افسانہ

کچرا کنڈی/روبینہ یوسف

کچراکنڈی / روبینہ یوسف
حبس، گھٹن، بے زاری میرے اندر ٹھہر سی گئی ہے۔ جی ہاں میرے اندر۔۔۔میں جو ایک طلاقن ہوں۔۔یہ ایک گلابی سردیوں کی شام ہے مگر میری زندگی الاؤ کی طرح دہک رہی ہے۔
اس محلے میں کرائے کا گھر لیے مجھے چند ہی دن ہوئے ہیں۔ کیڑوں کی طرح لوگ رینگتے رہتے ہیں۔ محنت کش مرد اور عورتیں صدیوں پرانی کسی بوسیدہ کتاب کے حروف کی طرح اپنا رنگ روپ کھو دینے والے، سانس لیتے مگر مردہ لوگ۔۔۔جانے کیا روگ ہے ان کو؟؟
میں بڑی حسرت سے ان کو دیکھتی ہوں، ہنستے بستے گھر، کھیلتے کودتے میلے کچیلے بچے جو شاید عید کے عید نہاتے ہیں یا برساتیں ان کی غلاظت کو دھوتی ہیں۔ سکون نام کو نہیں ہے اس جگہ۔۔۔مگر میرا خالی ویران دل سوکھی پگڈنڈی کی طرح انہیں دیکھ کر کھل اٹھتا ہے۔ بچوں کے دم سے رونق ہی رونق ہے۔ میاں بیوی کی چر چر میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مجھے گھر بیٹھے یہ آوازیں سکون دیتی ہیں۔ پھر جب آسمان کی کوکھ ننھے منے ستاروں سے بھر جاتی ہے، رات کا سیاہ حسن آنکھوں میں خمار بھر دیتا ہے، ہر کنکر، پتھر الف لیلوی داستان بن جاتا ہے تب گلی میں سناٹا ہو جاتا ہے اور میں بھی گھر کے کواڑوں کے ساتھ ساتھ اپنے ماضی کے دروازے وا کرتی اور دل کے در کھول دیتی ہوں۔ میرے حسین ترین بچے میرے آس پاس آکھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ گذارا ہوا پل پل۔۔۔ ان کے ساتھ کی گئی شرارتیں، سنڈریلا اور سنو وائٹ کی کہانیوں کے سحرکی طرح میرے من میں کوکتی ہیں۔میں اپنے آپ ہی ہنس پڑتی ہوں۔۔۔بچوں کی معصومانہ باتیں یاد کرتے ہوئے میں آنکھوں کے کونوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو نہیں جھٹکتی کہ وہ پانی کے قطرے ماضی کے چراغ ہیں۔ ہر روز کی طرح صبح گھروں سے ملے جلے شور کی آوازیں آتیں، چائے اور پراٹھوں کی مہک مجھے اپنے سابقہ گھر کے کچن میں لے جاتی ہے جہاں سب میرے ہاتھوں کے پراٹھوں، نمکین پوریوں کے دیوانے تھے۔ محلے کی مٹی بھی جاگ جاتی ہے اور میلہ سج جایاکرتا ہے، مردوں کی کراری آوازیں۔۔۔عورتوں کی گنگناتی آوازوں سے مل جاتی ہیں اور دن کی روشنی مختلف پیراہن بدلے جاتی ہے۔
میری زندگی میں ایک چیز اور بھی ہے اور وہ ہے "کچرا کنڈی”۔ میں اپنے گھر کی اکلوتی کھڑکی میں جب کھڑی ہوتی ہوں تو دور کچرا کنڈی نظر آتی ہے۔ جب صبح کی روشنی پختہ تر ہو جاتی ہے تو اس لمحے گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ میری تمام تر حسیں بیدار کر دیتی ہے۔میں کچرے کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھتی ہوں۔ مسلے ہوئے پھول، ٹوٹے ہوئے کپ، پھٹی پرانی دھجیاں، کانچ کے ٹکڑے، گلے سڑے پھل،پھٹے پرانے جوتے، گوبھی کے ڈھنٹھل، سبزیوں کے چھلکے، ٹافیوں کے ریپرز، زپ ٹوٹے پرس، رنگ برنگے پھل، گلا سڑا کھانا، آنکھیں نکلی گڑیا، دم کٹا بھالو، آسمان کی وسعتوں کو چیرنے والا اسپائڈر مین، کتابوں کے پھٹے اوراق، ڈھیروں کے ڈھیرمٹی، پلاسٹک کے برش، بالوں کے گچھے اور نہ جانے کیا کیا الا بلا۔
بہت سے کھلونوں میں مجھے اپنے بچوں کے کھلونوں کی مشابہت نظرآتی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ کاٹھ کباڑ، چاکلیٹس کے ریپزز میرے اپنے بچوں کے ہیں۔ ان سب پر میرے بچوں کے ہاتھوں، ہونٹوں اور قدموں کا لمس ہے۔ روزانہ یہی ہوتا ہے۔کچرا کنڈی کسی مہربان آغوش کی طرح شہر والوں کی غلاظتیں خود میں سمیٹ لیتی ہے۔ پرائے عیبوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ کچرا کسی بھی گھر کی غربت یا امارت کا چغل خور ہوتا ہے۔ یادوں کا مدفن اور دل سے اتر جانے والی عزیز از جان چیزوں کی چتا ہوتا ہے۔ کیا میں بھی ایسی ہی ہوں؟؟؟ میں جو کبھی شوہر کے دل کا سرور تھی، گھر والوں کے ساز میں موسیقیت کامظہر تھی۔ پھر میری کہانی نے ایک خوفناک موڑ لیا اور میں زندہ انسانوں کی کچرا کنڈی میں آ گری۔ دل میں بیسیوں بار سوچتی کہ کیا کبھی ایک پل کے لیے بھی مجھے یاد کیا جاتا ہو گا۔ میرے دل کا وجدان کہتا تھا کہ بچے مجھے کبھی بھول نہیں سکتے۔ میری چار کائناتیں میرے بغیر کسی طرح رہ رہی ہو ں گی؟؟ یہ سوچ میرے کرب کے پیمانوں کو چھلکا دیتی ہے۔
وہ بارش مجھے اچھی طرح یاد ہے جب طوفان کی تیزی کے بعد درختوں نے گھونسلوں کا بوجھ اتار پھینکا تھا۔ چڑیاکے ننھے منے بچے نیچے مردہ حالت میں پڑے تھے۔ چڑیا کی بے قراری دیکھی نہ جاتی تھی۔ اس وقت میرا منا مجھ سے لپٹ لپٹ کر رو رہا تھا۔ پرندوں کی موت پر بلک رہا تھا۔ میں اسے پیار کرتے کرتے زندگی کی حقیقت اور موت کا اٹل ہونا سمجھانے لگی۔ بڑا سمجھدار اور بچگانہ تدبر کا مالک ہے میرا منا۔ طلاق کے بعد اسے بتایا گیا ہو گا کہ تمہاری ماں ایک بری عورت تھی۔ گھر میں رہنے کے قابل نہ تھی۔ شادی کے بہت برس گذرنے کے بعد یہ "الہام” انہی مردوں کو ہوتا ہے جو اپنی بے وفائی کا عورت پر الزام لگا کر چھپاتے ہیں۔ منے نے یہ ضرور سوچا ہو گا کہ امی تو بہت اچھی ہیں، گھر سے نہ نکالی جاتیں تو اچھا تھا۔ اور بڑے بچے!! ہاں وہ بجا طور پر حالات کے منصف ہوتے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ مجھے انصاف ضرور ملے گا۔ میں روز حساب لگاتی کہ مجھے بچوں سے بچھڑے ہوئے کتنے دن گذر گئے؟؟ اب میرے پاس اور کام بھی کیا رہ گیا تھا؟؟
اگلے روز، دن چڑھے میری آنکھ کھلی، کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ سورج کی تیز کرنیں، بھوسی ٹکڑے والوں کی آوازیں، بے سرے بلبلاتے بچے، ان کو گھرکتی مائیں، مردوں کی پاٹ دار آوازیں، اب میں ان کی عادی ہو چکی ہوں۔منہ پر پانی کے چھپاکے مارے تو ذرا سکون محسوس ہوا۔ اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی میں باروچی خانہ میں چلی آئی۔ چائے کے ساتھ سیلن زدہ پاپے کھا کر مجھ میں توانائی آ گئی۔ کھڑکی کھول کر باہر جھانکا۔ سامنے کچرے والی گاڑی سے کچرا پھینکا جا رہا تھا اور یکدم میری آنکھوں کے سامنے دھنک لہرانے لگی۔ سات رنگوں پہ ایک رنگ "عنابی” نمایا ں ہو گیا۔ ساری کائنات اس رنگ میں نہا گئی۔ میری آنکھوں کے سامنے عنابی دوپٹہ لہرا رہا تھا۔ جو آدھا کچرے میں پھنسا ہو ا تھا اور آدھا ہوا کے دوش پر لہرا رہا تھا۔ وہ میراہی تھا۔ کناروں پر لگی کرن اب جا بجا ادھڑی ہوئی تھی۔ وجدان کی پکار اور دوپٹے پر میرے ہاتھوں کا لمس جیسے مجھے بلانے لگا، جب کبھی میں "سہاگن” تھی۔ میں بے اختیار دروازہ کھول کر بھاگی۔ قریب پہنچ کر میں نے دیکھا۔۔۔آہ۔۔۔وہ میرا ہی دوپٹہ تھا۔ قدرے بدرنگا، مسلا، ادھڑا اور مسکا ہوا۔۔۔۔تار تار دلخراش نوحوں کی بے آواز چیخوں سے لرز رہا تھا۔ چاروں کونے پھٹ چکے تھے۔ بیچ میں۔۔ہاں بیچ میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ لفظ آنکھیں بن گئے۔ مجھے بلانے لگے۔ وہ سوفیصد منے کی لکھائی تھی۔ وہی تو تھا جب میں گھر سے نکالی جاتی تو باپ کی ٹانگوں سے لپٹ کر فریاد کرتا تھا کہ امی کو مت نکالیں۔ ڈری، سہمی ناپختہ تحریر میں کچھ لکھا تھا۔ یقینا میرے لیے سندیس تھا۔ بے اختیار میرے قدم وہاں لپکنے لگے۔ ایک کپکپی سی تھی جو میرے وجود کو ڈھا رہی تھی، مگر میں لڑکھڑاتی چلتی رہی۔
اسی دم بڑی بے دردی سے جمعدار نے کچرے کو گاڑی سے نیچے دھکیلا اور میرا دوپٹہ ہوا کے دوش پر پھڑپھڑانے لگا۔میرے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ آس پاس کے لوگ ٹھٹھک گئے۔ ارے یہ طلاقن کو کیا ہوا؟؟ ترحم آمیز،متجسس اور کچھ مضحکہ اڑاتی نظریں میرے وجود کے آر پار ہونے لگیں۔ میرے منہ سے بے ربط الفاظ نکل کر فضا میں چکرانے لگے۔ میرا دوپٹہ۔۔۔مم۔۔۔میرا۔۔۔دو۔۔۔پٹہ۔۔۔مگر وہ میری پہنچ سے دور ہونے لگا۔ پل پل ہوا کے دوش پر اڑنے لگا۔ ایک ہیجان آمیز بے بسی نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ میں سرپٹ بھاگ رہی تھی۔ کچرا کنڈ ی کے ساتھ خالی پلاٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔میری ہڑبونگ سے کچھ بکریاں ہڑبڑا کر بھاگیں۔ ایک دو کتے بھونکنے لگے۔ گار ے سے بھری ٹرالی کو دھکیلتے مزدور نے حیرت اور دلچسپی سے مجھے دیکھا۔ کچھ بچے شور مچاتے تماشہ دیکھنے کے لیے میرے ساتھ ہو لیے۔ دوپٹہ میرے صبر کا امتحان لیتا مجھے ساتھ اڑائے جا رہا تھا۔ آخر ایک بڑے سے پیپل کے درخت کی شاخوں میں الجھ کر دوپٹہ رک گیا اور میری ساری توانائیاں میری آنکھوں میں سمٹ آئیں۔ درخت میری زندگی کے سال میرے قدموں تلے روندے جا رہے تھے۔ میرا کنوارہ پن، شادی شدہ زندگی اور پھر طلاق کا دھبہ۔۔۔ سب جیسے دوپٹے میں سمو گئے تھے۔ منے کے سندیس کے احساس نے میری تمام تر حسیات کو بیدار کر ڈالا تھا۔ میں بھول گئی تھی کہ میں ایک طلاقن ہوں۔۔بس اُس وقت میں صرف ایک ماں بن گئی تھی۔۔۔میں ترستی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔ ایک بچہ درخت پر چڑھنے لگا۔ میرے وجود میں کرنٹ دوڑ اٹھا۔ دیکھ۔۔۔دیکھو۔۔۔یہ۔۔مم۔۔۔۔میرا۔۔دو۔۔پٹہ۔۔۔ہے۔ مجھے دے۔۔۔دو۔۔۔گے۔۔۔نن۔۔۔نا۔۔۔میں ہذیانی انداز میں بولے چلی جا رہی تھی۔ قریب کھڑے بچوں کے غول سے دبی دبی ہنسی اور اشارے ہوئے۔۔بچے نے اوپر پہنچ کر فاتحانہ سیٹی بجائی۔ مجھ طلاقن کے جسم کاسارا خون جیسے سمٹ کر میرے چہرے میں آ گیا تھا۔ یہ۔۔۔دو۔۔۔مجھے۔۔۔پلیز۔۔۔میں مٹھیاں بھینچ کر چلائی۔ لڑکے نے شاخوں سے الجھے دوپٹے کو چھڑایا تو نازک ٹہنیوں کے ٹوٹنے کی آوازوں نے میرا جگر چیر دیا۔۔۔دیکھو۔۔۔اسے مت۔۔۔پھاڑنا۔۔۔مم۔۔۔میں۔۔۔تم۔۔۔۔کو۔۔بہت۔۔۔سس۔۔۔ساری چاکلیٹ دوں گی۔ ہاں بہت ساری۔ میں بلک رہی تھی۔۔۔لڑکے نے تمسخرانہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے دوپٹہ نیچے اچھال دیا۔۔۔میں نے جھپٹ کر اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ مجھے لگا جیسے پانچ برس کی جدائی کے بعد منا میری گود میں ہمکنے لگا۔ میں نے بے تابی سے اسے زمین پر بچھایا۔۔۔۔اور اس کی تاروں میں الجھی تحریرپڑھنے لگی۔۔۔۔۔ امی!آپ اداس مت ہونا۔۔۔جب ہم بڑے ہو جائیں گے۔۔تو آپ کے پاس آ جائیں گے۔ مجھے آپ کی سوجی کی ٹکیاں اور آلو کے پراٹھے بہت یاد آتے ہیں۔ میں روز آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں۔ بس اداس نہ ہونا۔۔۔رونا نہیں۔۔میرا انتظار کرنا۔۔۔ہم ضرور ملیں گے۔۔میں نے آپ کے کپڑوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔۔جب آپ بہت یاد آتی ہیں تو میں ان سے باتیں کرتا ہوں۔۔۔تحریر ختم ہو چکی تھی۔۔میرے اردگرد کی کائنات بقعہ نور بن گئی۔

Author

Related Articles

Back to top button