منتخب کالم
پی ٹی آئی ارکان نے بانی کو موبائل دینے کا مطالبہ کر دیا/ وقار عباسی

جمعہ کے روز ایوان زیریں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے بجٹ پر جاری بحث کے دوران حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ تاثر عام ہے کہ حکومت ایران کیخلاف کارروائی کے لیے امریکہ کو اپنے ایئر بیس اور سمندری حدود تک رسائی دینے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت اور دفترخارجہ اس حوالے سے اپنا واضح موقف دے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں موبائل فون مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا کہ وہ ٹویٹ کے ذریعے اپنا موقف دیں گے۔ اراکین نے سپیکر سے ان معاملات پر بولنے کے لیے اضافی وقت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ سپیکر نے انہیں بتایاکہ بجٹ بحث پر آپ کا وقت 8گھنٹے 7منٹ اور 16سکینڈ تھا۔ آپ نے 15گھنٹے 45منٹ کی تقاریر کیں۔ اب آپ کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں، دینے کوصرف کلیجہ ہی رہ گیا ہے۔ وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کا اسرائیلی جارحیت کے حوالے موقف بڑا واضح ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ایئر بیسز اور سمندری حدود کی باتیں درست نہیں۔ عمران خان کو ٹویٹ کے لیے موبائل فون دینے کی بجائے اپوزیشن لیڈر ہی ان کا موقف فلور آف دی ہاؤس دے دیں۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کم وقت ملنے کا شکوہ کیا۔ شیر افضل نے بھی ان کی حمایت کی۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان کی جانب سے ججز کے بارے میں نازیبا الفاظ کو کارروائی سے حذف کر دیا جو خوش آئند ہے۔ ایوان کی کارروائی ابھی جاری تھی کہ سپیکر نے اجلاس پیر تک ملتوی کردیا۔




