
غزل
عنبرین خان
محبتوں سے جڑی آگہی سے ڈرتے ہیں
ہم اپنے خواب کی صورت گری سے ڈرتے ہیں
ہمارا اس لیے تنہائی سے ہے سمجھوتا
کسی کے ساتھ بھی وابستگی سے ڈرتے ہیں
چلے نہ اس لیے بھی تھام کر کسی کا ہاتھ
کہ ہم سفر سے نہیں گمرہی سے ڈرتے ہیں
ہے خوب تیری طبیعت سے آشنائی ہمیں
سو کج روی کبھی وارفتگی سے ڈرتے ہیں
یہاں پہ کہہ نہیں سکتا کوئی غلط کو غلط
صداقتوں کے امیں منصفی سے ڈرتے ہیں
اگرچہ خوش ہوئے ہم اپنی بازیافت کے بعد
تمہیں ملے ہیں تو خود رفتگی سے ڈرتے ہیں
مفاہمت سے علاقہ ہے عنبرین مگر
یہ سوچنا بھی غلط ہے کسی سے ڈرتے ہیں



