منتخب کالم
دعا ہے کہ……. / فیصل شامی

عید بھی شکر اللہ پاک کا خیر خیریت سے گزر گئی ملک بھر میں امن و امان رہا ملک بھر سمیت دنیا بھرمیں عید قرباں منائی گئی لیکن دوسری طرف فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں مظلوم معصوم و نہتے مسلمانوں کا خون بہا یا گیا جس پہ دنیا بھر کے عالمی امن کے علمبردار خاموش تماشائی بن گئے ایک طرف امت مسلمہ عید کی خوشیاں منا رہی تھی تو دوسری طرف ظالم مسلمانوں کا خون ناحق بہا رہے تھے۔کتنے ظلم و افسوس کی بات ہے کہ مظلوم و معصوم فلسطینیوں پہ اسرائیل مظالم ڈھا رہا ہے آئے روز خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ اسرائیلی حملے میں بے شمار فلسطینی شہید ہو گئے۔اسی طرح کشمیر کا تنازع بھی بہت پرانا ہے پہلے ہندو راجا کشمیریوں پہ ظلم کرتے تھے اور ہندو راجاؤں کے ظلم کے قصے تاریخ کی کتابوں کا سیاہ باب ہیں اور سیاہ حاشیے سے رقم ہیں بالکل ویسے ہی فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم نئی بات نہیں۔ جس طرح سے کشمیری نسل در نسل ہندو مظالم کو سہہ رہے ہیں بالکل اسی طرح سے فلسطینی اسرائیلی مظالم کو برداشت کر رہے ہیں اور ہمیں یاد ہے کہ جب چھوٹے تھے تب بھی فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم کے قصے سنتے تھے اور یہ بھی یاد ہے کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات تھے جنہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کی لڑائی لڑی اور تب سے لے کے آج تک مظلوم فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم کے قصے سنتے آئے ہیں جو بھول کے بھی نہیں بھلائے جا سکتے۔ جی یقینا نہتے فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم انتہائی افسوسناک ہیں لیکن ایک اچھی خبر گزشتہ دنوں پہ سننے کو ملی کہ پاکستان کے دوست ملک چائنہ کی طرف سے مظلوم و معصوم فلسطینیوں کے لئے امداد بھجوائی گئی اور چائنہ کی طرف سے جو امداد فلسطین بھجوائی گئی وہ فضائی رستے سے بھیجی گئی اور ائیر فورس کی نگرانی میں بھیجی گئی جو چائنہ کاسنہری قدم ہے لیکن دکھ کی بات ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم آئے روز بڑھتے جا رہے ہیں اور کوئی اسرئیل کو مظلوم فلسطینیوں پہ مظالم کرنے سے روکنے والا نہیں اور اس سے زیادہ مزید کیا کہیں بس اجازت چاہیں گے آپ سے لیکن اس دعا کے ساتھ کے مظلوم فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم جلد بند ہوں اور وہ بھی آزادی سے اپنی زندگی جی سکیں اور یقیناوہ دن ضرور آئیگا جب کشمیر ہندوؤں اور فلسطین اسرائیلی تسلط سے ضرور آزاد ہو گا آمین ثم آمین۔ تو اسی دعا کے ساتھ اجازت آپ سے تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا۔




