اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / خیالِ عیش میں ہے خوشگواری کم بہت ہی کم / اسامہ امیر

غزل

 

خیالِ عیش میں ہے خوشگواری کم بہت ہی کم 

یہ دن باقی رہیں گے اور خماری کم بہت ہی کم 

 

زرا دیکھو کہیں یہ عشق کی لو کم نہ ہوجائے

ہوئی جاتی ہے دل کی بے قراری کم بہت ہی کم

 

سرِ محشر لہو روتی ہوئی آنکھیں نظر آئیں

کہاں ہم اور کہاں یہ ذمہ داری کم بہت ہی کم

 

کفِ احساس پہ کِھلتے ہیں، مر جاتے ہیں لمحوں میں 

تمہیں حاصل ہے فنِ دست کاری کم بہت ہی کم

 

تامل ہی برتنا ہے تو پھر پرہیز بہتر ہے 

کہ وقتِ شام ہے اور مے سے یاری کم بہت ہی کم

 

سِگ دنیا تری خاطر نہیں ہے کوہکن اور دشت

ترے دل میں ہے خوئے جانثاری کم بہت ہی کم

 

اب ایسا کون ہے جو چاک دامانی سمجھتا ہو

ٹھہرتی ہے یہاں بادِ بہاری کم بہت ہی کم

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button