درسِ کربلا/ شہزاد گل

کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں،بلکہ ایک ابدی پیغام ہے۔ ظلم کے خلاف قیام، حق کی حمایت اور صداقت کے راستے پر استقامت، یہ پیغام آج بھی ہر دل پر دستک دے رہا ہے۔کربلا ہمیں قربانی، صبر، وفا اور رضا کا درس دیتی ہے۔ حضرت زینب ؓ کا کردار اس عظیم سانحے میں ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک باہمت عورت ظلم کے خلافصدائے احتجاج بن جاتی ہے اور دشمن کے دربار میں بھی کلمہ حق کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔آج کی دنیا میں جہاں حق و باطل کی تمیز مشکل ہوتی جا رہی ہے،کربلا ہمیں شعور عطاءکرتی ہے۔یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حق وہی ہے جس میں انسانیت ہو،انصافہو اور اللہ کی رضا ہو۔اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو ہمیں معاشرے کے مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا،ا_±ن کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ہو گی اور ہر ا_±س یذیدی سوچ کے خلافعلم ِ بغاوت بلند کرنا ہو گا جو انسانیت کو پامال کرنا چاہتی ہے۔ یقینا کربلا ایک ایسا روشن مینار ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو راہ دکھاتا رہے گا۔یہ معرکہ صرف تلواروں کا نہیں تھا، بلکہ یہ ضمیر،اصول اور کردار کی جنگ تھی۔ امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں اپنی جان، اپنے اہل ِ بیت اور جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر امت مسلمہ کو یہ سبق دیا کہ باطل چاہے جتنا بھی طاقتور ہو،حق کے سامنے ہمیشہ کمزور ہوتا ہے۔کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کو تسلیم کرنا بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اگر ہم ظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے توگویا ہم بھی ظلم میں شریک ہیں۔ امام حسینؓ نے صرف اپنے دور کے یزید کا انکار نہیں کیا، بلکہ ہر زمانے کے ظالم حکمرانوں کے خلاف ایک دائمی صدائے احتجاج بلند کی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ظلم کے خلافقیام صرف مردانِ میدان کا کام نہیں،بلکہ یہ ایک اخلاقی فریضہ ہے جسے ہر باشعور انسان کو نبھانا چاہئے۔کربلا ہمیں یہ ہمت دیتی ہے کہ ہم حق بات کریں،سچ کا ساتھ دیں اور ہر حال میں عدل و انصافکے علمبردار بنیں۔یہ واقعہ ہمیں ظلم کے خلافآواز بلند کرنے، مظلوم کی مدد کرنے اور ہر صورت میں حق کا علم تھامے رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔اسی لئے آج بھی جب کوئی حق کی بات کرتا ہے،مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے یا ظالم سے ٹکراتا ہے، تو اسے ”حسینی“ کہا جاتا ہے۔ کربلا کا پیغام ہر دور میں زندہ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی عظمت ہے۔کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں،بلکہ حق،صداقت اور عدل کی لازوال علامت ہے۔یہ وہ عظیم معرکہ ہے جہاں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ نے باطل کے مقابلے میں سر جھکانے کے بجائے حق کے لئے سر کٹوانا پسند کیا۔ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ظلم اپنے عروج پر ہو، تب بھی خاموشی نہیں،بلکہ مظلوم کا ساتھ دینا اور ظالم کے خلافکھڑے ہونا مومن کی پہچان ہے۔درسِ کربلا یہ ہے کہ وقتی فائدے اور دنیاوی طاقت کے لئے اصولوں کو قربان نہیں کیا جاتا۔ امام حسینؓ نے یزیدی نظام کو ٹھکرا کر یہ پیغام دیا کہ ظالم کی بعیت کرنا دراصل ظلم کو تقویت دینا ہے اس لئے ہر دور کا حسینی، ہر زمانے کے یزید کے خلاف ا_±ٹھ کھڑا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ ہو۔




