پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 14 مارچ کو اسلام آباد میں ہوں گے: وزارت خزانہ

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔
- وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے الزامات ’جھوٹ کا پلندہ‘: پی ٹی آئی
- جی ایس پی پلس ختم کرانے کے لیے پی ٹی آئی یورپی یونین سے رابطہ کر رہی ہے: وزیراطلاعات
- آئی ایم ایف کا وفد آج پاکستان پہنچے گا: رپورٹ
13 مارچ دن 3 بجکر 30 منٹ
وزارت خزانہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر جائزہ مذاکرات جمعرات کو اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا دوسرا جائزہ اسلام آباد میں 14 سے 18 مارچ 2024 تک طے ہے۔ ’پاکستان نے آئی ایم ایف کے جائزے کی کامیابی سے تکمیل کے لیے تمام سٹرکچرل بینچ مارکس، کوالٹیٹیو پرفارمنس کے معیار اور اہداف کو پورا کر لیا ہے۔‘
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا حتمی جائزہ ہوگا۔ اگر آخری جائزہ بھی کامیابی سے مکمل ہو گیا تو پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی جائے گی۔
گذشتہ برس کے وسط میں پاکستان کی مختصر مدت کی معاشی ضروریات پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے ایک سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی منظوری دی تھی جسے تحت پاکستان کو تین ارب ڈالر قرض ملنا تھا۔ اس میں پاکستان کو اب تک 1.9 ارب ڈالر ملے چکے ہیں اور تیسرے قسط کے اجرا سے قبل ایک جائزہ لیا جانا باقی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلے ہی نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں اپنی فنانس ٹیم کو 11 اپریل کو اسٹینڈ بائی انتظامات کی میعاد ختم ہونے کے بعد توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے حصول پر کام شروع کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
13 مارچ دن 2 بجکر 20 منٹ
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے الزامات ’جھوٹ کا پلندہ‘: پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جی پی ایس پلس ختم کروانے کے لیے پی ٹی آئی کے یورپی یونین سے رابطے کے الزامات کو ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ عطا تارڑ کی پریس کانفرنس ’جھوٹ، لغویات، الزام تراشی اور بے ہودگی کے مجموعے کے سوا کچھ نہیں۔‘
ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ ’تحریک انصاف کی طرف سے یورپی یونین کو نہ تو کوئی خط لکھا گیا ہے اور نہ ہی خط لکھنے کا کوئی ارادہ ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین واحد جماعت ہے جو وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔‘
13 مارچ صبح 11 بجکر 23 منٹ
جی ایس پی پلس ختم کرانے کے لیے پی ٹی آئی یورپی یونین سے رابطہ کر رہی ہے: وزیراطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لے، ایسا اقدام ملک پر ایک حملہ ہے۔
یورپی بلاک کی جی ایس پی پلس سکیم ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی اور اچھی طرز حکمرانی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک خصوصی ترغیب فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے لیے اہل ممالک کو انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور گڈ گورننس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے موجودہ جی ایس پی ریگولیشن کی میعاد 2023 کو ختم ہونا تھی گذشتہ سال اکتوبر میں یورپی یونین نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کی پارلیمنٹ کے ارکان نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے موجودہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) میں 2027 تک توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس کے تحت یہ ممالک بغیر یا کم ڈیوٹی پر اپنی اشیا یورپی منڈیوں میں برآمد کر سکیں گے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یورپی یونین کو اپروچ کرنے کا ایک مکروہ قدم لیا گیا ہے اور آن لائن پٹیشن میں یورپی یونین کو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لیا جائے کیوں کہ عمران خان کو جیل میں سہولیات نہیں دی جا رہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ ایسے سیاسی عناصر ہیں اس ملک میں جو معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور وہ پہلے بھی پہنچاتے رہے ہیں۔ وہ اپنی سیاست کی خاطر ریاست کا نقصان کیے جا رہے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔‘
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’اگر چند سیاسی عناصر یہ سمجھتے ہیں ہم اپنی سیاسی بقا کی خاطر، سیاسی مفادات کی خاطر اس ملک کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔‘
حال ہی میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات کا حلف اٹھانے والے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ریاست پاکستان اور قومی مفاد کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
’معیشت ٹھیک کرنے کے لیے درکار اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ اور ایک طرف ایک سیاسی جماعت ہے جن کو اپنے آپ سے آگے کچھ نظر نہیں آتا اور اب یورپی یونین کو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لے لیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان پر حملہ ہے، پاکستان کی معیشت تباہ کرنے کی سازش اور پاکستان کے غریب عوام کو مزید مشکلات کا شکار کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے بقول تحریک انصاف نے یورپی یونین کو اس لیے اپروج کیا کہ کیوں کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ جیل میں قید ان کے بانی چیئرمین کو سہولیتں نہیں مل رہیں۔ تاہم وزیراطلاعات نے کہا کہ کسی بھی دوسرے قیدی سے کہیں زیادہ سہولیات عمران خان کو فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزیراطلاعات کے اس بیان پر تحریک انصاف کے طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




