منتخب کالم

ہینوں کی فتح کا قصہ … (آخری قسط)/ رابعہ رحمن



اب پی ایل 15 صرف ایک میزائل نہیں بلکہ علامت بن چکا ہے اس نئے پاکستان کی جو نہ صرف دفاع میں خود کفیل ہے۔ بلکہ دشمن کی زمین اور فضا میں جھانک کر اسے وقت سے پہلے حیران کر سکتا ہے۔ جب جنگ محض توپ و تفنگ کا کھیل نہیں رہتی بلکہ عقل حکمت عملی اور سائنسی مہارت کی جنگ بن جاتی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ایس ای او 30 جیگوار یا رافیل جیسے طیارے جب سرحد کے قریب پٹھان کوٹ برنالہ یا بٹھنڈہ کے اندرون سے پرواز بھرنے لگتے ہیں تو پاکستانی فضائی دفاعی نظام خاموش تماشائی نہیں رہتا۔بلکہ متحرک آنکھ بنتا ہے زمین پر بکھری ہوئی ریڈار پکٹس،فضاؤں میں گشت کرتے ایواکس طیارے اور زیر زمین نصب جدید سینسرز مل کے دشمن کی ہر حرکت کو سینکڑوں کلومیٹر دور سے محسوس کر رہا ہے یہ نیٹ ورک دشمن کی پرواز کی سمت، اونچائی،رفتار اور فاصلہ مسلسل مانیٹر کرتا ہے۔ اور جیسے ہی دشمن کا طیارہ اس فاصلے میں داخل ہوتا ہے جہاں پی ایل 15 میزائیل اثرانداز ہو سکتا ہے ایک خاموش مگر مہلک رد عمل تشکیل پانے لگتا ہے۔ 
جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ ہے جو پی ایل 15 سے لیس ہوتا ہے یہ دشمن سے محفوظ فاصلے پہ رہتے ہوئے میزائل کو فائر کرتا ہے مگر یہ فائرکوئی اندھا فائر نہیں ہوتا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنا نشانے پہ فائر کیسے لگ سکتا ہے کیونکہ رافیل فوری پلٹ سکتا ہے، وہ ریڈار کو چکما دے سکتا ہے،تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ فائر کریں اور سیدھا ہی جا کے اسے لگے، یہاں پہ پی ایل 15 کی خاصیت بتانے کی ضرورت ہے۔ جہاں  پہ میں لکھ رہی ہوں جے ایف 17 تھنڈر کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادھر کیا ناکامی تھی یہاں پہ پی ایل 15 جو ہے اسے انبیکٹ بہت بہتر طریقے سے جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ کیا گیا، کیونکہ اس کی فائرنگ جو ہے وہ اندھا وار نہیں ہے بلکہ ہر لمحے کی اپڈیٹ،ہر زاویے کی خبر،میزائل کو مل رہی ہوتی ہے۔
 ابتدائی طور پہ یہ میزائل جو ہیں اپنے طیارے سے ڈیٹا لنک کے ذریعے مسلسل رہنمائی لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ ہدف کے قریب پہنچتا ہے اس کا اپنا ایکٹو ریڈار آن ہو کے آخری کاری ضرب لگا گیا، یہی وہ لمحہ تھا جو دشمن پائلٹ کو آمد کا پتہ نہ چلا اور طیارہ ہوا میں جلتا ہوا زمین پہ گرا،یہ صرف پی ایل 15 کی فتح نہیں ہے بلکہ پورے ڈیفنس ایکو سسٹم کی اجتماعی ذہانت ہم آہنگی اور تربیت کی فتح ہوئی ہے۔ جو دشمن کے بہترین ہتھیار کو بھی بے بس کر گئی۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں جنگ کے روایتی تصور کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور جنگ ایک مکمل طور پہ غیر مرئی اور ڈیجیٹل دائرے میں داخل ہوئی، جب پاکستان نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی فضائی حدود کے اندر دشمن کے پانچ طیارے تباہ کیے تو یہ محض پراپیگنڈا نہیں تھا بلکہ ایک جدید مربوط اور ریل ٹائم ٹیکنالوجی کی بنیاد پہ قائم دعویٰ تھا جیسے ہی پی ایل 15 میزائل نے ہدف کو نشانہ بنایا زمین پر موجود ریڈار پکٹس اور سگنل انٹیلیجنس کے آلات فوری طور پہ اس تبدیلی کو نوٹ کرتے رہے، ایک لمحہ پہلے جو طیارہ 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں حرکت کر رہا تھا وہ اچانک غائب ہوتا ہے، نہ رفتار،نامقام، نہ آواز سب کچھ خاموش یہی خاموشی سب سے بڑی گواہی، اکثر اوقات دشمن کے پائلٹ جو ہیں وہ خود ہنگامی ڈسٹرس سگنلز بھیج دیتے ہیں۔ جو پاکستانی انٹیلیجنس سسٹم فوری طور پہ انٹرسیپٹ کرتی ہے۔ یہ پیغام اس بات کی تصدیق تھی کہ واقعی کچھ غلط ہوا، کبھی کبھار بھارتی ائیر بیس سے اچانک ریسکیو ہیلی کاپٹرز کی روانگی یا کوئی مخصوص نو فلائی زون کا اعلان بھی صورتحال کی تصدیق کر دیتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں میزائل اور ڈیٹا ریڈار اور خاموش سگنلز ہر ایک حرکت دشمن کی تباہی کا ثبوت بنا۔ انسانی آنکھ کچھ نہ دیکھے تب بھی زمین پر موجود ٹیکنالوجی اور فضا میں گشت کرتے نادیدہ نظام دشمن کے ہر نقصان کو بے نقاب کرتے ہیں اور یوں بھارت کے دل میں موجود ائیر بیس تک غیر محفوظ بن جاتے ہیں،نہ صرف فزیکلی بلکہ نفسیاتی طور پر بھی، یہی لمحہ تھا جب عالمی سیاست،عسکری توازن اور اسلحے کی منڈی تینوں ایک ساتھ لرز اٹھے۔فرانسیسی انٹیلی جنس کے اعلی آفیسر نے کیبل نیوز سے نیٹ ورک یعنی سی این این کو یہ تصدیق کی کہ بھارتی فضائیہ کا ایک رافیل طیارہ پاکستانی حملے میں تباہ ہوا۔ ایک کمپنی یا وہ ملک جس کا فخر جس کا غرور ایک طیارہ ہو اور وہ خود ہی اس کا اعتراف کرے کہ ہاں مار گرایا گیا تو ان کے لیے کتنا بڑا دھچکا تھا۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button