اُردو ادبافسانہ

سیاہ ریشم کا پردہ / عمران شاہد

شہر کے پرانے سرکاری ہسپتال کی عمارت دور سے یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وقت نے اسے اپنے تھکے ہوئے کندھوں پر اٹھا رکھا ہو۔ دیواروں پر سفیدی کا رنگ جگہ جگہ سے اتر چکا تھا، کھڑکیوں کے جنگلے زنگ آلود تھے، برآمدوں میں بکھری ہوئی دھوپ بھی مریضوں کی طرح بے جان لگتی تھی۔ جون کا مہینہ تھا، ہوا میں گرمی کے ساتھ ایک عجیب قسم کی نمی شامل تھی، جیسے پورا شہر بخار میں پھنسا ہوا ہو اور سانس لیتے ہوئے اپنے اندر کی بھاپ باہر چھوڑ رہا ہو۔ ہسپتال کے لمبے برآمدوں میں دواؤں، پسینے، جراثیم کش محلول اور ابلتی ہوئی بے یقینی کی ملی جلی بو پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف لوگ تھے مگر ہر شخص اپنے دکھ میں اکیلا تھا۔

اسی راہداری میں، جہاں ایک طرف ایمرجنسی کا دروازہ بار بار کھلتا اور بند ہوتا تھا جہاں مریضوں کے عزیز رشتہ دار آ جا رہے تھے تو دوسری طرف ان کی خیر خیریت معلوم کرنے والے سٹیل کے بینچوں پر ان سے ملنے کے منتظر بیٹھے تھے۔ اچانک دو عورتیں آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں ۔ پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاننے میں لمحہ بھر لیا، پھر آنکھوں میں جیسے شناسائی کی برسوں پرانی چمک پیدا ہو گئی اور ان کے چہرے بدل گئے۔ان میں سے ایک ساجدہ بیگم تھی اور اس کے سامنے شمع کھڑی تھی جو کبھی اس کی دیورانی ہوا کرتی تھی۔گھر میں کبھی ایک ہی صحن تھا، ایک ہی چولھا تھا، ایک ہی چھت کے نیچے عیدیں آتی تھیں، جھگڑے ہوتے تھے، بچے کھیلتے تھے، عورتیں ایک دوسرے سے روٹھتی بھی تھیں اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے لیے آٹے میں پانی بھی ڈال دیتی تھیں۔ پھر ایک دن اس کے چھوٹے دیور کا رشتہ ایسا ٹوٹا کہ شمع اپنے بچوں کو لے کر ہمیشہ کے لیے میکے چلی گئی۔

ساجدہ بیگم ہسپتال اپنی بہن کی تیمارداری کے لیے آئی تھی۔ شمع اپنے بڑے بیٹے دانش کے ساتھ آئی تھی، مگر دانش کسی فون کال پر باہر چلا گیا تھا۔ دونوں عورتیں راہداری کے کونے میں ایک ٹوٹی ہوئی بنچ پر بیٹھ گئیں۔ باہر اسٹریچر گزر رہے تھے، اندر ڈاکٹرز کی تیز آوازیں آ رہی تھیں، مگر ان دونوں کے درمیان وقت جیسے پیچھے کی طرف چلنے لگا۔

“تم تو بہت بدل گئی ہوشمع۔” ساجدہ نے آہستہ سے کہا۔

شمع نے خشک ہنسی ہنسی۔ “تم بھی تو پہلے جیسی نہیں رہیں۔”

“بچے بڑے ہو گئے؟”

“ہاں، سب اپنے اپنے راستے پر ہیں۔ دانش کاروبار کرتا ہے۔ نبیلہ کی شادی ہو گئی۔ رومانا سب سے چھوٹی ہے، وہ گھر پر ہوتی ہے۔ ”

ساجدہ بیگم نے دلچسپی سے اس کی طرف دیکھا۔ “رومانا؟ وہی نا جو جاتے وقت تمہاری گود میں تھی ؟”

شمع کی آنکھوں میں نرمی آئی۔ “ہاں، وہی۔ اب تو خیر سے بڑی ہو گئی ہے، پہچان بھی نہیں پاؤ گی۔ ”

ساجدہ بیگم کے دل میں اپنے بڑے بیٹے عمیر کا خیال آیا جو اب تیس برس کے قریب تھا۔ تعلیم مکمل کر کے ایک سائبر سکیورٹی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ مگر مناسب رشتہ نہیں مل رہا تھا۔
“میرا عمیر بھی اب بڑا ہو گیا ہے،” ساجدہ بیگم نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “لڑکی دیکھتے دیکھتے آنکھیں تھک گئیں۔ کہیں گھر پسند نہیں آتا، کہیں لوگ، کہیں بات بنتے بنتے رہ جاتی ہے۔”

شمع نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر کچھ ایسا آیا جیسے کوئی بھولی ہوئی چیز اچانک یاد آ گئی ہو۔

“تو پھر پریشان کیوں ہوتی ہو؟ میری رومانا ہے نا۔”

ساجدہ بیگم چونک پڑی۔ بات اچانک تھی، مگر اس میں ایک عجیب کشش بھی تھی۔ جیسے کسی نے پرانے، بند کمرے کی کھڑکی کھول دی ہو اور تازہ ہوا اندر آنے لگی ہو۔

“رومانا؟” اس نے جیسے خود سے پوچھا۔

“ہاں، رومانا۔ دیکھو، جو رشتے ماضی میں بکھر گئے تھے، شاید وقت انہیں کسی اور شکل میں جوڑنا چاہتا ہو۔ تمہارا بیٹا، میری بیٹی۔ دونوں گھر پھر سے مل جائیں گے، آخر رومانا ہے تو اسی خاندان کی ۔ پرانی تلخیاں بھی شاید اسی بہانے دفن ہو جائیں۔”

ساجدہ بیگم خاموش رہی۔ ہسپتال کی راہداری میں مریضوں کی آوازیں، دواؤں کی بو، نرسوں کے قدم، سب کچھ ایک دم دور سا لگنے لگا۔ اسے یاد آیا کہ شمع جب گئی تھی تو گھر میں کتنی باتیں ہوئی تھیں۔ کس نے کس کا ساتھ دیا، کس نے کس کو غلط کہا، کس نے کس کے بارے میں زہر اگلا۔ مگر یہ بھی سچ تھا کہ وقت نے سب کو تھکا دیا تھا۔ مگر اس کے دیور کے فوت ہو جانے کے بعد سب کچھ اچانک تھم گیا ہو۔

“عمیر اور اس کے باپ سے بات کرنی ہوگی،” ساجدہ نے کہا۔

شمع نے سر ہلایا۔ “ضرور کرو۔ اور رومانا سے بھی میں بات کروں گی۔ اب زمانہ پہلے والا نہیں رہا۔ لڑکی کی مرضی پوچھنا ضروری ہے۔”

گھر واپس آتے ہوئے ساجدہ بیگم کے دل میں عجب ہلچل تھی۔ ہسپتال کے باہر چائے والے کے اسٹال سے اٹھتی بھاپ، رکشوں کا شور، دھول، گرمی، سب کچھ معمول کے مطابق تھا مگر اسے لگ رہا تھا کہ دنیا نے اچانک اپنا رخ بدل لیا ہے۔ وہ کئی بار سوچتی کہ شمع کے گھر سے دوبارہ رشتہ جوڑنا عقل مندی ہے یا نہیں۔ خاندان میں لوگ کیا کہیں گے؟ مگر پھر عمیر کا چہرہ یاد آتا، اس کی خاموشی، اس کی عمر، اس کا مستقبل، اور دل میں ایک دھیمی امید بنتی جاتی۔

رات کو جب عمیر کام سے واپس آیا تو گھر کے اندر ایک غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ باپ صحن میں چارپائی پر بیٹھا تھا۔ ساجدہ بیگم نے کھانا لگانے سے پہلے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ عمیر نے ماں کی طرف دیکھا، پھر باپ کی طرف۔ دونوں کے چہرے کچھ نئی کہانی سنا رہے تھے۔

“بیٹا،” اس کے ابو نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا، “آج ہسپتال میں تمہاری امی کی ملاقات تمہاری چچی شمع سے ہوئی تھی ۔”

عمیر نے نام سنا تو اسے بس دھندلی سی یاد آئی۔ بچپن میں کبھی اس نام پر گھر میں باتیں ہوتی تھیں۔

ساجدہ بیگم نے آہستہ آہستہ ساری بات بتائی۔ عمیر سنتا رہا اور کچھ بولا نہیں۔ اس نے رومانا کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔

“بیٹا، بات صرف رشتے کی نہیں۔ کبھی کبھی ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے سے گھروں کے اندر کی کڑواہٹ بھی کم ہو جاتی ہے۔ لیکن فیصلہ تمہارا ہو گا۔ اس کے ابو نے عمیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”

“جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔” اس نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا۔

چند ہفتوں میں بڑوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلے احتیاط سے بات چلی، پھر رشتے پر بات ہونے لگی ۔ پرانی تلخیاں گفتگو میں آئیں بھی تو انہیں فوراً ہٹا دیا گیا۔ شمع کے گھر والوں نے کہا کہ وہ ماضی بھول چکے ہیں۔ عمیر کے گھر والوں نے بھی یہی کہا۔ دونوں طرف عزت، رشتہ داری، نئے آغاز، بچوں کی خوشی اور بدلتے زمانے کی باتیں ہوئیں اور پھر رشتہ طے ہو گیا۔

نکاح سادگی سے ہوا۔رخصتی کا دن آیا تو گھر میں صبح سے چہل پہل تھی۔ عورتوں کے کمروں میں مہندی، چوڑیوں، کپڑوں اور خوشبوؤں کی دنیا آباد تھی۔ مرد باہر انتظامات میں لگے ہوئے تھے۔ عمیر نے سفید شیروانی پہنی تو ماں نے اس کی پیشانی چوم لی ۔ اس کے ابو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور صرف اتنا کہا، “اللہ خوش رکھے۔” ان کی آواز میں دعا تھی۔

بارات روانہ ہوئی ، رسمیں ہوئیں، کھانا کھایا گیا، مبارک بادیں ملیں۔ دلہن رخصت ہوئی اور رات ڈھلنے سے پہلے عمیر کے گھر آ گئی۔ گھر کے اندر عورتوں کا شور تھا، باہر مرد مہمانوں کی تواضع کر رہے تھے۔ عمیر اپنے دوستوں اور کزنز کے ساتھ گھر کے باہر کھڑا تھا۔ اس کے اندر ایک بے قراری تھی۔ وہ جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد وہ پہلی بار رومانا کو دیکھے گا۔ یہ خیال اس کے دل میں روشنی کی طرح پھیل رہا تھا ۔اچانک وہاں اس کا سالا دانش اپنے دوستوں کے ہمراہ آیا۔ عمیر نے اسے دیکھا تو فوراً آگے بڑھا۔ “آئیں دانش بھائی۔ کھانے پینے کا انتظام کرواتا ہوں۔”

دانش نے ہاتھ کے اشارے سے بات کاٹ دی۔ “میں یہاں کھانے پینے نہیں آیا۔ اپنی بہن سے ملنے آیا ہوں ابھی۔”

اس نے نرمی سے کہا، “ضرور ملیں۔ ابھی میں اندر کہلوا دیتا ہوں کہ عورتیں ایک طرف ہو جائیں، پھر آپ آرام سے مل لیجیے گا”

دانش کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ “تم مجھے میری بہن سے ملنے سے روک رہے ہو؟”

“روک نہیں رہا، بھائی۔ بس اندر اچانک چلے جانا مناسب نہیں ہوگا، گھر میں پردہ دار مہمان عورتیں موجود ہیں۔”

مگر دانش اس بات پر بپھر گیا اور عمیر سے بدتمیزی کرنے لگا۔ اس کے دوست بھی ساتھ کھڑے ہو گئے۔ عمیر کے کزنز آگے بڑھے۔ لفظ تلخ ہوئے، پھر سخت، پھر گالیوں کی حد تک پہنچے۔ عمیر نے ایک دو بار ہاتھ جوڑ کر بات سنبھالنے کی کوشش کی مگر دانش جیسے سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔

آخر عمیر کے بوڑھے باپ نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا، اندر عورتیں ہیں۔ تھوڑی دیر صبر کر لو، ہم خود ملوا دیتے ہیں۔ شادی کا گھر ہے، بات بڑھانا ٹھیک نہیں۔”

دانش نے ان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں احترام نہیں تھا۔ “انکل، میری بہن کی شادی آپ سے نہیں، آپ کے بیٹے سے ہوئی ہے۔ میں اسی سے بات کروں گا۔”

عمیر کے باپ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اگلے لمحے دانش اسے دھکا دیا۔ عمیر کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے باپ کو نہیں، اس کی درس گاہ کو دھکیل دیا ہے۔

پھر کچھ بھی قابو میں نہ رہا۔ عمیر آگے بڑھا۔ اس کے کزنز نے دانش کو پکڑا۔ اس کے دوست بھی کود پڑے۔ چیخیں، گالیاں، دھکے، مکے، بھاگتے ہوئے قدم، گرتی ہوئی کرسیاں، اور ان سب کے بیچ ایک سفید شیروانی جس پر اچانک سرخ دھبہ پھیل گیا۔ کسی کے ہاتھ میں لوہے کی کوئی چیز تھی یا زمین سے اٹھا پتھر، کسی کو ٹھیک سے معلوم نہ ہو سکا۔ دانش کے سر سے خون نکلا تو اندر سے عورتوں کی چیخیں بلند ہوئیں۔ شادی کے گیت اچانک ماتم کی آوازوں میں بدل گئے۔

دانش خون میں لت پت غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس نے دلہن کے ساتھ آئی ہوئی تمام عورتوں کو بلایا۔ وہ سب ہڑبڑاتی ہوئی باہر آئیں۔ کسی نے سمجھانے کی کوشش کی، کسی نے روکا، مگر دانش انہیں لے کر چلا گیا۔ عمیر دروازے پر کھڑا دیکھتا رہا۔ اس کی شیروانی پر خون تھا، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور گھر کے اندر اس کی دلہن عروسی لباس میں بیٹھی تھی۔ اس نے ابھی تک اسے دیکھا نہیں تھا۔

شام رات میں بدل گئی۔ مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہو گئے۔ گھر کا شور تھکن، پریشانی اور شرمندگی میں ڈوب گیا۔ عمیر مردانے میں بیٹھا تھا۔ دوست اسے تسلی دیتے تھے مگر وہ ان کی باتیں نہیں سن رہا تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار وہ منظر آتا، باپ کا دھکیلنا، دانش کا خون، اور اندر بیٹھی رومانا جس تک پہنچنے سے پہلے ہی رشتے کی پہلی دیوار خون سے رنگ گئی تھی۔

رات کچھ گہری ہوئی تو اسے باپ کا فون آیا۔ “عمیر بیٹا، جلدی گھر آ جاؤ۔ تمہارے سسر آئے ہیں۔”

عمیر کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ فوراً گھر گیا۔اس کے سسربیٹھک میں بیٹھے تھے۔ فضا سوگوار تھی۔ رومانا اندر اپنے کمرے میں عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن بنی بیٹھی تھی ۔

رومانا کے والد نے ہاتھ جوڑ دیے۔ “بیٹا عمیر، میں ایک گزارش لے کر آیا ہوں۔ شمع کی طبیعت رخصتی کے بعد سے خراب ہے۔ رومانا اس کی لاڈلی بیٹی ہے۔ جھگڑے کی وجہ سے اس کی حالت اور بگڑ گئی۔ چند گھنٹوں کے لیے رومانا کو میرے ساتھ بھیج دو۔ وہ ماں کو دیکھ آئے گی، پھر واپس آ جائے گی۔”
عمیر نے باپ کی طرف دیکھا۔ “ابا جان، مجھے نہیں لگتا اس ماحول میں اسے وہاں بھیجنا ٹھیک ہوگا۔ باقی آپ جو بہتر سمجھیں۔”

اس کے باپ نے صلح جوئی سے کہا۔ “بیٹا، جو ہوا اسے بھول جاؤ۔ تمہاری ساس بیمار ہے۔ دلہن چند گھنٹوں کے لیے جا رہی ہے، ماں سے مل کر واپس آ جائے گی۔”

عمیر خاموش ہو گیا۔ جب رومانا کو گاڑی میں بٹھایا جا رہا تھا، عمیر دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔ سرخ عروسی لباس کا صرف ایک گوشہ اسے دکھائی دیا، پھر وہ بھی کار کے دروازے کے اندر چھپ گیا۔ اس نے باپ کے کان میں آہستہ سے کہا، “ابا، سب کچھ آپ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ مگر میرا دل کہتا ہے، اگر یہ آج چلی گئی تو کبھی واپس نہیں آئے گی۔”

باپ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “ایسا کچھ نہیں ہوگا بیٹا۔ صبر رکھو۔”

گاڑی چلی گئی۔ گھر کے باہر سڑک پر اس کے ٹائروں کی آواز کچھ دیر تک سنائی دیتی رہی، پھر وہ بھی رات میں گم ہو گئی۔ رات لمبی ہوتی گئی ۔ گھڑی کی ٹک ٹک کمرے میں ہتھوڑے کی طرح بجتی رہی۔ عمیر کبھی بیٹھتا، کبھی اٹھتا، کبھی دروازے تک جاتا، پھر واپس آ جاتا۔ ہر گزرتا منٹ اسے اس کے اپنے اندیشے کی طرف دھکیل رہا تھا۔
رات گزر گئی اور رومانا واپس نہیں آئی۔ صبح صبح عمیر کا باپ دلہن کو لینے چلا گیا۔عمیر بے صبری سے انتظار کرنے لگا۔ چند ہی گھنٹوں بعد اس کا باپ خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اس کے چہرے پر شکست لکھی ہوئی تھی۔اس نے عمیر کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “بیٹا، تم ٹھیک کہہ رہے تھے۔ وہاں کوئی بیمار نہیں ہے۔ تمہارے سسر ال کی ضد ہے کہ عمیر ہی ہمارے گھر آؤ گے، سب کے سامنے معافی مانگے،پھر وہ سوچیں گے لڑکی بھیجنی ہے یا نہیں۔”

عمیر کو خاموشی لگ گئی۔ تین مہینے گزر گئے مگر رومانہ واپس نہ آئی۔ برادری کے بزرگ کئی بار اکٹھا ہوئے مگر بات نہ بنی۔آخر ایک دن عمیر نے اپنی ساس کو فون کیا“چچی، میں عمیر بول رہا ہوں۔ میں اپنی بیوی کو لینے کے لیے آنا چاہتا ہوں۔”

شمع کی آواز سرد تھی۔ “یہ سب باتیں اب فضول ہیں۔ تم جو چاہتے ہو، وہ اب نہیں ہوگا۔ بس آؤ اور ہماری بیٹی کو طلاق دے دو۔”

یہ الفاظ عمیر کے اندر گرے تو جیسے کسی نے اس کے سینے میں رکھا آخری چراغ بھی بجھا دیا ہو ۔ وہ باپ کے پاس گیا۔ “ابا، میں آج سسرال جا رہا ہوں۔ یا تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آؤں گا یا سب کچھ ختم کر کے آؤں گا۔”
وہ گھر سے نکلا تو دوپہر ڈھل رہی تھی۔ گلیوں میں دھوپ کی شدت کم ہو چکی تھی مگر زمین ابھی گرم تھی۔ راستے بھر اس کے ذہن میں ایک ہی بات گھومتی رہی۔ وہ رومانا سے ملے گا۔ وہ اس سے پوچھے گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اگر وہ کہے گی کہ چلنا ہے تو وہ سب سے لڑ جائے گا۔ اگر وہ کہے گی کہ نہیں، تو پھر کچھ باقی نہ رہے گا۔

شمع کے گھر پہنچ کر اسے اندر نہیں لے جایا گیا۔ ایک الگ بیٹھک میں بٹھایا گیا جہاں دیواروں پر پرانی تصویریں تھیں، ایک کونے میں مصنوعی پھولوں کا گلدان رکھا تھا اور چھت کا پنکھا گھومتے ہوئے بھی گرمی کم نہیں کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی ساس شمع آئی۔ اس کے چہرے پر نہ پشیمانی تھی نہ نرمی۔ وہ سامنے بیٹھ گئی۔

“ہاں، تو تیار ہو طلاق دینے کے لیے؟”

عمیر نے اسے دیکھا۔ “میں تیار ہوں یا نہیں، اس سے آپ لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ لوگ تو فیصلہ کر چکے ہیں۔ مگر میری ایک شرط ہے۔ طلاق سے پہلے میں رومانا سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔”

شمع نے فوراً انکار کیا۔ پھر دانش آ گیا۔ اس نے کہا، “ضروری نہیں کہ تم ملو۔ جو بات کرنی ہے، ہمارے سامنے کرو۔”

عمیر نے پہلی بار ضد کی۔ “نکاح میرا ہوا تھا۔ طلاق مجھ سے مانگ رہے ہو۔ جواب بھی میں اسی سے سنوں گا۔ بس ایک بار۔”

کافی بحث کے بعد وہ مان گئے، مگر یہ ماننا بھی مکمل نہ تھا۔ عمیر کو ایک دوسرے کمرے میں لے جایا گیا۔ کمرہ نیم تاریک تھا۔ کھڑکی پر موٹا پردہ پڑا تھا، اور عین درمیان میں ایک سیاہ ریشمی پردہ لٹک رہا تھا۔ پردہ اتنا گہرا تھا کہ روشنی بھی اس سے گزر کر تھک جاتی تھی۔ اس کا کپڑا ہلکا سا چمک رہا تھا، جیسے اندھیرے نے ریشم کا لباس پہن لیا ہو۔

“بیٹھ جاؤ،” دانش نے کہا۔

عمیر پردے کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد دانش نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں کسی کے قدموں کی چاپ ابھری اور کوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔ یقیناً وہ رومانا تھی۔

“رومانا،” عمیر نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، “میں نے آج تک تمہارا چہرہ نہیں دیکھا۔ آج پہلی بار تم سے بات کر رہا ہوں۔ مجھے صرف اتنا بتا دو کہ یہ طلاق تم اپنی مرضی سے لے رہی ہو یا تمہیں مجبور کیا جا رہا ہے؟ اگر تم مجبور ہو تو کہہ دو۔ میں سب سے لڑ جاؤں گا۔ مجھے کسی کی پروا نہیں۔ مجھے صرف تمہارا جواب چاہیے۔”

ریشمی پردے کے پیچھے کچھ لمحے خاموشی رہی۔پھر آواز آئی۔

“میں اپنی مرضی سے طلاق چاہتی ہوں۔”

عمیر نے آنکھیں بند کر لیں جیسے اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ہو۔

اس نے پھر کہا، “رومانا، ایک بار سوچ لو۔ صرف ایک بار کہہ دو کہ تم سچ بول رہی ہو۔”

پھر وہی آواز ابھری۔

“میں واپس نہیں آنا چاہتی عمیر، مجھے طلاق چاہئے۔”

عمیر کے لئے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں گواہ بلائے گئے۔ کاغذ رکھا گیا۔ لوگوں کی موجودگی میں طلاق کے الفاظ ادا ہوئے اور رومانا ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو گئی۔ کمرے میں لوگ موجود تھے مگر وہ اکیلا تھا۔ پردہ اب بھی لٹک رہا تھا۔سب باہر نکلنے لگے تو عمیر نے ایک آخری بار پردے کی طرف دیکھا۔ اس کے دل میں ایک کمزور خواہش اٹھی کہ وہ اسے ہٹا دے۔ بس ایک بار دیکھ لے کہ جس آواز نے اسے چھوڑا ہے، اس کے چہرے پر کیا لکھا ہے۔

مگر دانش دروازے پر کھڑا تھا اور وہ ایسا نہ کر سکا۔ عمیر گھر واپس آیا اور وقت خاموشی سے گزرنے لگا۔ اس کے باپ کے چہرے پر مستقل ندامت اتر آئی تھی۔ وہ کبھی کبھی عمیر کے پاس بیٹھتے مگر بات نہیں کر پاتے۔ اس کی امی ساجدہ بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی اور چپکے سے آنسو پونچھ لیتی۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے بیٹے کے لیے رشتہ چنا تھا، مگر اس کے حصے میں ایک ایسا زخم آیا جس پر کوئی ماں مرہم نہیں رکھ سکتی تھی ۔جیسے تیسے انہوں نے عمیر کو دوسری شادی کے لئے منا لیا تھا اور یوں دو سال بعد اس کی شادی ہو گئی۔ اس کی بیوی نرگس ایک سمجھ دار اور سنجیدہ عورت تھی ، اس نے آ کے عمیر کو سنبھال لیا تھا اور زندگی دھیرے دھیرے گزرنے لگی۔
اسی سال گاؤں میں اس کے قریبی دوست کی شادی تھی۔ گاؤں کا گھر روشنیوں سے سجا ہوا تھا۔ صحن میں رنگ برنگے شامیانے لگے تھے، دیگیں پک رہی تھیں، بچے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، عورتوں کے حصے سے ڈھولک اور گیتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ عمیر شادی کے انتظامات میں مصروف تھا۔ وہ مہمانوں کو بٹھاتا، کھانے کا خیال رکھتا، دوست کے بھائیوں کو ہدایات دیتا۔ اس کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی تھی۔پھر اچانک اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے گردن گھمائی۔ زنان خانے میں ایک عورت کھڑی تھی۔ اس نے ہلکے زرد کا رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ چہرہ مکمل طور پر کھلا نہیں تھا، مگر آنکھیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ عمیر کو ہی دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی آنکھیں ملیں تو عورت نے فوراً نظریں جھکا لیں، جیسے پکڑی گئی ہو۔ عمیر نے اسے نہیں پہچانا۔ مگر اس کے دل میں بے سبب ایک دھڑکن تیز ہوئی۔

کچھ دیر بعد ایک عورت اس کے پاس آئی۔ وہ خاندان کی دور کی رشتہ دار تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “اسے پہچانا نہیں؟”

عمیر نے حیرت سے پوچھا، “ نہیں۔۔کون ہے وہ ؟”

“رومانا ہے۔ آپ کی سابقہ بیوی۔”

یہ سنتے ہی عمیر کے پاؤں کے نیچے کی زمین جیسے ہل گئی۔ اس نے دوبارہ اس طرف دیکھا مگر رومانا وہاں نہیں تھی۔ برسوں بعد جس وجود کو اس نے صرف نام، آواز اور پردے کے پیچھے ایک غیر موجود سائے کی صورت جانا تھا، وہ آج اچانک گوشت پوست کا چہرہ بن کر اسی دنیا میں کھڑا تھا۔ یہ عجیب تھا کہ اس نے اپنی سابقہ بیوی کو پہلی بار طلاق کے کئی سال بعد دیکھا تھا۔اس کا حلق خشک ہو گیا۔ وہ وہاں سے ہٹ گیا اور ایک کونے میں جا کر کھڑا ہو گیا جہاں روشنی کم تھی۔ باہر ڈھولک کی آواز آ رہی تھی مگر اس کے اندر سیاہ پردے والا کمرہ دوبارہ آباد ہو چکا تھا۔ وہ آواز، “میں اپنی مرضی سے طلاق چاہتی ہوں”، دوبارہ کانوں میں گونجی۔ اس نے اپنی مٹھی بند کر لی۔ اسے لگا جیسے اصل واقعہ ابھی ابھی ہوا ہے۔کچھ دیر بعد اس کا کزن اس کے پاس آیا، جو اس کا رازدار بھی تھا۔ اس کے چہرے پر جھجک تھی۔

“یار عمیر، ایک بات کہوں؟”

“کہو۔”

“رومانا تمہارا نمبر مانگ رہی ہے۔”

عمیر نے کزن کی طرف دیکھا۔ “اب کیا فائدہ؟ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔”

کزن نے آہستہ سے کہا، “شاید کوئی ضروری بات کرنا چاہتی ہو، سن لو۔ بعض باتیں دیر سے بھی سنی جائیں تو دھول چھٹ جاتی ہے۔ ”

عمیر نے کچھ دیر سوچا۔ اس کے اندر غصہ تھا، تجسس تھا، ایک پرانی محبت کا دھواں تھا جسے وہ سالوں پہلے بجھا ہوا سمجھتا تھا۔ آخر اس نے سر ہلا دیا۔ “دے دو۔”

چند منٹ بعد اس کے فون پر نامعلوم نمبر چمکا۔ اس نے اسکرین کو دیکھا۔ انگلی کال اٹھانے سے پہلے کچھ دیر رکی رہی، پھر اس نے فون کان سے لگا لیا۔

“کیسے ہو عمیر؟ اور زندگی کیسی گزر رہی ہے؟” دوسری طرف سے نسوانی آواز آئی۔

عمیر کے بدن میں ایک جھٹکا سا لگا۔ یہ آواز وہ نہیں تھی۔ یہ وہ سپاٹ، سرد، ہموار آواز نہیں تھی جو سیاہ پردے کے پیچھے سے آئی تھی۔ یہ آواز نرم تھی، تھکی ہوئی تھی، جیسے کسی نے اسے برسوں تک سینے میں دبا کر رکھا ہو ۔

“بس جی رہے ہیں،” عمیر نے سرد لہجے میں کہا۔ “

دوسری طرف خاموشی ہوئی، پھر آواز آئی، “عمیر، ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔”

عمیر کے اندر کا زخم یک دم کھل گیا۔ “کبھی نہیں۔ تم لوگوں نے میرے ساتھ جو کیا، میرے بوڑھے باپ کا تماشا بنایا ، اس کے بعد معافی کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔”

فون کے اس پار سسکی ابھری۔ “میری بات سن لو۔ صرف ایک بار۔”

“کیا سنوں؟ تمہارے منہ سے طلاق کا مطالبہ سنا تھا، وہ کافی نہیں تھا کیا؟ ”

“وہ میں نہیں تھی، عمیر۔”

عمیر کو جیسے چپ سی لگ گئی۔ اسے لگا کسی نے اس کے سینے میں ہاتھ ڈال کر دل کو روک دیا ہے۔

“کیا؟”

“خدا کی قسم، اس دن سیاہ پردے کے پیچھے میں نہیں تھی۔”

عمیر نے دانت بھینچے۔ “پھر کون تھا؟”

رومانا کچھ لمحے خاموش رہی۔

“ میری چھوٹی بہن تھی۔ میں تو دوسرے کمرے میں بند تھی۔ میں دروازہ پیٹ رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ”

عمیر کی آنکھوں کے سامنے شادی کا صحن، بیٹھک، سیاہ پردہ، سب کچھ ایک ساتھ گھوم گیا۔

“تم جھوٹ بول رہی ہو رومانا،” اس نے کہا، مگر اس کی آواز میں یقین کم اور خوف زیادہ تھا۔ “اگر ایسا تھا تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ ایک فون؟ ایک پیغام؟ کچھ تو کر سکتی تھیں۔”

رومانا کی آواز میں بے بسی تھی۔ “فون میرے پاس نہیں رہنے دیتے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا بند تھا۔ میری ہر حرکت پر نظر تھی۔ میں اس وقت اتنی ڈر گئی تھی کہ خود کو بھی نہیں بچا سکی۔ تم شاید سمجھ نہیں سکتے کہ ایک لڑکی اپنے ہی گھر میں کتنی آسانی سے قید ہو سکتی ہے۔ میں نے بہت کوشش کی۔ ایک خط لکھا تھا۔ وہ بھی پکڑا گیا۔ پھر تمہاری شادی کی خبر ملی۔ اس دن مجھے لگا کہ اب میرا کہنا یا نہ کہنا ایک جیسا ہے۔

عمیر نے دیوار سے ٹیک لگا لی۔ اس کے اندر ہلچل سی مچ گئی ۔
“اب کیوں آئی ہو؟” اس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

“کیونکہ اب دانش نہیں رہا۔”

عمیر چونک گیا۔

“چھ ماہ پہلے اس کا انتقال ہو گیا۔ میں تمہیں سچ بتانا چاہتی تھی۔ معافی مانگنی تھی۔ شاید اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ شاید یہ بتانا تھا کہ میں نے تمہیں کبھی چھوڑا نہیں تھا۔ مجھے تم سے جدا کیا گیا تھا۔ اب بس معافی مانگنے آئی ہوں… پلیز معاف کر دو، اور کبھی کبھی مجھ سے فون پر بات کر لیا کرو۔”””

عمیر کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔ “اب تم کسی اور کی بیوی ہو۔ میں کسی اور کا شوہر ہوں۔ اب اس سچ کا کیا کریں؟

دوسری طرف رومانا نے آہستہ سے کہا، “مجھے نہیں معلوم۔ اسی لیے تو تم سے بات کر رہی ہوں۔ میں کچھ مانگنے نہیں آئی۔ بس چاہتی ہوں کہ تمہیں معلوم ہو، تمہیں جس آواز نے توڑا تھا، وہ میری آواز نہیں تھی۔ ”

عمیر کے پاس جواب نہ تھا۔ اسے یہ بات عجیب، خطرناک اور تکلیف دہ لگی۔ ایک ایسی لکیر تھی جس کے ایک طرف جائز رشتے تھے، دوسری طرف وہ احساسات جو قانون اور رسم کے بعد بھی زندہ رہ جاتے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی صرف دل کے سچ سے نہیں چلتی، مگر یہ بھی جھٹلانا مشکل تھا کہ کچھ سچ دل میں رہ کر بھی آدمی کی پوری زندگی کا رنگ بدل دیتے ہیں۔

فون بند ہوا تو عمیر دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ شادی کے گھر کی روشنیوں میں اسے سیاہ ریشم کا پردہ دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ دیر بعد رومانا سامنے آ گئی۔ اس کے ساتھ ایک مرد تھا، اس کا شوہر۔ وہ متوسط قد کا سنجیدہ آدمی تھا۔ چہرے پر تجسس تھا ۔ رومانا اس کے ساتھ کھڑی تھی، مگر اس کی آنکھیں عمیر پر تھیں۔ عمیر نے پہلی بار اسے پوری طرح دیکھا۔

رومانا کے شوہر نے ہاتھ بڑھایا۔ “تو آپ عمیر ہیں؟ رومانا نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا ہے۔”

عمیر نے ہاتھ ملایا۔ اس کے پاس لفظ کم پڑ گئے۔ وہ سامنے کھڑے اس مرد کو دیکھ رہا تھا جو رومانا کا موجودہ شوہر تھا، اور رومانا کو دیکھ رہا تھا جو اس کے اپنے ماضی کی زندہ گواہی تھی۔ عمیر نے پہلی بار اس مرد کو غور سے دیکھا۔ اس میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ شاید رومانا نے سچ کہہ دیا تھا۔ شاید اس مرد نے اسے سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ شادی کے گھر میں ڈھولک پھر تیز ہو گئی۔ بچے پٹاخوں کے پیچھے بھاگے۔ روشنیوں کے بلب ہوا میں ہلنے لگے۔ کہیں سے قہقہہ بلند ہوا۔ دنیا معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ صرف عمیر کے اندر وقت رک گیا تھا۔
تو آپ ہی عمیر ہیں؟ جس کا ذکر رومانا ہر وقت کرتی رہتی ہے۔” رومانا کے شوہر نے پر تجسس لہجے میں کہا ۔عمیرخاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا، لفظ اس کے اندر کہیں اٹک گئے تھے۔ وہ سوچے جا رہا تھا کہ محبت کی جس کہانی سے وہ خود کو باہر سمجھ رہا تھا وہ تو دس برسوں سے اسی کے اندر ہی تھا، ایک ایسا کردار بن کر جس نے پوری کہانی کو روک رکھا تھا مگر کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔بلکہ اب تو ایسے مقام پر آ گئی تھی جہاں سبھی کردار ایک ہی فریم میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ رومانا خاموش مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی اور عمیر کو یوں لگا جیسے اب بھی رومانا اور اس کے درمیان سیاہ ریشم کا پردہ لٹک رہا ہو، جس کے پیچھے برسوں سے محبت کی ایک ہی کہانی چل رہی تھی۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x