منتخب کالم

   ویل ڈن!/ ڈاکٹر جاوید ملک



 برین ٹیومر خاموش مگر تباہ کن بیماری ہے۔برین ٹیومر کی بروقت تشخیص اور علاج محفوظ زندگی کی ضمانت ہے-خاموش بیماریوں کے خلاف عوامی شعور و آگاہی کی بیداری ہی اصل طاقت ہیں -نواز شریف کینسر ہسپتال ٹیومر کے مریضوں کے لئے امید بنے گا-

وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا برین ٹیومر ڈے پر پیغام پڑھ کر مجھے ابا جی حضور کے دماغ کا عارضہ یاد آ گیا۔

 میرے والد محترم کوسن 2019 میں برین ٹیومر ہو گیا تھا۔ابا جان کی بائیں ٹانگ اور بازو میں فالج کیطرح کمزوری، زبان میں لکنت آ گئی تھی، حافظہ بھی متاثر ہو گیا تھا، صحیح طریقے سے بول نہیں سکتے تھے۔ابا جی کو فوری ملک کے مایہ ناز نیوروسرجن پروفیسر انجم حبیب وہرہ کو چیک کرایا، بعدازاں پروفیسر صاحب نے کمال شفقت فرماتے ہوئے ظفر علی روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال میں کامیاب سرجری کی۔تین دن بعد ابا جی اسپتال سے ڈسچارج ہو گئے۔

برین ٹیومر کے علاج میں اگلا مرحلہ ریڈیوتھراپی یعنی شعائیں لگانے کا تھا۔خاکسار انمول اسپتال کی چیف انکالوجسٹ ڈاکٹر مصباح کا تعاون کبھی نہیں بھول سکتا۔آپ نے شعاؤں کا وقت لینے کا کہا۔وقت مقررہ پر ایک ماہ شعاؤں کے لئے ابا جی کو لے کر صبح سویرے انمول اسپتال چلا جاتا تھا۔اس مرحلہ کو عبور کرنے کے بعد کیموتھراپی ہوناتھی۔

شکر ہے۔برین ٹیومر کی جو قسم بائیوپسی کی رپورٹ میں آئی تھی۔اس کے لئے ہر ماہ روزانہ 1 کیپسول 5 دن کے لئے کھانا ہوتا تھا۔یہ علاج 6 ماہ پر محیط تھا۔

آج سے 5 سال پہلے ایک کیپسول کی قیمت 5000 روپے تھی۔کہنے کا مقصد یہ ہے۔عام آدمی کے لئے کینسر کے علاج کا سفر بڑا مہنگا اور لمبا ہوتا ہے۔خدا خدا کر کے کسی کو تو لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ کینسر اسپتال کھولنے کا خیال آیا۔

اس پر وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کو داد دینا تو بنتا ہے۔

مخالفین جتنی مرضی باتیں بنائیں۔سپر سی ایم نے اپنی سپر ٹیم کے ہمراہ پنجاب کو تمام صوبوں کی فہرست میں صف اول پر لا کھڑا کیا ہے۔ایک سال میں پنجاب بدل گیا ہے۔

اب عیدالاضحٰی پر صفائی و ستھرائی کو ہی دیکھ لیں۔

اس سال تو کمال ہی ہو گیا ہے۔میں نے کیا دیکھا۔فجر کی نماز کے وقت صفائی والے ان ایکشن تھے۔سڑکوں کے اطراف چونا پھینکا ہوا تھا۔

عزیزم پروفیسر حسین احمد نے صبح 8 بجے گوشت کے ساتھ گھر آتے ہی میڈم وزیراعلی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔کہنے لگے۔یار بزدار سرکار نے اپنے 3 سالہ دور حکومت میں پنجاب کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔لاہور کی سڑکوں کے اطراف خودرو پودوں کا جنگل ایسا کہ نہ پوچھئیے۔ہر طرف کوڑا، کرکٹ بالخصوص عیدالاضحٰی پر آلائشوں کے تعفن نے لاہور شہر کی فضا کو آلودہ  کر رکھا ہوتا تھا۔ہر گلی سے بدبو آتی تھی۔میں نے کسی کی مدح سرائی نہ کرنے والے پروفیسر حسین احمد کی بات سے کلی اتفاق کیا۔

خاکسار نے رات کو شہر لاہور کی سڑکوں پر مٹر گشت کیا۔شہر لاہور میں ٹریفک روانی کے لئے وارڈنز  اور دبنگ سی ٹی او لاہور جناب اطہر وحید کی جتنی تعریف کی جائے کم ہو گی۔خاکسار کا دل صاف ستھری گلیاں، محلے، سڑکیں دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔اس کا کریڈٹ بلاشبہ  وزیر بلدیات جناب ذیشان رفیق اور مشیر وزیر اعلی پنجاب جناب ذیشان ملک کو جاتا  ہے۔آپ دونوں نے پنجاب کو خوشبودار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

راقم نے پڑھا کہ عید کے پہلے دن 1 لاکھ 11 ہزار 121 ٹن اور عید کے دوسرے دن 15 ہزار 827 ٹن آلائشیں اٹھائی گئی ہیں اور 1 لاکھ 43 ہزار 429 لیٹر فنائل، 30 ہزار 563 لیٹر عرق گلاب، 29 لاکھ 87 ہزار 268 کلوگرام چونے کا استعمال کیا گیا ہے اور تو اور اس سال مویشی منڈیاں بھی بندے کے پتروں کی طرح ڈسپلن کے ساتھ شہر کے مخصوص جگہوں پر لگائی گئی تھی۔

اس بار ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں، منہ مانگے کرائے، بنا شناختی کارڈ ٹکٹ کا اجراء ، اوورلوڈنگ کا بندوبست کرنے کے لئے پنجاب پولیس بالخصوص لاہور پولیس نے بہترین انتظامات کر رکھے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں۔عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ماتھے کے جھومر، اپنا کام میں یکتاسی سی پی او لاہور جناب بلال کمیانہ  باکمال، لاجواب، عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال ڈی آئی جی آپریشنز لاہور جناب فیصل کامران نے 24/7 کام کیا۔

اس عید سعید کے موقع پر یہ کہنا تو بنتا ہے ویل ڈن!وزیراعلی پنجاب  محترمہ مریم نواز آپ اسی طرح مخلوق کی خدمت کر کے اللہ کے پسندیدہ بندوں کی فہرست میں اپنا نام لکھواتے جائیے۔

اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button