منتخب کالم

پنجاب ایک نئے سفر کی طرف گامزن / سعد اختر



تعلیم وہ روشنی ہے جو انسان کو تاریکی سے نکال کر علم و شعور کی دنیا میں لے جاتی ہے- یہ کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے- تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ بھی ترقی نہیں کر سکتا- اس لیے تعلیم کو انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے- یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے- اسے اپنے حقوق اور فرائض کا احساس دلاتی ہے- تعلیم کی بدولت ہی انسان اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے- اس میں بہتری لا سکتا ہے- تعلیم انسان کو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے اور معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے- مانا جاتا ہے تعلیم ہی ہے جو کسی قوم کی ترقی کی بنیاد بنتی ہے-
ریاست کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے- جن حکمرانوں کاعوام سے تعلق قائم رہتا ہے اور جو شبانہ روز محنت سے ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں- وہ اس عظیم اور پرخلوص کوشش پر عوام کے ساتھ اپنا دائمی اور پائیدار رشتہ قائم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں- ریاستی اور معاشرتی امور بھی یوں بہتر انداز سے چلنے لگتے ہیں- پاکستان چار اکائیوں کا ملک ہے جس میں پنجاب کو اس لیے فوقیت حاصل ہے کہ سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جس میں قریباً 13 کروڑ لوگ اقامت رکھتے ہیں- صوبے کے 41 اضلاع اور 122 تحصیلیں ہیں- جن کا نظم و نسق چلانا کوئی آسان کام نہیں- عرصہ دراز سے یہاں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں- لیکن وزیراعلیٰ مریم نواز ان مسائل کو حل کرنے میں جس طرح مصروف عمل ہیں- اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی-
ایک بڑے صوبے میں بہت سارے گھمبیر مسائل کے ساتھ نبرد آزما ہونا بحیثیت وزیراعلیٰ واقعی بہت مشکل تھا- لیکن اس مشکل کام سے مریم اب تک کامیاب اور سرخرو ہوتی دکھائی دی ہیں- جس پر صوبے کے عوام مریم سے خوش بھی ہیں اور بہت زیادہ مطمئن بھی- خصوصاً نوجوانوں کے لیے انھوں نے جو ترجیحات مقرر کی ہیں- نوجوانوں کی طرف سے انھیں تحسین کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے- شکر ہے مسائل اور معاشی ابتلاء کے اس دور میں نوجوانوں کو امید کی کوئی کرن تو نظر آئی- نوجوان خصوصاً طالب علم اپنے مستقبل کو آج محفوظ ہوتا دیکھ رہے ہیں-
مریم نواز کی اگرچہ پنجاب میں اور بھی بہت سی ترجیحات ہیں- لیکن انھوں نے ان ‘‘ترجیحات’’ میں صحت اور تعلیم کو سرفہرست رکھا ہوا ہے- تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جا رہی ہے- طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم اور ہونہار سکالر شپ پروگرام کے تحت اب تک کئی اضلاع اس سے مستفید ہو چکے ہیں- جبکہ لیپ ٹاپ کی تقسیم اور ہونہار سکالر شپ پروگرام میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے- پنجاب میں ڈیرہ غازی خان ایک پسماندہ ڈویژن ہے- اس ڈویڑن میں ڈیرہ غازی خان کے علاوہ لیہ اور مظفر گڑھ جیسے اضلاع شامل ہیں- جہاں ریاست کی جانب سے بہت زیادہ محنت اور توجہ کی ضرورت ہے- تاہم پنجاب حکومت یہ اچھا کام کر رہی ہے اور پسماندہ علاقوں پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں-
تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ڈی جی خان بہت قدیم شہر ہے جس کی بنیاد 1474ء میں رکھی گئی جبکہ اس جگہ نئے شہر کا قیام 1910ء  میں عمل میں آیا – یہاں کی آبادی 50 لاکھ کے قریب ہے- یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سابقہ دورِ حکومتوں میں کسی نے بھی اس ڈویڑن کی طرف توجہ نہیں دی جس سے یہاں کے مسائل بڑھے- ضلع کی اکثریت احساس محرومی کا شکار ہے- تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے بہت سے ترقیاتی اور فلاحی پروجیکٹ شروع کر رکھے ہیں- جن میں طلبہ میں لیپ ٹاپ کی تقسیم اور ہونہار سکالر شپ پروگرام بھی شامل ہیں-
اس پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے طلبا و طالبات میں 1645 لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا رہے ہیں جبکہ سکالر شپ فیز ٹو کے تحت اس ڈویژن کے 1696 طلبا و طالبات کو سکالر شپ کی مد میں ایک کروڑ 93 لاکھ رپے دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے- یہ دونوں ایسے پروگرام ہیں جس سے ڈیرہ غازی خان کے طلبہ میں اطمینان اور خوشی کی لہر پائی جاتی ہے- طلبہ کے والدین بھی حکومت پنجاب کے اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں اور مریم نواز کے شکر گزار نظر آتے ہیں-
ایک سال کے دورانیے میں مریم نواز نے پنجاب میں جو کچھ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے- پنجاب کے باسی مریم نواز کی طرزِ حکرانی سے بہت زیادہ خوش اور مطمئن ہیں- جس انداز اوررفتار سے مریم کام کر رہی ہیں اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کو بدل دیں گی جبکہ بدلا ہوا پنجاب ایک ترقی کرتے خوشحال پاکستان کا چہرہ ہو گا-





Source link

Author

Related Articles

Back to top button