ایران سے تمام امور پر باہمی اعتماد کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں: پاکستان

پاکستان کے نگران وفاقی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعے کو اپنے ایرانی ہم منصب امیرعبداللہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ تمام امور پر باہمی اعتماد اور تعاون کی روح کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ایکس پر پوسٹ ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے اپنی گفتگو میں سیکورٹی کے معاملات پر قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
Foreign Minister @JalilJilani spoke with the Foreign Minister of Iran, @Amirabdolahian today. Foreign Minister Jilani expressed Pakistan’s readiness to work with Iran on all issues based on spirit of mutual trust and cooperation. He underscored the need for closer cooperation on… pic.twitter.com/BctWkBvnjl
— Spokesperson MoFA (@ForeignOfficePk) January 19, 2024
اس سے قبل آج ہی انہوں نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ مزید کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتا۔
وزارت خارجہ کے ایکس پر جاری ایک مختصر پیغام میں کہا گیا کہ جلیل عباس جیلانی نے ترک ہم منصب سے گفتگو کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ’آپریشن مرگ سرمچار کا مقصد ایران کے اندر دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانا تھا اور پاکستان کو کشیدگی میں بڑھانے کوئی دلچسپی یا خواہش نہیں۔‘
Foreign Minister @HakanFidan of Turkiye called Foreign Minister @JalilJilani to discuss the ongoing developments between Pakistan and Iran. FM shared Pakistan’s perspective and the recent developments. He stated that Pakistan’s Operation Marg Bar Sarmachar was aimed at terrorist… pic.twitter.com/BCzKDHkRPK
— Spokesperson MoFA (@ForeignOfficePk) January 19, 2024
رواں ہفتے پہلے ایران اور اس کے جواب میں پاکستان نے ایک دوسرے کی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد سے دوطرفہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
وزیراعظم انوار الحق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت مختصر کر کے وطن واپس پہنچے ہیں تاکہ ایران سے کشیدگی کی غیر معمولی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس حوالے سے آج اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں ہفتے ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا تھا۔
امریکہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم جیش العدل نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے پاسدان انقلاب نے اس کے ’مجاہدین‘ کے کئی گھروں کو چھ ڈرونز سے نشانہ بنایا، جہاں بچے اور خواتین رہائش پذیر تھیں۔
تنظیم کے مطابق ان حملوں میں دو گھر تباہ ہوئے جہاں مقیم اہلِ خانہ بشمول بچے جان سے جانے والوں اور زخمیوں میں شامل ہیں۔
پاکستان نے اس حملے پر ایران سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کو، جو اُس وقت اپنے ملک میں موجود تھے، اسلام آباد واپسی سے روک دیا۔
ایرانی حملے کے ایک روز بعد پاکستان فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس نے سیستان بلوچستان میں فوجی کارروائی کر کے بلوچ عسکری تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس معلوت کی بنیاد پر ’درست حملے، کلر ڈرونز، راکٹوں، بارودی سرنگوں اور سٹینڈ آف ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے جن کے دوران وسیع نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی۔‘
بیان کے مطابق: ’بلوچستان لبریشن آرمی (بی آر اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نامی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جس کا کوڈ نام مرگ بر سرمچار تھا۔‘
پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعرات کو کہا کہ ’ہم جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے اور جانتے ہیں کہ کچھ دن پہلے ہونے والے حملوں کی وجہ سے صورت حال پیچیدہ ہو گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ ہم ایران سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘
اسلام آباد کے لیے ایران کے سفیر جو اس وقت اپنے ملک میں ہیں، نے بھی جمعرات کو ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’دونوں پڑوسی، دوست اور برادر ممالک، پاکستان اور ایران نے ماضی میں مشکل حالات میں ہمیشہ ایک دوسرے کی حمات کی۔‘
The two brotherly, friendly & neighborly countries of #Iran & #Pakistan have always supported each other in different arena & hard times during the history. With common threats & interests, all-out potentialities & opportunities, the bilateral ties don’t tolerate any lag & delay. pic.twitter.com/Qb8O5bpIGs
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) January 18, 2024
انہوں نے مزید کہا کہ باہمی خطرات اور مفادات کے تناظر میں دوطرفہ تعلقات تناؤ اور تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔



