منتخب کالم
خبر ہے کہ / فیصل شامی

خبرہے کہ پارلیمنٹ میں پارلیمان نے کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور کر لیا جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر کی شادی کرنا اورکروانا جرم بن گیا ہے اور کم عمری کی شادی کرنے اور کروانے والے اور نکاح پڑھوانے والے نکاح خواں کے خلاف بھی کاروائی ہو گی اورقید کی سزا بھی سنائی جائے گی اور سینٹ اور قومی اسمبلی میں یہ بل منظور ہو چکا جبکہ مذہبی جماعتوں نے کم عمری کی شادی پر پابندی کی مخالفت کی اور کہا گیا کہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا بل اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے مشاورت کے بغیر منظور کر لیا گیا جبکہ خبر سننے کو یہ بھی ملی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کی طرف سے بھی کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کو مسترد کر دیا گیا ہے اور شرعی لحاظ سے بھی درست قرار نہیں دیا۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے مذہب دین اسلام میں بھی یہی حکم ہے کہ لڑکا لڑکی جب بالغ ہوں تو فوری نکاح کر دیا جائے اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کم عمری میں لڑکا لڑکی کے نکاح کروانے سے بہت سی برائیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے اور اگر دیکھا جائے تو بلوغت کی عمر تو ہے لیکن اسکی حد نہیں دنیا بھر کے بعض ممالک میں لڑکی کو تیرہ سے چودہ سال کی عمر کو پہنچتے ہی بالغ تصور کیا جاتا ہے لیکن بعض ممالک میں سولہ سال جبکہ پاکستان میں لڑکا لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ ہمارے ملک میں اٹھارہ سال کی عمر میں شناختی کارڈ لائسنس اور دیگر کاغذات بنتے ہیں اور ہمارے ملک میں بھی شادی کی عمر پہلے بھی اٹھارہ سال ہی مقرر ہے لیکن دو خاندانوں کی باہمی رضا مندی سے لڑکے اور لڑکی کی شادی کر دیتے ہیں یا بہت سے ایسے ہیں جو بچپن میں بچوں کی منگنی کر دیتے ہیں اور بڑے ہونے پر شادی،مطلب نکاح کروا دیتے ہیں اور ا گر فریقین کی باہمی رضا مندی سے کوئی کام کیا جائے تو کچھ غلط نہیں۔اس لئے کاروائی مشکل ہے اور بہت سے دیہات وغیرہ میں آج بھی کم عمری میں شادیاں کروانے کا رواج ہے اور اب حکومت کی طرف سے کم عمری کی شادی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔حکومتی اراکین کا کہنا ہے کہ یہ بل سابقہ حکومت میں تیار کیا گیا تھا جسے اب منظور کروایا گیا اور اب حالیہ بل کی منظوری کے بعد بہت سے خیالات و سوالات بھی عوام کے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں اور ہم تو اس مسئلے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں کہ کیا معاملہ ہے لیکن بہر حال اگر حکومت کم سن بچے بچیوں پر تشدد، ہراساں کرنے پر پابندی کا بل بھی منظور کروا لے توکیا ہی اچھی بات ہو گی۔ بہر حال اب دیکھتے ہیں کہ مزید کیا ہو گا۔ اب اس بل کے منظور ہونے کے بعد کیا صورتحال ہو گی کچھ نہیں کہا جا سکتا اور دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ آیا حکومت بخوبی وباآسانی بل کو لاگو کروا سکے گی یا نہیں۔ یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے،تو بہر حال اجازت چاہتے ہیں فی الوقت آپ سے دوستوں لیکن اس آس و امید کے ساتھ کہ جو بھی ہو اچھا ہی ہو تو ملتے ہیں جلد آپ سے ایک ننی منی سی بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان۔




