منتخب کالم

10 مئی کے بعد بھارت دہشت گردی پر عمل پیرا/ محمد اکرم چوہدری



10 مئی کی ناکامی اور شرمناک شکست کے بعد بھارت فوجی میدان سے راہ فرار اختیار کرنے کے بعد دہشت گردی اور 1971 کی مکتی باہنی طرز پر اندرونی خلفشار پیدا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو گیا ہے اور اس کے لیے بلوچستان اور کے پی کے میں کارروائیوں میں ایک دم سے اضافہ ہوا ہے حملوں کا ٹارگٹ سیکیورٹی فورسزہیں میرے لیے جو لمحہ فکریہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے ہی لوگوں میں شامل ہو کے رہ رہے ہیں اور ان سازشوں کے زریعے عوام کو گمراہ کرنے اور دشمنوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں آرمی چیف کے ہارڈ اسٹیٹ کے بیان کو من عن نافذہونا چاہیے اور ملک دشمنوں اور ان کو پناہ دینے، مدد کرنے اورانکے سامنے خاموش رہنے والوں کو بھی اس ہی طرح ڈیل کرنے کی ضرورت ہے ملک میں دہشت گردوں کو کسی صورت موقع نہیں ملنا چاہیے 
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کو دو روز گزرنے کے بعد بھی حالات کشیدہ ہیںپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان اس حملے کا ذمہ دار انڈین سپانرڈ‘ شدت پسندوں کو سمجھتا ہے جو فوجی ناکامی کے بعد اور اطلاعات اور واقعات کے مطابق بھارتی ایجنسز براہ راست شامل ہیں کیونکہ پوری بھارتی حکومت منصوبہ سازی کے زریعے دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتی ہے جو اب امریکہ، کینڈا اور برطانیہ کے بھی شدید تحفظات ہیں۔
میر علی میں خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم حافظ گل بہادر نیٹ ورک سے منسلک اسود الحرب نامی تنظیم نے قبول کی تھی یہ پراکسی ان ہی قوتوں کی ہیں جو بھارت سے ضمیر فروشی کی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد غلام خان کے مقام پر پاک افغان سرحد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے جس کے بعد اس سرحد سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش تو کر رہے ہیں انہیں مقامی افراد کا تعاون درکارہے جو اس طرح کی دہشت گردی روکنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان ایک مرتبہ پھر آپریشن ضرب عضب اور راہ نجات کے ہنگامہ خیز دور کی طرف تیزی سے واپس جا رہے ہیں‘کیونکہ دشمن مقامی آبادی کو استعمال کرنے اور ان کے اندر چھپ کے وارداتیں کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز ’شاید ایک اور ملٹری آپریشن کی تیاری کریں گے جو ملک کی بقا اور مقامی امن کے لیے لازم ہے شدت پسند کے پیچھے بھارتی حکومت کی ایجسیز برسر پیکار ہیں کہ ’شدت پسند اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکیں عوام میں بے چینی اور خوف کی فضا پیدا کر سکیں اس طرح کی سازشوں کو مقامی آبادی کے تعاون کیساتھ ہی ختم کیا جا سکتاہے۔
آپریشن ضرب عضب اور آپریشن راہ نجات کے ذریعے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا لیکن اب ایک مرتبہ پھر ان شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے بنا لیے ہیں اور مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیںاس لیے ان کے خاتمے کے لیے اور فتنہ خوارج ہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ف





Source link

Author

Related Articles

Back to top button