منتخب کالم

بھارت کا جنگی جنون افواج پاکستان کا جذبہ اور تیاری / محمد اکرم چوہدری



پاکستان کی افواج ہر لمحے ملک کی دھرتی کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے ہر لمحے تیارہیں یہ الگ بات ہے کہ بھارت عالمی حمایت حاصل نہیںکر سکا ماسواے یہودیت کے پروموٹر نے انکی مخالفت نہیں کی بلکہ پاکستان کو کچھ قدرے الزام کی زد میں رکھا نائب امریکی صدر کا یہ کہنا کہ کچھ حد تک پاکستان اس معاملے میںہو سکتا ہے اور بھارت کے ساتھ تعاوں کرنا چاہیے ۔نائب صدر صاحب آپ بھارت میں ہوتے ہوے ہندواتا کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا سمجھ بیٹھے پاکستان کی وزرات خارجہ کو اس کا بھر پور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے پاکستان ایک پر امن ملک امن کا داعی اورہمسائے کا خیال رکھنے والا ملک ہے مجھے لگتا ہے انکا بیان عالمی میڈیا نے بھی سریس نہیں لیا اور انڈین میڈیا تو ویسے ہی پاگل ہو چکا ہے اور بغیر دیکھے بھاگا چلا جا رہا ہے آج ہفتہ بھر سے زائد وقت ہو گیا کچھ ملا نہیں بھارت بدحواسی میں کچھ بھی کر سکتا ہے کوئی ابھی نندن کوئی کلبھوشن اب قابو آ گیا تو جہنم واصل ہوگا بھارتیو یقین رکھوہم پہل نہیںکریں گے مگر آگے بڑھے تو جواب مکمل ملے گا اور جنگ شروع آپ اور خاتمہ پاکستان کہ مرضی سے ہوگا
 افواج پاکستان کی بھارتی جارحیت سے نمٹنے کیلئے جنگی مشقیں زور و شور سے جاری ہیںمشقوں میں افسران اور جوان اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو بھرپور طریقے سے دکھارہے ہیںپاک بحریہ نے جنگی تیاریوں کے حوالے سے ’ہر لحظہ تیار‘ ویڈیو جاری کی ہے مسلح افواج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہیں ،افواج پاکستان کی بھارتی جارحیت کے خطرے سے نمٹنے کی تیاریاں بھرپور زور و شور سے جاری ہیں، جدید اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ جنگی مشقیں کی گئیں ۔ زرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے شاہین بھی 2019 کی تاریخ دہرانے کو تیار ہیں، ’ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں‘ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہوگیا۔
مودی سرکار کے سر سے جنگ کا بخار اتارنے کا نسخہ تیار کرلیا گیا، پاک فوج کی جنگی مشقیں پورے زور و شور سے جاری ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگی حکمت عملی کے پیش نظر مشقوں میں جدید ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔مشقوں میں افسران اور جوان اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو بھرپور طریقے سے دکھا رہے ہیں، جنگی مشقوں کا مقصد دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینا ہے۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں مقامی سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے بے جا الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور سفارتی عملے کو 30 اپریل 2025 تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ بھی مودی سرکار نے پاکستان کے حوالے سے کئی جارحانہ فیصلے کیے، جن میں پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی بھی شامل ہے۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے جوابی اقدامات کرتے ہوئے بہترین سفارتی حکمت عملی کو اختیار کیا، اور بھارت کے سفارتی عملے کو بھی 30 افراد تک محدود کر دیا گیا تھا، قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، پانی بند کیا گیا تو پاکستان اسے جنگ تصور کرے گا۔
جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں جعفر ایکسپریس حملے کا االزام علاقائی حریف پر عائد کیا ہے، اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو قبول کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا، تاہم بھارت کی جانب سے امن کے لیے اقدامات کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی کا سلسلہ برقرار ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے دونوں ملکوں پر کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیا ہے، تاہم بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی  جاری رکھے ہوئے ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت کو بھر پور جواب کا مزہ چکھنے کی خواہش سے عالمی امن کو بچانے کے لیے دنیا اپنا کردار ادا کرے گی ورنہ پوری دنیا اس بار بھگتے گی کیوں کہ جنگ پھر جنگل میں لگی آگ کی طرح کچھ نہیں دیکھتی کہ سامنے کون ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button