خبریں

سیاستدانوں کی تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت


آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نا اہلی سے متعلق نوٹس پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا، جس کے دیگر ارکان میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

گذشتہ برس 11 دسمبر کو تاحیات نااہلی کے معاملے پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ ’تاحیات نااہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہو گا۔‘

چیف جسٹس نے مزید کہا تھا کہ ’سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟‘

سپریم کورٹ نے 11 دسمبر کو اٹارنی جنرل اور  تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے وقت یہ واضح کیا تھا کہ ’موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘

عدالت عظمیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا چاہے تو بن سکتی ہے۔‘

میر بادشاہ قیصرانی کیس کیا ہے؟

11 دسمبر 2023 کو اس کیس کی ابتدائی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما میر بادشاہ قیصرانی کے وکیل سے استفسار کیا تھا کہ ان کے موکل کو نااہل کیوں کیا گیا تھا؟‘

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’میر بادشاہ قیصرانی کو گریجویشن کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقعے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں۔‘

چیف جسٹس پاکستان نے مزید استفسار کیا کہ ’نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آ چکا ہے؟‘ وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ’حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کی، جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئی تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا۔ الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ انتخابات سر پر ہیں، لیکن ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے اس موقع پر ریمارکس دیےکہ ’الیکشن ایکٹ کا اطلاق موجودہ انتخابات پر ہوگا، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 کی شمولیت کے بعد تاحیات نااہلی سے متعلق تمام فیصلے غیر موثر ہو گئے۔‘

تاحیات نااہلی کے فیصلے سے متاثر ہونے والے سیاست دان

سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔

 تاہم انہوں نے گذشتہ برس جولائی میں الیکشن ایکٹ میں ہونے والی ترمیم کے بعد آنے والے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں، لیکن پانامہ کیس کا فیصلہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کو 15 دسمبر 2017 کو ان کے حریف حنیف عباسی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

درخواست گزار حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین پر آف شور کمپنی چھپانے اور  جائیداد کی شفاف منی ٹریل نہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ عدالت نے عمران خان کو اہل قرار دیتے ہوئے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا تھا۔

جہانگیر ترین نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں، جو منظور ہو چکے ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button