پاک امریکہ تعلقات تاریخ کی نئی بلندیوں پر/ جاوید اقبال

اسرائیل ایران جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ، تیزی سے بد لتے ہوئے عالمی منظر نا مے میں فیلڈ مارشل عا صم منیر کی امریکی صدر ٹر مپ سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات مشر ق وسطی کی کشیدہ صورتحا ل میں پرامن سفارتی حل کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو پوری دنیا پر واضح کیا ہے ۔ پاک بھا ر ت کشیدگی اور حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں پا ک امریکہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں ۔ امریکی صدر بارہا پاکستان کے ذمہ دارانہ اور مثبت کردار کی تعریف کر چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کی جنگ میں ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عا صم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مشرق وسطی کی صور تحال کے علاوہ تجارت، معیشت، مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی، انسدادِ دہشت گردی جیسے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ وسیع ایجنڈا اس بات کی نشاند ہی کرتا ہے کہ پاکستان اب جغرافیائی سیاست کے بجائے جغرافیا ئی معیشت کو ترجیح دے رہا ہے۔ یعنی امداد کی بجا ئے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس تاریخی ملاقات نے نہ صرف پاکستان کے خطے میں اہم کردار کی توثیق ہے بلکہ اس بات پر بھی مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ پاکستان امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی طاقت کے بلاک یا مقابلے کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے باہمی عزت اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی پرامن تعلقات چاہتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان تجارت، توانائی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ اقتصادی تعاون چاہتا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص مسلم دنیا میں امریکہ کی ساکھ بہتر بنانے کے تناظر میں …امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مسلسل بڑھتی ہوئی برآمدی منڈی ہے، جو پاکستانی مصنوعات پر امریکی اعتماد کا ثبوت ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی محصولات سے متعلق تشویش باہمی مشاورت سے حل کی جا سکتی ہے تاکہ دونوں ممالک اس شراکت داری سے مستقبل میں بھی فائدہ اٹھاتے رہیں۔ پاکستان امریکہ کے عالمی مالیاتی اداروں میں اثرورسوخ کی قدر کرتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کسی تیسرے ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو امریکہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھتا اور نہ ہی وہ کسی طاقت کے اتحاد کا حصہ بننے کا خواہاں ہے جو امریکہ کے مفادات کے خلاف ہو۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اسے چین، بھارت یا افغانستان کے تناظر میں نہ دیکھے بلکہ ایک خودمختار اور اہم مسلم ملک کے طور پر دیکھے، جو ایک بڑی منڈی، جغرافیائی مرکزیت، اور وسائل سے مالامال ہے۔ پاکستانی مؤقف واضح ہے کہ ہم بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہیں اور بھارت اس خطے میں اپنی بالادستی کے عزائم رکھتا ہے۔ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستان صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی خواہش کا خیرمقدم کرتا ہے – نریندر مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے اج جنوبی ایشیا ایٹمی تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ سڈنی انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس 2025 کی جاری کردہ رپورٹ میں بھارت کو علاقائی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے جو پاکستان کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت اس علاقے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجیو ں کی تعیناتی نے مقبو ضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون بنا دیا ہے ۔ نریندر مودی کشمیر یوں کے سیاسی مذہبی اور انسانی حقوق سلب کر رہا ہے اس تمام صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری بالخصوص امر یکہ پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے اور بھارت کبھی بھی دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے کشمیر کو حل نہیں کرے گا !!




