پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کا عمل جاری

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔
- پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی مریم نواز شریف اور سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب احمد کے درمیان وزارت اعلیٰ کا مقابلہ
- سندھ اسمبلی میں سید مراد علی شاہ اور ایم کیو ایم کے علی خورشیدی وزارت اعلیٰ کے امیدوار
- خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو
26 فروری دن 12 بجکر 6 منٹ
پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری، وزیر اعلی کا انتخاب جلد متوقع
پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی براہ راست کارروائی۔ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے ممبران کا اجلاس سے واک آؤٹ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس نو منتخب سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت جاری ہے۔
پیر کو اجلاس شروع ہوا تو کچھ دیر بعد ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے سپیکر سے بات کرنے کی اجازت مانگی۔
سپیکر نے کہا کہ ’رولز‘ کے تحت انتخاب سے قبل کوئی ممبر بات نہیں کر سکتا اور وہ ریکارڈ پر بھی نہیں آ سکتی۔
اس پر سنی اتحاد کونسل کے نو منتخب اراکین اسمبلی نے نعرے لگائے اور اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ ن کی نامزد امیدوار مریم نواز ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے رانا آفتاب کو نامزد کیا ہے۔
پنجاب اسمبلی آمد سے قبل مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جاتی امرا میں دادا، دادی اور والدہ کی قبروں پر حاضری دی اور پھر اسمبلی کے لیے روانہ ہوئیں۔
دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے رہنما رانا آفتاب کا کہنا ہے کہ اب بھی آمریت کا تسلسل جاری ہے، عوام نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے، سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، ہاؤس مکمل ہی نہیں تو پراسس کیسے چلے گا۔
رانا آفتاب نے دعویٰ کیا کہ اگر ووٹنگ ہو گی تو میں وزیراعلیٰ بنوں گا، اگر آج خفیہ رائے شماری ہوتی تو سب آپ کے سامنے آجاتا۔
26 فروری صبح 11 بجکر 45 منٹ
پنجاب اسمبلی کی تازہ ترین صورت حال
26 فروری صبح 9 بجکر 17 منٹ
مخصوص نشستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا اجلاس آج ہوگا
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ آج (پیر) کو ای سی پی کے اہم اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں مخصوص نشستوں کے کوٹے پر فیصلہ کیے جانے کی توقع ہےگ
یہ معاملہ اس وقت سے اہمیت اختیار کر گیا ہے جب صدر پاکستان عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے میں تاخیر کی ہے۔
دوسری جانب سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) جسے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ نو منتخب امیدواروں کی حمایت حاصل ہے اس امید سے ہے کہ اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا کوٹہ الیکشن کمیشن کے اس سے قبل کیے گئے فیصلے کی نظیر کے طور پر مل جائے گا۔
اگر آج کے اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن نے ایس آئی سی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ کر لیا تو خواتین اور اقلیتوں کے لیے 23 مخصوص نشستیں ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں ایس آئی سی کے ارکان کی تعداد 104 ہو جائے گی۔
اگر فیصلہ مختلف آیا تو ایس آئی سی کا عدالتوں سے رجوع کرنے کا امکان ہے اور اس صورت میں صدر عارف علوی کب قومی اسبلی اجلاس طلب کریں یہ ابھی غیر واضح ہے اور اس سلسلے میں ایوان صدر سے کوئی بیان بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
ای سی پی نے اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے کل 226 مخصوص نشستوں میں سے 78 کی الاٹمنٹ روک دی ہے۔ ای سی پی کے فیصلے کے بعد یہ سیٹیں ایس آئی سی کو جائیں گی۔
ماضی کی نظیر
الیکشن کمیشن عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 21 دن کے اندر بلانے کا پابند ہے۔
سندھ اور پنجاب اسمبلیوں کے افتتاحی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں جبکہ بلوچستان اور کے پی اسمبلیوں کے اجلاس 28 فروری 2024 کو طلب کر لیے گئے ہیں۔
سابق فاٹا میں انضمام کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو کے پی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشست ملنے کی بھی ایک مثال موجود ہے۔
پارٹی نے صوبے میں الیکشن نہیں لڑا، لیکن آزاد امیدواروں نے اس میں شمولیت اختیار کی، بی اے پی کو خواتین کے لیے ایک مخصوص نشست دے دی۔
قومی اسمبلی میں خواتین کی کل 60 مخصوص نشستوں میں سے، ای سی پی نے اب تک 40 مختلف سیاسی جماعتوں کو مختص کی ہیں۔
ان میں پنجاب کے 32 میں سے 20، کے پی کے 10 میں سے دو، سندھ کے تمام 14 اور بلوچستان کے چاروں شامل ہیں۔
اقلیتوں کے لیے مخصوص 10 میں سے سات نشستیں بھی مختص کی گئی ہیں۔
سندھ اسمبلی میں خواتین کے لیے 29 میں سے 27 اور اقلیتوں کے لیے نو میں سے آٹھ نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
کے پی اسمبلی میں خواتین کی 26 مخصوص نشستوں میں سے پانچ اور اقلیتوں کے لیے چار میں سے ایک نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں خواتین کے لیے تمام 11 اور اقلیتوں کے لیے تین مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
26 فروری صبح 8 بجکر 10 منٹ
چارجماعتی اتحاد:17 روز سے ڈی سی آفس کے سامنے جاری دھرنا ختم
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں الیکشن 2024 میں مبینہ دھاندلیوں اور انتخابی نتائج کی مبینہ تبدیلیوں کے خلاف چار جماعتی اتحاد نے ڈپٹی کمشنرآفس کوئٹہ کے سامنے17 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا جس کے بعد ڈی سی آفس کے سامنے روڈ پرٹریفک کی روانی بحال ہو گئی ہے۔
بی این پی، پی کے میپ، نیشنل پارٹی اور ایچ ڈی پی کادھرنا 17روزسے جاری تھا۔
ترجمان چارجماعتی اتحاد کے مطابق 28 فروری کو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے یا دھرنے کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
ترجمان چار جماعتی اتحاد کے مطابق کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے کو ختم کرکے ہفتے میں ایک روز ڈپٹی کمشنر / ڈی آر او دفتر کے سامنے احتجاجی کیا جائے گا، احتجاج کو وسعت دی جائے گی اور صوبے کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے اور جلسے و جلوس ہوں گے۔
اس احتجاجی تحریک کو مزید منظم بنانے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے جلد ہی اجلاس طلب کیا جائے۔
26 فروری صبح 7 بجکر 10 منٹ
پنجاب اور سندھ میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا
پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دونوں صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس آج ہو رہے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار رانا آفتاب احمد خان سے ہو گا۔
صوبہ سندھ میں وزارت اعلیٰ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اور دو بار کے سابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا مقابلہ ایم کیو ایم پاکستان کے علی خورشیدی سے ہو گا۔
گذشتہ روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید اویس شاہ سپیکر اور انتھونی نوید ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے تھے۔
دونوں امیدواروں کو 111، 111 ووٹ ملے تھے۔ ان کے مقابلے میں ایم کیو ایم پاکستان کی صوفیہ شاہ اور راشد خان کو 36، 36 ووٹ ملے تھے۔
دوسری جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے گذشتہ روز مقررہ وقت تک مریم نواز اور رانا آفتاب نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔
مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کے لیے تجویز کنندہ ذیشان رفیق، تائید کنندہ سلمان رفیق، تجویز کنندہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، تائید کنندہ خواجہ عمران نذیر نے جمع کروائے۔
رانا آفتاب نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ میدان نہیں چھوڑنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مخصوص نشستیں نہیں دی جا رہیں اور ہاؤس نامکمل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اچھے نمبرز ہیں اور وہ سرپرائز دیں گے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔



