غزل
غزل / فکرِ نام و نسب نہیں ہوتی / علشبہ رزاق
غزل
فکرِ نام و نسب نہیں ہوتی
مجھ کو کوئی طلب نہیں ہوتی
جن علاقوں پہ اُس کا قبضہ ہے
ان علاقوں میں شب نہیں ہوتی
کوئی تو رنج ہے مجھے درپیش
آنکھ نم بے سبب نہیں ہوتی
رائیگاں ہونے کی پریشانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی
سرخ کپڑوں میں دیکھنا مجھ کو
ورنہ سندر میں کب نہیں ہوتی
جب وہ شانوں پہ ہاتھ رکھتا ہے
سانس لینی بھی تب نہیں ہوتی
Author
URL Copied




