منتخب کالم

  بڑی عید اور بڑی خوشی ایک ساتھ/ زبیر بسرا



مسلم عہد حکمرانی میں بھارت نے صنعت و حرفت میں بہت ترقی کی تہذیب و تمدن تبدیل ہوا تو ہم پرستی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوا۔ مرنےوالے کی بیوی کو زندہ جلا دینا بچوں کو دیوی دیوتاﺅں کی بھینٹ چڑھانا ختم ہو گیا۔ علم عام ہوا جہالت بڑی حد تک ختم ہو گئی لیکن بغض حسد اور شر ابھی باقی ہے۔

جانوروں کو اوتار سمجھنا ان کی پوجا کرنا گائے کو ماں کہنا سانپ اور بندر کو دیوتا سمجھنا بندے ماترم جیسی جہالت جب تک باقی ہے۔ملک میں تمام اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ بدھ مت امن و سلامتی اور برداشت کا مذہب ہے۔ ہندو مت کے شر کی وجہ سے ختم ہو گیا۔ اب مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے درپے ہیں۔ جب تک کانگرس کی حکومت رہی مسلمان محفوظ تھے اس کے رہنماءلبرل تھے۔ گجرات کے قصاب نے جب سے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے سارے ہندوستان میں آتش و آہن کا کھیل جاری ہے۔ نریندر مودی سے پہلے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی حکمران تھی، اٹل بہاری واجپائی امن پسند اور سلجھے ہوئے شخص تھے۔ کارگل کی جنگ بندی کےلئے خود پاکستان آئے تھے۔ ہندو ﺅاتا کا آغاز گجرات سے ہوا اور سارا ہندوستان میں پھیل گیا۔ مودی اس وقت وزیراعلیٰ تھا۔ بابری مسجد گرانے والوں کی قیادت ایل کے ایڈوانی نے کی تھی،جو بھارت کے وزیرداخلہ رہے جب ماچس بندر کے ہاتھ آئے گی تو جنگل کی خیر نہیں۔اب مودی سارے ملک کی مساجد گرانے کے در پے ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر گائے ذبح کی جاتی ہے۔ یہ سنت ابراہیمی ہے ہر سال ادا کی جاتی ہے۔

ہندو گائے کو ماتا کہتے ہیں اس کا پیشاب پیتے ہیں گوبر گھروں میں لیپ کرتے ہیں۔ماں کی تکریم ان کے نزدیک یہ ہے تو اپنی ماﺅں کا موت کیوں نہیں پیتے نہ ہی اس کا فضلہ پوتر جانتے ہیں۔ دودھ تو بھینس بکری اونٹنی کا بھی پیتے انہیں ماں کیوں نہیں کہتے اور بیل کو باپ کیوں نہیں کہتے۔ بقول شاعر

اوہدا موتر تسی پیندے او ہدا گویہ تہانوں گھیو لگدا 

جے گاں تہاڈی ماتا اے فیر ویہڑا تہاڈا پیو لگدا

بھارت میں تو نریندر مودی گاﺅ ہتیا کے بہانے فساد کرا سکتا ہے، جبکہ عیدالاضحی پر ساری دنیا میں گائے ذبح کی جاتی ہے۔ وہاں بھارت کے وزیراعظم المعروف موذی کیا کر لیں گے یعنی مودی کی ماں (گائے) کب تک خیر منائے گی۔ عید متعصب بی جے پی کے لئے نیک شگون ہو سکتی ہے عوام گاﺅ ہتیا رکوانے اور اس کا ماتم کرنے میں مصروف ہوں گے۔ مودی کے خلاف جو شور برپا ہے۔ اس میں کمی ہو گی۔ اب مودی کی حالت یہ ہے 

خدارا فرانس سے کہنا ہمارا دکھ سانجھا ہے

تمہیں رافیل کا غم ہے مجھے تذلیل کا صدمہ

بڑی عید کے ساتھ بڑی خوشی اللہ تعالی کی رحمت سے میسر آئی حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ آفرین ہے افواج پاکستان کے شاہینوں جانبازوں پر جن کے جذبہ اور جوانمردی کا ڈنکا سارے عالم میں بج رہا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشت اور طاقت کہلانے والا بھارت منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ صرف چند روز میں دشمن کے سندور کو تندور میں بدل دیا۔ شکست خوفزدہ دشمن ابھی تک زخم چاٹ رہا ہے۔ جن لوگوں نے 1971ءکی جنگ کا صدمہ جھیلا ہے وہ آج سینہ تان کر چل رہے۔ آج وہی طوق بھارت کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔ یہ مکافات عمل ہے۔ دشمن کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں اکھنڈ بھارت اب کھیر کھنڈ ہوتا نظر آرہا ہے۔ کشمیر تو آزاد ہونا ہی ہے۔ جلد ہی خالصتان بنے گا۔ منی پور آسام ہماچل پردیش میزورام ناگالینڈ جھاڑ کھنڈ ہاتھ سے جا رہے ہیں۔ فیس بک پر ایک عرب دانشور کی پوسٹ دیکھی۔ اس نے لکھا تھا جب سے پیدا ہوا ہوں مسلمانوں پر گولیاں برستی اور بم گرتے دیکھے ہیں چیخ و پکار ہی سنی ہے پہلی مرتبہ کفار پر بمباری دیکھ کر چیخ و پکار سن کر ایمان تازہ ہو گیا ہے اسلام کی نشاط ثانیہ کی امید نظر آرہی ہے۔ قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خاں مرحوم کی ممنون ہے سپہ سالار حافظ عاصم منیر کو گولڈ میڈل دیا جانا۔ ان کی جنگی مہارت اور جرائت کا اعتراف ہے۔ فوج کا ہرافسر اور جوان فضائیہ کے ایر چیف اور شاہین ستمبر 1965ءکی جنگ کا منظر پیش کر رہے تھے پاکستان نیوی سے بھی دشمن خائف ہے۔ میاں نواز شریف کی رہنمائی میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی حکمت عملی بھی بہترین تھی۔ مودی سیاسی محاذ پر بھی بری طرح ناکام ہوا۔ 

عوام کا جذبہ قابل دید تھا لوگ جنگ کو کھیل سمجھ کر محظوظ ہو رہے تھے ڈر خوف کہیں نظر نہیں آیا سوشل میڈیا پر دشمن کا ابھی تک مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت ابھی تک خوفزدہ ہے اس کے ٹی وی چینلز پر تبصرے تجزیئے کرنے والے فوجی افسر سیاستدان اور اینکر یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ بھارت کو شکست ہوئی عوام خوفزدہ ہیں، جبکہ پاکستان میں لوگ بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ یہ معیشت ایزدی ہے۔

تکبیر عزازیل را خوار کرد 

یا زندان لعنت گرفتار کرد 

٭٭٭٭٭





Source link

Author

Related Articles

Back to top button