خبریں

مارگلہ ہلز میں ہرن کا شکار کرنے والا سی ڈی اے کا ملازم ہے: پولیس/ اردو ورثہ


پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چند روز قبل مارگلہ ہلز میں ہرن کے شکار میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا ملازم ملوث ہے۔

یس ایچ کوہسار تھانہ میاں خرم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہرن کا شکار کرنے والا سی ڈی اے کا ملازم ہے اور وہ تاحال مفرور ہے۔ اس کی تلاش جاری ہے۔‘

چند روز قبل سوشل میڈیا پر مارگلہ ہلز میں ہرن کے شکار کی وڈیو وائرل ہوئی جس پر نوٹس لیتے ہوئے وائلڈ لائف بورڈ نے ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک نے بھی واقعے پر نوٹس لے رکھا ہے تاکہ ملوث افراد کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

جمعے کو یہ واقع پیش آیا جس کی ویڈیو میں ہرن کو ذبح کرتے اور کندھے پر لاد کر لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے ہفتے کو جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اسلام آباد وائلڈ لائف نے قانونی کارروائی کے لیے درخواست متعلقہ تھانے میں جمع کرا دی۔ درخواست میں اسلام آباد نیچر کنزرویشن اینڈ وائلڈ مینجمنٹ ایکٹ کی خلافِ ورزی کے تحت کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ دوسری جانب مارگلہ ہلز پہ ہرن شکار کرنے والے نامزد دو ملزمان زین عباسی اور شبیر عباسی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پیر کے روز اسلام آباد کی ضلعی عدالت سے رجوع کر لیا۔

عدالت نے 17 جولائی تک 20، 20 ہزار روپے کے مچلکوں کےعوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدنان رسول  نے آئندہ سماعت 17 جولائی تک ملتوی کرکے پولیس سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔

ترجمان وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ محمد بلال کے مطابق ’ایکٹ کے شیڈول ون کے تحت بارکنگ ڈیئر تحفظ شدہ جانور ہے۔ نیچر ایکٹ 2024 کے سیکشن 12.4(a) اور 16.1 (a) کے تحت کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ قانون کے تحت متعلقہ سیکشن کی خلافِ ورزی کی صورت میں 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ایک سال کی قید بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

ایکٹ کے سیکشن 23 کے تحت اگر کوئی جانور مردہ حالت میں بھی ہے تو وہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ درخواست بشیر عباسی، زین عباسی اور نامعلوم افراد کے خلاف درج کروائی گئی ہے۔‘

جنوری 2023 میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت بھی اسلام آباد وائلڈ لائف پارک رینجرز کی مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے قریب شکاریوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔

نیشنل پارک کی مشرقی سرحد پر آٹھ شکاری جنگلی ہرن اور جنگلی مرغے کے شکار کی غرض سے آئے۔ دو شکاریوں کو گرفتار کرلیا گیا غیر قانونی طور پر رائفلز رکھنے پر ایک لاکھ 20 ہزار جرمانہ عائد کیا تھا۔

مارگلہ ہلز میں کس نسل کے جانور رہتے ہیں؟

وائلڈ لائف بورڈ کے ترجمان کے مطابق اس وقت مارگلہ نیشنل پارک گولڈن ہرن، تیندوے، ایشائی لیپرڈ، گیدڑ، وائلڈ بور، بندر، لومڑی , بلیک کیٹ اور پینگولین جیسے جانور موجود ہیں۔ جبکہ 32 اقسام کے رینگنے والے جانور موجود ہیں جن میں سانپوں اور چھپکلیوں کی کئی اقسام ہیں۔ خشکی و پانی میں رہنے والے جاموروں کی نو اقسام بھی مارگلہ ہلز میں موجود ہیں۔ جنگلی مرغ سمیت 350 مختلف نسل کے پرندے بھی مارگلہ نیشنل پارک کو اپنا ٹھکانہ بنائے ہوئے ہیں۔

مارگلہ ہل نیشنل پارک پاکستان کا تیسرا بار نیشنل پارک ہے۔ یہاں جانوروں کی نایاب نسلیں پائی جاتی ہیں جن کے تخفظ کی ذمہ داری اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی ہے۔

اسی مقصد کے لیے اسلام آباد کی ٹریلز پر مختلف مقامات پر خصوصی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں کی حرکات و واقعار کو نظر میں رکھا جا سکے۔

ٹریل چھے کو تیندوے کا گڑھ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ تیندوے کے زیادہ تر نشانات وہاں پائے گئے جس کے بعد وہاں ہائیکنگ پر پابندی ہے اور ٹریل چھ کو لیپرڈ زون بنا دیا گیا ہے۔

حال ہی میں وہاں موجود کیمروں میں ہائکنگ کرنے والے افراد نظر آئے تو وائلڈ لائف بورڈ کی جانب سے انہیں شناخت کر کے تنبیہ بھی کی گئی کہ آئندہ اس زون میں پائے گئے تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Author

Related Articles

Back to top button