نظام شمسی کی ساڑھے چار ارب برس پرانی باقیات کا نمونہ ناسا تک پہنچ گیا

نظام شمسی کی دوسری جانب سے سیارچے کا ایک ٹکڑا زمین پر پہنچ گیا ہے جو ناسا کے اوسائرس ریکس مشن کی بڑی کامیابی ہے۔
ناسا کے خلائی جہاز نے کئی سال تک سیارچے ’بینو‘ کی طرف پرواز کی اور اس کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے بعد اسے زمین پر بھیجا تاکہ محققین اس کا مطالعہ کرسکیں۔
سیارے کا نمونہ زمین پر پہنچنے کے بعد وہ مشن مکمل ہے جس میں سات سال لگ گئے۔ خلائی جہاز نے سیارے تک پہنچنے کے لیے چار ارب میل کا سفر کیا۔ اس خلائی مشن پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئی۔
سیارچے کے ان ٹکڑوں سے پتہ چل سکتا ہے کہ ہم کہاں سے آئے۔ سائنس دان اس مواد کا تجزیہ کرنے کے لیے کام شروع کریں گے، اس امید میں کہ پتہ لگایا جا سکے کہ سیارے کیسے بنتے ہیں اور اپنے ماضی بعید میں ہمارا نظام شمسی کیسا تھا۔
ناسا نے 2016 میں اپنا اوسائرس ریکس خلائی جہاز بینو پر بھیجا۔ وہ 2020 میں دور افتادہ سیارچے پر اترا اور اس کا ایک ٹکڑا بطور نمونہ حاصل کیا۔
یہ امریکی خلائی ایجنسی کا کسی سیارچے سے نمونہ جمع کرنے کا پہلا مشن ہے۔ یہ زمین پر پہنچنے والا کسی سیارچے کا اب تک کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
ایک اندازے کے مطابق نمونے لانے والے کیپسول میں سیارچے کی سطح سے لی گئی تقریباً ڈھائی سو گرام چٹانیں اور دھول موجود ہے۔
After a journey of nearly 3.9 billion miles, the #OSIRISREx asteroid sample return capsule is back on Earth. Teams perform the initial safety assessment—the first persons to come into contact with this hardware since it was on the other side of the solar system. pic.twitter.com/KVDWiovago
— NASA (@NASA) September 24, 2023
ناسا 35 سے زیادہ عالمی اداروں کے دو سو سے زیادہ افراد کے ایک گروپ کو نمونے کا ایک چوتھائی حصہ فراہم کرے گا۔ ان لوگوں میں مانچسٹر یونیورسٹی اور نیچرل ہسٹری میوزیم کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم بھی شامل ہے۔
سیارچہ بینو ہمارے ابتدائی نظام شمسی کی ساڑھے چار ارب سال پرانی باقیات ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ سیاروں کی تشکیل اور ارتقا پر روشنی ڈالنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن سے مالا مال اور زمین کے قریب موجود سیارچہ نظام شمسی کی ابتدائی ترین تاریخ کے لیے ٹائم کیپسول کا کام کرتا ہے۔
توقع کی جاتی ہے کہ یہ نمونہ اہم سراغ فراہم کرے گا جو ہمیں اس نامیاتی مادوں اور پانی کے اصل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا جو ہو سکتا ہے کہ زمین پر زندگی کا سبب بنے ہوں۔
چوں کہ نمونہ براہ راست سیارچے سے لیا گیا ہے اس لیے اس میں تقریبا صفر آلودگی ہو گی۔
زمین پر گرنے والے شہاب ثاقب ہماری فضا میں داخل ہونے کے بعد ایک لمحے میں آلودہ ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بینو ہمیں ماضی کی صاف جھلک فراہم کر سکتا ہے۔
نیچرل ہسٹری میوزیم میں یو کے آر آئی کے فیوچر لیڈرز فیلو ایشلی کنگ کا کہنا ہے کہ اوسائرس ریکس نے دو سال سے زیادہ عرصے تک سیارچے بینو کا مطالعہ کیا اور پانی کی وجہ سے کیمیائی طور پر تبدیل ہونے والے نامیاتی مادوں اور معدنیات کے شواہد تلاش کیے۔
’یہ زمین جیسے سیاروں کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے اہم اجزا ہیں۔ اس لیے ہم بینو سے آنے والے نمونوں کا مطالعہ کرنے والے پہلے محققین میں شامل ہونے پر خوش ہیں۔
’ہم سمجھتے ہیں کہ بینو کے نمونے حال ہی میں ونچ کم میں گرنے والے شہاب ثاقب سے ملتے جلتے ہوسکتے ہیں لیکن وہ زمینی ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ تر پاک اور زیادہ قدیم ہوں گے۔‘
یونیورسٹی آف مانچسٹر کے شعبہ ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر سارہ کروتھر کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے چند بہترین سائنس دانوں کے ساتھ کام کرنے والی اوسائرس ریکس سیمپل اینالسس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے منتخب ہونا اعزاز کی بات ہے۔
’ہم آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں نمونے حاصل کرنے، ان کا تجزیہ شروع کرنے اور یہ دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں کہ سیارچہ بینو میں کیا راز پوشیدہ ہیں۔
’ہماری بہت ساری تحقیق شہاب ثاقب پر مرکوز ہے اور ہم اس سے نظام شمسی کی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔‘
لیکن شہاب ثاقب زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے گرم ہو جاتے ہیں۔ وہ کئی سال تک زمین پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مقامی ماحول اور موسم ان کی ساخت اور تاریخ کے بارے میں اہم معلومات کو بدل بلکہ مٹا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اوسائرس ریکس جیسے نمونے ارسال کرنے والے مشن انتہائی اہم ہیں کیوں کہ ان کے بھیجے گئے نمونے قدیم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کس سیارچے سے آئے ہیں اور اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ وہ کبھی (زمین کی) فضا میں نہیں آئے ہوں گے اس لیے اہم معلومات محفوظ ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خلائی جہاز آٹھ ستمبر 2016 کو خلا میں بھیجا گیا اور وہ دسمبر 2018 میں بینو پر پہنچا۔
تقریبا دو سال تک سیارچے کے نقشے تیار کرنے کے بعد اس نے 20 اکتوبر 2020 کو اس کی سطح سے ایک نمونہ حاصل کیا۔
یونیورسٹی آف واروک کے شعبہ طبیعیات کے ماہر فلکیات پروفیسر بورس گینسک کے مطابق: ’ہمارے نظام شمسی میں موجود سیارچوں میں وہ خام بلڈنگ بلاکس موجود ہیں جن سے زمین بنی۔ لہٰذا ان کی ساخت پر کام کرنے سے ہمیں بہت کچھ معلوم ہوگا کہ ہمارا سیارہ کیسے وجود میں آیا۔
’ بہت سے کھلے سوالات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر زمین پر ہمارے پاس جو پانی ہے وہ کہاں سے آیا؟ اور وہ اجزا جنہوں نے زندگی کا ارتقا ممکن بنایا وہ کہاں سے آئے؟
’ان سوالات کا جواب دینے کے لیے یعنی کسی سیارچے کی ساخت کا تجزیہ کرنے کی خاطر آپ کو انہیں ’ہاتھ‘ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وہ کامیابی ہے جو اوسائرس ریکس نے حاصل کی ہے۔
’مختصریہ کہ یہ کام رات کے لذیز کھانے کے سامنے بیٹھنے اور اس کے اجزا کی فہرست حاصل کرنے کی خواہش کرنے کے مترادف ہے۔‘
رپورٹ کی تیاری میں خبر رساں اداروں سے اضافی مدد لی گئی۔



