غزل

غزل/کُھلا کہ گردشِ لیل و نہار کچھ بھی نہیں/محمد عمران تنہا

غزل 

محمد عمران تنہا

 

کُھلا  کہ گردشِ  لیل و نہار  کچھ بھی نہیں 

یہ جیت کچھ بھی نہیں ہے یہ ہار کچھ بھی نہیں 

 

میں اپنی جان پہ کھیلا تو اس طرف پہنچا

خبر نہیں تھی کہ دریا کے پار کچھ بھی نہیں 

 

بہار  دل  میں  نہیں  ہے  تو ہے  خزاں ہر سو

یہ پھول کچھ بھی نہیں ہیں یہ خار کچھ بھی نہیں 

 

جہاں  سماعتِ  حاکم  فقط  محل  تک ہو

کرے گی کیا وہاں چیخ و پکار، کچھ بھی نہیں 

 

مری  مجال  کہ شکوہ  زبان پر  لاؤں؟

نہیں نہیں مرے پروردگار کچھ بھی نہیں

 

ورق حیات کا سادہ رہا ازل سے ہی 

بنائے وقت نے نقش و نگار کچھ بھی نہیں 

 

بہت تلاش کیا ہے نہیں ملے تنہا

وفا ،خلوص، لگن، اعتبار ،کچھ بھی نہیں 

Author

Related Articles

Back to top button