منتخب کالم

آہ بلال قریشی  اللہ دے حوالے/ سید راشیدعلی فرخ



بلال قریشی راجن پور کی صحافت کا ایک معتبر نام تھا جو 24 جون 2025ء اس جہان فانی سے کوچ کرگئے صحافتی برادری کو یقین ہی نہ آیا کہ ایک ہنستا مسکراتا خوبصورت چہرہ راجن پور شہر کو بالخصوص نوائے وقت سٹاف سمیت ان سے محبت کرنے والے ہر مکتبہ فکر کے افراد کو روتا چھوڑ کر اس طرح رخصت ہوجائے گا راجن پور کی سرزمین پر پیدا ہونیوالا یہ نوجوان قریشی فیملی سے تعلق رکھتا تھا گزشتہ صبح جب میں آفس پہنچا تو گروپ میں ہمارے دوست ملک زمان نے بلال قریشی کی تصویر کے ساتھ اطلاع دی بلال قریشی خبرنگار راجن پور انتقال کرگئے خبر سن کر سکتہ طاری ہوگیا اور یقین نہ آیا کہ بلال قریشی بھی ہمیں چھوڑ گیا خبر ملنے سے اب تک اپنے آفس میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ کچھ سال پہلے نوائے وقت ملتان کی سیڑھیاں چڑھ کر ایک خوبصورت نوجوان میرے پاس آیا اور کہا راشد صاحب میں راجن پور سٹی سے آیا ہوں مجھے نوائے وقت میں نمائندگی چاہیے مجھے نوائے وقت سے محبت ہے اور میرے گھر میں بھی آج تک نوائے وقت آرہا ہے میں پہلے بھی اخبارات میں کام کررہا ہوں لیکن میری بڑی خواہش ہے کہ میں نوائے وقت کی ٹیم کا حصہ بن جاؤں میں نے ان کو اس وقت کے ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر الطاف صاحب سے ملوایا انہوں نے ملاقات کے بعد مجھے کہا کہ بہت اچھا کام کرنے والا لڑکا ہے اور ان کی بطور خبر نگار راجن پور تعیناتی ہوگئی راجن پور جب بھی جانا ہوتا بلال قریشی سے ملاقات ہوتی اور بہت محبت دیتا اور کافی دیر بلال قریشی اور ان کے چھوٹے بھائی سینئرصحافی ندیم قریشی جو اس وقت نوائے وقت ملتان راجن پورکے نمائندے ہیں سے خوب گپ شپ ہوتی تقریبا تین سال پہلے ندیم قریشی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بلال بھائی کی طبیعت خراب ہے انہیں کینسر ہوگیا ہے ان کی مینار سے کیمو تھراپی ہو رہی ہے دعاکریں اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو صحت عطا  فرمائیںدعائیں کرتے رہے علاج ہوتا رہا بلال قریشی کو اس بیماری میں بھی جب بھی فون کیا تو ان کی اسی طرح خوبصورت آواز تھی طبیعت کا پوچھتا تو ہمیشہ ایک ہی لفظ منہ سے نکلتا راشد بھائی الحمد للہ ٹھیک ہوں دعا کیا کریں آخری سانس تک بھی کوئی شخص بات کرتے ہوئے  یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہ نوجوان بیمار ہے بلکہ اتنے بڑے مرض سے مقابلہ کررہا ہے اس وقت میں جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں میرا قلم میرا ساتھ نہیں دے رہا آنکھیں نم ہیں بلال قریشی کو مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں لیکن قدرت کا نظام ہے جو اس دنیا میں آیا ہے وہ واپس بھی ایک دن ضرور جا ئے گااس بیماری کے دوران بلال قریشی سے رابطہ رہتا تھا کینسر جیسے موذی مرض سے بلال قریشی نے تقریبا تین سال مقابلہ کیا وہ ملتان آتے اور مینار ملتان میں کیمو تھراپی کرواتے اور واپس راجن پور چلے جاتے اس موذی مرض سے بلال قریشی نے بڑی ہمت سے مقابلہ کیا بالآخر موت کا ایک دن مقرر ہے  بلال قریشی ہم سب کو روتا ہوا چھوڑ گیا راجن پور جانا ہوگا لیکن بلال قریشی نہیں ہوگا اس کی یاد بہت آئے گی یہ نوجوان 49 سال کی عمر میں اللہ کے حضور پیش ہوگیا بلال قریشی نے پسماندگان میں 2 بیٹے 3 بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑے ہیں اللہ تعالیٰ بلال قریشی کی مغفرت فرمائے اور اس کی قبر کی منزلیں آسان فرمائے آمین

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی 
اک شخص سارے شہر کو ویراں کرگیا





Source link

Author

Related Articles

Back to top button