نظم
آج موسم شاعرانہ سا لگا ہے / عمیس احمر
آج موسم شاعرانہ سا لگا ہے
زخم شاید اک پرانہ سا کھلا ہے
آج موسم شاعرانہ سا لگا ہے
منصفانہ تھا کبھی جن کا رویہ
آج مجھ کو ظالمانہ سا لگا ہے
چوٹ سہنے کی ہمیں عادت پڑی ہے
ہم کو ٹھوکر میں زمانہ سا لگا ہے
جس کو ہم نے خود سے زیادہ
اپنا مانا تھا کبھی
ہم کو وہ اب ہم سے بیگانہ سا لگا ہے
اُس بُتِ گُل رو کو کرتے ہوگے سارے پھول سجدے
ہوتی گر ہوگی
ہوا بھی دَستِ بَستہ
پر نجانے مجھ کو کیونکر
سب یہ اندازِ ظریفانہ سا لگا ہے
میرےچاروں سَمت تھے
انسان جیسے رنگ میں بھیگے ہوئے سَنگ
پر مجھے اک سَنگ آخر کیوں گُل رَعنا سا لگا ہے
زخم شائد اک پرانہ سا ِکھلا ہے
آج موسم شاعرانہ سا لگا ہے




