نے بس اس کے ساتھ چلتے رہنے کی کوشش کرناہوتی ہے۔ خریدی ہوئی چیز ہو تو وہ تمھیں جیسے چاہے استعمال کر سکتے ہیں۔

بس تم نے کوشش کرتے رہنا ہے جب وہ تمھیں پیچھے کی طرف پھینکے تو مضبوط قدموں سے گرنے سے بچنے کی کوشش کرنا۔

اس سے یہ ہوگا کہ تم ٹوٹنے سے بچی رہو گی۔ وہ اپنی فطرت سے مجبور تمھیں پیچھے کی طرف ضرور پھینکے گا۔ بار بار پھینکے گا۔

وہ ہنسنے لگی ۔ ارے تم مکمل ہو میں تمھاری مدد کرتی ہوں۔ یہ دیکھو تمھارے دونوں قدم موجود ہیں۔ اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر میرے پاؤں کی طرف بڑھائے۔ مجھے محسوس نہیں ہوئے۔ اس نے روشنی کی۔ اور مجھے میرے پاؤں اچانک سے نظر آنے لگے۔ وہ روشنی کرتی گئی ایک کے بعد ایک دل ، آنکھیں ، چہرہ سب موجود تھا۔ لیکن ترتیب درست نہیں تھی۔ وہ کہتی کہ ترتیب درست ہے۔

لیکن وہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ترتیب درست نہیں تھی۔ میری ترتیب خراب تھی۔  یہ صرف میں دیکھ سکتی تھی۔۔۔

وہ پھر ہنسی کہنے لگی تمھارے ماڈل اب پرانے ہو چکے ہیں۔ اب ہماری بناوٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ پلاسٹک باڈی کی بجائے سٹیل باڈی ہے۔ وزن بھی  قیمت بھی زیادہ۔ اور استعمال کرنے والے بھی ڈر کے اور سنبھال کر رکھتے ہیں ۔ پھینکنے کی کوشش نہیں کرتے۔

میں حیرت سے اس کے چمکیلے نئے ماڈل کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

Author

Related Articles

Back to top button