خبریں

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ


اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا محفوظ فیصلہ 3 بجے سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ‌ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کےٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ، درخواست گزاروں نے اعتراض کیا کہ عدالتی حکم کے باوجودفوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوچکا ، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹرائل شروع ہونے کے معاملے کا بھی جائزہ لیں گے، اٹارنی جنرل دلائل مکمل کرلیں پھردیکھیں گے آگےکیسےچلنا ہے۔

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا ، آرمی ایکٹ کےتحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تقاضے پورےکئے جائیں گے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہو گا، فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی، آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں بھی میں اپیلیں آئیں گے، دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا۔

اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ ملزمان میں شہری اور کالعدم تنظیموں کے ممبران بھی تھے ، دلائل میں مختلف عدالتی فیصلوں کےمندرجات کا حوالہ بھی دوں گا، میں گزشتہ سماعت کا خلاصہ دوں گا، میں بتاؤں گا کہ موجودہ ٹرائل کے لیے کیوں آئینی ترمیم ضروری نہیں تھی، میں آرٹیکل 175 پر بھی بات کروں گا اور 21 ویں آئینی ترمیم کے فیصلے کی روشنی میں بھی دلائل دوں گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو آگاہ کروں گا 2015 میں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں کیوں بنائی تھیں اور عدالت کوبتاؤں گا اسوقت فوجی عدالتوں کیلئےآئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں ، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیرملکی یادہشت گرد؟

جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزمان میں ملکی وغیرملکی دونوں ہی شامل تھے،2015میں جن کاٹرائل ہواان میں دہشت گردوں کےسہولت کار بھی شامل تھے تو جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں دہشتگردوں کیلئےترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئے نہیں ؟

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8تھری سے کیسے جوڑیں گے ؟ آئین کےمطابق تو قانون میں آرمڈ فورسز سے تعلق ضروری ہے ، آپ کی تشریح کو مان لیاتوآپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے، آئین بنیادی حقوق کو تحفظ دیتا ہے، سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسےآتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کیا آئین کا آرٹیکل 8 کیاکہتاہے اٹارنی جنرل صاحب؟ تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کےبرخلاف قانون سازی برقرارنہیں رہ سکتی تو جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے،افواج کےنظم و ضبط کیلئےموجود قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟

جسٹس عائشہ ملک نے اٹارنی جنرل سے مزید سوال کیا 21ویں آئینی ترمیم کادفاع کیسےکیاجاسکتاہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ افواج کا نظم و ضبط اندرونی جبکہ فرائض کے انجام میں رکاوٹ ڈالنابیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسےشخص کاٹرائل ہوسکتا جو اسکےزمرے میں آئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ جن قوانین کاآپ حوالہ دےرہےہیں وہ فوج کےڈسپلن سےمتعلق ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پرچھوڑی جاسکتی ہے ؟ آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بناتا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کا مزید کہنا تھا کہ عام شہریوں پرآرمی ڈسپلن ،بنیادی حقوق معطلی کےقوانین کیسےلاگوہوسکتےہیں؟ عدالت نےیہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہوگا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہےبنیادی حقوق معطل کردیئے جائیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممنوعہ علاقوں،عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا دہشت گردوں کےٹرائل کیلئےآئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئےنہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کاڈائریکٹ تعلق ہوتوکسی ترمیم کی ضرورت نہیں، جس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کےاندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے۔

جسٹس مظاہر علی نقوی نے سوال کیا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ قانون پڑھیں توواضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کےاندر کیلئےہوتاہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسےدکھائیں گے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو ڈیوٹی ادا کرنے سےروکنابھی قانون میں جرم بن جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید کہا کہ قانون مسلح کے اندرموجودافرادکی بھی بات کرتا ہے تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بات فورسزمیں ڈسپلن حد تک ہو تویہ قانون صرف مسلح افواج کےاندرکی بات کرتاہے، جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے سویلین ٹرائل آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کا پابندآرمڈفورسزکو کرتا ہے، قانون انہیں کہتا ہے آپ فرائض ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پرنہیں لگے گا، آپ اس بات کو دوسری طرف لےکر جارہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جوانہیں ڈسٹرب کرےان کیلئے قانون ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے، میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا۔

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے ایف بی علی کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بریگیڈیئرایف بی علی ریٹائرڈ ہوچکے تھے، ایف بی علی ریٹائرڈ تھےاس لیے سیکشن 2ون ڈی کےتحت چارج ہوئے،دیکھنا یہی ہوتا ہے کیا ملزمان کا تعلق آرمڈ فورسز سے ثابت ہے یا نہیں، عدالت نے 21ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا اور قرار دیا فیئر ٹرائل کا حق متاثرنہیں ہوگا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ آپ ساری آرمڈ فوسز کے کیسز پڑھ رہے ہیں، ان کیسز کا موجودہ سے کیا تعلق ہے ؟ تو اٹارنی جنرل نے گزارش کی کہ گٹھ جوڑ والا معاملہ موجود ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کوٹ مارشل کوآئین تسلیم کرتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مجھے اسی نقطے کی وضاحت کر دیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق اسی صورت ہوتا ہے جب جرم فوج سے متعلقہ ہو، آفیشل سیکریٹ ایکٹ تو وزیراعظم ہاؤس،دفتر خارجہ پر حملےپربھی لگ سکتاہے،کورٹ مارشل کا آئین کے آرٹیکل 175 سے کوئی تعلق نہیں، آرٹیکل 175 کی بنیاد پر کورٹ مارشل کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کےٹرائل کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا محفوظ فیصلہ 3 بجے سنایا جائے گا۔

عدالت نے فوج کی تحویل میں موجودملزمان کی درخواستیں واپس کردیں ، سپریم کورٹ نے فوجی ٹرائل کی حمایت میں9 متفرق درخواستیں واپس لینے پر خارج کیں۔

Comments





Source link

Author

Related Articles

Back to top button