منتخب کالم
بچپن سے سنتے آئے ہیں / فیصل شامی

بچپن سے ہی سنتے آئے ہیں کہ ”جوا کسی کا نہ ہوا“۔جی دوستوں یقینا یہ بات بھی کسی حد تک ٹھیک تھی اور یقینا جوا ہے بھی بری عادت اور یقینا ہمیں بری عادت سے بچناچاہیے جوئے کے چکر میں گھر بار، روپیہ پیسہ،کاروبار سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ یا آسان لفظوں میں یوں کہیں کہ ہر چیز تباہ ہو جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے جوئے کے شوقین نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے، اور ایک وقت تھا جب جوا چھپ چھپ کے کھیلا جاتا تھا، تاش کے پتوں پر کھیلا جاتا تھا یا پھر لڈو کے دانوں پر لیکن آج اگر بات کی جائے تو جوا تاش کے پتوں، لڈو کے دانوں سے نکل کے ماڈرن شکل اختیار کرچکا ہے جس طرح سے دنیا ترقی کر رہی ہے بالکل ویسے ویسے جواری اور جوا کروانے والے بھی جدید طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔ پہلے آپ کو جوا کھیلنے کے لئے جوا خانوں کا رخ کرنا پڑتا تھا یا کوئی محفوظ جگہ ڈھونڈنی پڑتی تھی لیکن اب وہی جوا خانے گھر گھر کھل چکے ہیں۔ گھر گھر میں بیٹھ کر جوا آ ن لائن بذریعہ کمپیوٹر اور موبائل کھیل سکتے ہیں۔ آج کے دور جدید میں آن لائن جوا کھیلنے اور ایسی گیمز کا رحجان جن میں نقد انعام کا لالچ دیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل میں بڑھ رہا ہے اور نوجوان نسل بیٹھے بیٹھے پیسہ کمانے کے خواب دیکھتی ہے اور پھر جب خواب اجڑ جائیں تو یقینا تکلیف ہوتی ہے اور جو اس تکلیف سے گزرتا ہے درد وہی جانتا ہے اور یقینا یہ خطرناک بات ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو بذریعہ موبائل جوئے کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے جس وجہ سے نوجوان نسل تیزی سے تباہی کا شکار ہو رہی ہے اور یقیناموبائل ایک ایسی چیز ہے جس میں وائی فائی کے استعمال سے پوری دنیا کی سیر گھر بیٹھے کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کے کھیل بھی موبائل پر کھیل سکتے ہیں بلکہ مختلف کھیلوں پرپیسہ لگا کر پیسہ جیتا بھی جا سکتا ہے اور آن لائن جوا کھیلنے کے لئے بے شمار ویب سائٹس اور بے شمار ایسی ایپ بھی مارکیٹ میں آ چکی ہیں جنہیں اَپ لوڈ کر کے آپ گھر بیٹھے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں اور آن لائن گیمز میں آپ گھر بیٹھے کسی بھی کھیل پر سٹہ لگا سکتے ہیں اور بہت سے آن لائن کیسینو بھی جو ہیں جن میں نوجوان نسل بھرپور دلچسپی لیتی ہے اور یہ آن لائن کسینو ایپ وغیرہ جو ہیں وہ غیر قانونی طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور لوٹتے بھی ہیں اور یقینا یہ سب غیر قانونی طریقے سے کمائی کے رستے بتاتے ہی اور معصوم و مظلوم عوام پیسے کمانے کے چکر میں اپنی جمع پونجی گیموں پر لٹا دیتی ہے اور شائد اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ جوا کسی کا نہ ہوا، جوا صرف اسکا ہی ہوا جو جوا کرواتا ہے مطلب کے جوا کروانے کے لئے محفوظ ٹھکانے مہیا کرتا ہے اور خود جوا نہیں کھیلتا لیکن جوا کھیلنے والوں سے اپناحصہ ضرور لیتا ہے۔ اسی لئے جوا کروانے والا امیر اور جوا کھیلنے والے کنگال ہو جاتے ہیں اور یہی حال آن لائن گیمز کھیلنے والوں کا ہے جو ایپ بنانے اور گیمز بنانے والوں کے ہاتھوں خوب لٹتے ہیں اور ایپ و گیمزبنانے والے عوام کو ماڈرن اور سائنسی طریقے سے لوٹتی ہے اور عوام ہنسی خوشی لٹنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور ہمارے بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ حکومت آن لائن پیسہ کمانے کے خواب دکھانے والے لٹیروں کے خلاف بھی کارروائی کرے اور آن لائن گیمز اور ایسی ایپ جو جعلسازی سے کمائی کا ذریعہ بنیں انکے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے انہیں بند کیا جائے اور پابندی لگائی جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل ایسی فراڈ طریقوں سے لوٹنے والوں کے جھانسے میں آ کر اپنی کمائی نہ لٹا سکیں تو بہر حال دوستوں اجازت چاہتے ہیں آپ سے،تو ملتے ہیں جلد بریک کے بعد،تو چلتے چلتے اللہ نگہبان،رب راکھا۔




