منقبت
تمہی ہو حق کی بقا اور امام، ابنِ علی / شاہد اویس شاہد

سلام بحضور حضرت امام حسین
شاہد اویس شاہد
قبول کیجئے میرا سلام، ابنِ علی
تمہی تو حق کے ہو اعلیٰ پيام ،ابنِ علی
وہ دشتِ کرب و بلا وہ پیاس کی شدت
بھلا سکے گی نہ ہرگز غلام، ابنِ علی
تمہارے دم سے ہے روشن یہ دین کی شمع
تمہی ہو حق کی بقا اور امام، ابنِ علی
وہ شام ہائے غریباں میں ہائے کیسے لکھوں
درد ہی درد تھی آقا وہ شام ،ابنِ علی
خواب كربل کے سفر کا اے کاش ہو منظور
جا کے قدموں میں پڑھوں یہ سلام ،ابنِ علی
کرم کی ایک نگاہ اور حال شاہد پہ
بلا لو در پہ یہ اپنا غلام ابن علی