نئے وزیراعظم پاکستان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ مکمل

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔
- وزیراعظم پاکستان کا انتخاب آج
- وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں شہباز شریف اور عمر ایوب خان مدمقابل
- صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی مدمقابل
- چاروں صوبوں میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب مکمل
3 مارچ صبح 12 بجکر 35 منٹ
نئے وزیراعظم پاکستان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ جاری
عام انتخابات 2024 کے بعد پاکستان کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے جس کی صدارت سپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں۔
اجلاس میں اس وقت نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ ارکان اپنے اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کے لیے مختص کردہ لابیز میں جا رہے ہیں جہاں ان کا ووٹ شمار کیا جائے گا۔
اجلاس کے آغاز پر سپیکر ایاز صادق نے ارکان اسمبلی کو وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار پڑھ کرسنایا جبکہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور مخصوص نشستیں نہ دیے جانے کے معاملے پر احتجاج جاری ہے۔
3 مارچ صبح 11 بجکر 45 منٹ
بیرسٹر گوہر علی خان تحریک انصاف کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان کو تحریک انصاف کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا۔
رؤف حسن کے مطابق ’ہم نے تیسری بار انٹرا پارٹی انتخابات کرائے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین کے لیے چار درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے سکروٹنی کے بعد صرف ایک درخواست منظور ہوئی۔
3 مارچ صبح 11 بجکر 30 منٹ
سنی اتحاد کونسل، پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ پہنچ گئے
قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان، بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحب زادہ حامد رضا بھی پارلیمنٹ پہنچ چکے ہیں۔
3 مارچ صبح 11 بجکر 15 منٹ
نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے
پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد ملک کے اگلے وزیراعظم کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے حکومتی اتحاد کے رہنما پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔
ان رہنماوں میں مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ آصف جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔
3 مارچ صبح 10 بجکر 50 منٹ
مسلم لیگ ضیا کا شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان
مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے وزیراعظم کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کر دیا۔
نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق اعجاز الحق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کی ن لیگ کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے۔ ’ن لیگ نے شہباز شریف کے لیے ووٹ مانگا ہے۔ میں شہباز شریف کو ووٹ دوں گا، دوسری جماعت نے نہ ووٹ مانگا ہے نہ رابطہ کیا ہے۔‘
3 مارچ صبح 10 بجکر 45 منٹ
جمیعت علمائے اسلام کا وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے کا اعلان
جمیعت علمائے اسلام نے وزیراعظم پاکستان کے انتخاب میں کسی امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کا اعلان کر دیا۔
جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نور عالم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزارت عظمی کے لیے شہباز شریف کو ووٹ نہیں دیں گے۔ جے یو آئی ایف ایبسٹین کرے گی۔
صحافی کے سوال ’اگر آپ حصہ نہیں لے رہے تو پھر پارلیمنٹ ہاوس کیوں آئے ہیں؟‘ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی اجلاس شروع نہیں ہوا، اپنے کام سے آیا ہوں۔‘
3 مارچ صبح 7 بجکر 15 منٹ
وزیراعظم پاکستان کا انتخاب آج ہو گا
پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد قومی اسمبلی میں اگلے قائد ایوان کا انتخاب آج ہو گا جس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان مد مقابل ہیں۔
قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 92 اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی 75 نشستیں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی 17 نشستوں پر کامیابی حاصل جبکہ ان جماعتوں کو مخصوص نشستیں ملنے کے بعد ان کی نشستوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔
سنی اتحاد کونسل کو تا حال مخصوص نشستیں ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ ن سمیت، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ، استحکام پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت کئی اور جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی۔
جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کو سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی حمایت حاصل ہو گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جمعرات کو جاری کیا تھا۔
سیکریٹریٹ سے جاری کردہ شیڈول میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی دو مارچ کو دن دو بجے تک وصول کیے جائیں گے، جس کے بعد اسی دن تین بجے تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی۔
گذشتہ روز مقررہ وقت تک پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے عمر ایوب خان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تائید کنندگان کا موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
3 مارچ صبح سات بجکر 05 منٹ
صدر پاکستان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد صدر مملکت کے انتخاب کے لیے حکومتی اتحاد کی طرف سے آصف علی زرداری اور اپوزیشن کی جانب سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایکس پر جاری ایک بیان کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائی کورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے۔
جبکہ سید مراد علی شاہ، قائم علی شاہ، آغا سراج درانی اور شرجیل میمن نے سندھ ہائی کورٹ میں آصف علی زرداری کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما اسد قیصر کی ایکس پوسٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل نے صدارتی انتخاب کے لیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے جو پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




