ملتان: ایک صدی کے زائد عرصے سے بکنے والی جندو چانپ

ملتان میں ایک صدی پرانی مشہور دوکان جندو چانپ کے نام سے مشہور ہے جہاں اب استاد جندو کی تیسری پشت چانپ بنا کر بیچ رہی ہے۔
یہ چانپ پاکستان بھر سمیت دیگر ملکوں میں بھی لوگ لے کر جاتے ہیں جبکہ پاکستان کی بہت سی اہم شخصیات ملتان آمد پر یہ چانپ ضرور کھاتے ہیں۔
جندو چانپ کے مالک استاد شاہد کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو تقریباً 100 سال ہو گئے ہیں یہ کام کرتے ہوئے۔
استاد شاہد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ ہمارے دادا ابو جندو نے یہ کام شروع کیا تھا۔ اب اس کی تیسری پیڑھی ہے۔ والد صاحب نے شروع کیا اب ہم کر رہے ہیں۔
’ہمارے بہت زیادہ گاہک ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد سے آتے ہیں۔ سعودی عرب بھی جاتا ہے ہمارا پارسل، دبئی بھی جاتا ہے۔ ہمارے پاس مٹن چانپ ہوتی ہے، چکن پیس، مٹن کباب ہوتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم خود اپنے بکرے خرید کر یہ گوشت لاتے ہیں پھر خود اپنے معیار کے مطابق اسے بناتے ہیں۔ اس میں کالی مرچ اور دہی وغیرہ ڈالتے ہیں۔ تھوڑا سا لال مسالہ ڈال دیا اور کافی ہمارے خفیہ مصالحہ جات ہوتے ہیں، وہ ہم نہیں بتا سکتے۔‘
استاد شاہد بتاتے ہیں کہ مشہور ہونے کی وجہ سے یہاں بہت سے مہمان دور دور سے یہاں آتے ہیں۔
شاہد نے بتایا کہ’ ایک دن میں تین چار سو چانپ بکتی ہیں۔ یہ میچ کی ٹیم ابھی کھا کر گئی ہے۔ پچھلے دنوں محسن نقوی صاحب کھا کے گئے ہیں۔ کافی پرانے لوگ بھی کھا کر گئے ہیں۔
’جاوید ہاشمی، نواز شریف وغیرہ۔ یہ مٹن چاپ ساڑھے 400 کی چل رہی ہے، چکن چیسٹ ساڑھے چھ سو، لیگ 400 روپے، کباب 100 روپے کا، ریٹ ان کے اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔‘
شاہد کے مطابق لوگوں کو ان کا ذائقہ پسند آتا ہے اور وہ کھا کے جاتے ہیں پھر دوبارہ آتے ہیں۔



