اُردو ادبکہانی

میں خود کو آزماؤں گی / ریحانہ عثمانی ،لاہور

ہوائیں  موسم کی تبدیلی کا عندیہ دے رہی تھیں  خوشگوار احساس  زندگی کو مزید خوبصورت  بنا رہا تھا کسی ماہر نفسیات نے انسانی زندگی پر مرتب اثرات کا سبب  موسم کو بھی  قرار دیا تھا کہ موسم کے مطابق انسان کا مزاج بدلتا ہے  خزاں رسیدہ موسم انسان کو  اداس  کر دیتا ہے اور بہار مزاج پر نہایت خوشگوار  اثرات مرتب کرتی ہے  لیکن ایک موسم انسان کے اندر کا بھی ھوتا ہے جو اسے ہر لحظہ اپنےمطابق ہی رکھتا ہے عینی بھی ایسے ہی موسموں  کی پروردہ تھی اس کا موسم سدا خوشگوار  رہتا تھا خزاں میں پتوں کے جھڑنے کی آواز کو وہ پتوں کی پازیب کے طور پر سن  کر مسحور ھو جایا کرتی  اداسیاں اس سے دور بھاگتیں تھیں کیونکہ وہ زندہ رہنے کا ہنر جانتی تھی وہ کھلکھلاتی  تو اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتی  اونچی آواز میں گنگنانا بھی اس کے محبوب مشاغل میں شامل تھا تیز رفتاری اس کا خاصہ تھا اسکول کالج  اور پھر یونیورسٹی  تک وہ بہترین ایتھلیٹ رہی  تھی کوئی  اس کی رفتار کی گرد کو بھی نہ پا سکتا اسی بنا پر وہ ہر تعلیمی ادارے  کی ضرورت بن گئی تھی    اور اسے اچھے تعلیمی اداروں  میں آرام سے داخلہ ملتا رہا   وہ اپنی اسکوٹی  پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتی  کچھ اوباش اس کی اسکوٹی کا۔پیچھا بھی کرتے لیکن وہ ان سب سے بے نیاز بس اپنی منزل کی طرف گامزن رہتی وہ جانتی تھی کہ گلی کے کتوں سے کس طرح پیچھا چھڑانا ہے  لیکن کبھی کبھی کوئی حلق کی ہڈی کی طرح اٹک جاتا ہے  رستم بھی ایسے ہی آنا پرست نوجوانوں میں تھا وہ عینی سے دوستی کرنے کا خواہاں تھا یونیورسٹی  میں ہر جگہ وہ اس کا پیچھا کرتا کیفے میں کلاس  میں یہاں تک کہ راستوں میں بھی  ، عینی  لڑکوں سے کسی قسم کی دوستی کی قائل نہیں تھی  کلاس فیلو بس کلاس فیلو ھوتے ہیں اس سے آگے کچھ نہیں لیکن رستم اس سے صرف دوستی چاہتا تھا جیون ساتھی بنانے کے لئے اس کا معیار کچھ اور تھا عینی نے متعدد بار اس کی سرزنش کی یہاں تک کہ ایک۔روز پیچھا کرنے پر عینی نے اس کی رپورٹ اپنے ڈین سے کر دی  اور اس کی اچھی خاصی خاطر داری کروائی یہی وہ چبھن  تھی جو رستم کو چین نہ لینے دیتی تھی اس نے کچھ روز معاملہ ٹھنڈا ھونے دیا اور ایک۔روز روڈ پر  سفر کرتی عینی کو اپنی گاڑی سے ٹکرا کر گذر گیا عینی کی دونوں ٹانگیں گاڑی کی زد میں آ گئیں لیکن جان بچ گئی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی عینی کی زندگی یکسر بدل گئی امیر زادہ تو اللہ کی سزا سے بے خوف اپنی دنیا میں مگن ھو گیا لیکن عینی کو پل پل کرب میں مبتلا کر گیا وہ جو پہاڑوں کی چوٹیوں  کو سر کرنے کے خواب بنا کرتی تھی اب ویل چئیر پر آ گئی برق رفتار عینی کے پر کٹر دئیے گئے  اب اس کی پرواز ماضی کا قصہ بن گئی والدین کی محبت اور ہمدردی نے عینی کو جینے کا حوصلہ بخشا  اور آہستہ  آہستہ اس نے حالات سے سمجھوتہ  کرلیا  اپنی ڈگری کی تکمیل  کرنے وہ یونیورسٹی  کے بلانے پر پھر سے یونیورسٹی  چلی گئی اسے  ویل چئیر پر دیکھ کر رستم اب اس کو طنزیہ نظروں سے  دیکھتا لیکن دور دور سے  اب وہ اسے دوستی کے بھی قابل نہ سمجھتا تھا اب یہ بھنورا  دوسری تتلیوں  پر منڈلا رہا تھا  لیکن نتیجہ اب بھی وہی نکل رہا تھا کیونکہ اب وہ بدنام ھو چکا تھا لیکن  رستم اور اللہ کے سوا   فرض عینی جانتی تھی  کہ وہ ایکسیڈنٹ  رستم نے ہی کیا تھا  عینی تو کبھی بد دعا دینے والوں میں سے نہیں تھی اسے یقین تھا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز  ہے

ڈگری کی تکمیل کے ساتھ ساتھ عینی نے اپنے گھر میں ایک۔ٹیوشن سنٹر کھول لیا جہاں وہ  بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ  زندگی کی مشکلوں سے نبرد آزما ھونے کے راز بھی بتلا رہی تھی رزق حلال کی برکتوں سے آشنا کروا رہی تھی تعلیم کو  زندگی کا جزو لاینفک  بنا رہی تھی بچے علم کے ساتھ ساتھ عمل پر بھی یقین  کر کے میدان عمل میں سرکردہ  تھے   عینی کو ڈگری ملتے ہی ایک سرکاری ادارے میں اسپیشل افراد کے کوٹے پر ملازمت مل گئی  یوں زندگی کی مشکلات میں بہت حد تک کمی آگئی والدین اس کا گھر بسانے کے لئے بہت پریشان  رہنے لگے لیکن عینی کا مقصد حیات اب بدل چکا تھا وہ بچوں کے ذہنوں کی آبیاری کر کے ان کی کامیابیوں پر یقین کرتی تھی ملازمت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ٹیوشن سنٹر کا باقاعدہ  ایک ادارے کی۔شکل دے دی جسے اس کے والدین اس کے ساتھ مل کر سنبھال رہے تھے عینی  نے گھریلو ملاز موں کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا اعلان کر رکھا تھا  اب علاقے کے سکیورٹی  اہلکار  بھی اپنے بچوں کو عینی کے ادارے ،  تعلیم سب کے لئے ،  میں  لاکر اپنے بچوں کا مستقبل  سنوارنے  کی کوشش کر رہے تھے
عینی وہ دیا بن چکی تھی جسے تیز آندھیاں بھی نہ بجھا سکیں اور اس کی شہرت دن بہ دن بڑھ رہی تھی جس برق رفتاری سے وہ کھیل کے میدان میں بھاگتی تھی اب اسی تیز رفتاری سے وہ میدان عمل میں سفر کر رہی تھی  عینی کے طالب علموں  نے سوشل میڈیا پر عینی کے ادارے اور مقاصد کو  سب تک پہنچانا شروع  کر  دیا  یوں دنوں میں عینی کی شہرت سرحدیں عبور کر گئی اور اب عینی ایک موٹیویشنل  اسپیکر کے طور پر ملک اور بیرون ملک  لیکچر کے لئے مدعو کی جاتی  اور  اپنے نصیب کا رزق کماتیعینی کو یقین تھا کہ اس کے ساتھ جو بھی ھو گا وہ اچھے کے لئے ھو گا  اس نے اپنے ایکسیڈنٹ پر بھی والدین کو یہی الفاظ کہہ کر تسلی دی جو اس کے اس یقین اور اعتقاد پر حیران تھے لیکن آج وہ دکھا رہی تھی کہ اگر وہ سانحہ نہ ھوتا تو وہ اس کامیابی کے راستے کے بارے میں سوچتی بھی نہ  لیکن اللہ اس کے یقین کے سہارے اس کے راستوں میں آسانیاں پیدا کرتا چلا  جا رہا تھا
ناصر بھی اس کے اسی یقین کے سہارے اس کے ادارے سے وابستہ  ھوا تھا اور عینی کے لئے تمام تر انتظامات  کی دیکھ بھال کرتا وہ مینیجر کم اور ایک دوست زیادہ تھا  ناصر نے بھی اپنی تعلیم یہیں آ کر پوری کی تھی اور عینی کے فیمیلی تعلقات کی بھی خبر رکھتا تھا  عینی کے والدین ناصر کو دل ہی دل میں۔پسند کرتے تھے لیکن کبھی منہ سے اسلئے نہ کہہ سکے کہ وہ ایک نارمل  انسان ہے اور ایسی ہی شریک سفر  اسے چائیے
ناصر کو تعلیم۔مکمل کرنے کے بعد ایک اچھی فرم سے ملازمت کی آفر آئی لیکن وہ عینی سے الگ نہیں ھونا چاہتا تھا عینی کے والد کے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ عینی کے ساتھ اپنا گھر بسانا چاہتا ہے  والد کو اور کیا چاہئے تھا آج تو ان کی مراد بر آئی تھی  لیکن عینی ایسا کرنے سے جھجھک محسوس کر رہی تھی وہ بھی ناصر کے ساتھ اس کے جیسی شریک سفر دیکھنا چاہتی تھی ناصر کی محبت اور احترام نے عینی کو یقین  دلا دیا کہ ناصر اپنی خواہشات  سے بڑھ کر مانگ رہا ہے وہ دل جس میں صرف محبت اور عقیدت ہے اپنے دشمن سے بھی نفرت نہیں کر سکتی جس کی زندگی میں بددعا نہیں ہے جو صرف دعا دینا جانتی ہے جسے اپنے رب پر پورا بھروسہ ہے اور اس کا رب اسے اپنی نعمتوں سے مالا مال بھی کر رہا ہے جو چلنے سے معذور ضرور ھو گئی ہے لیکن زندگی کی برق رفتاری میں کمی نہیں آئی  وہ زندگی کے ہر موڑ پر خود کو آزماتی ہے اور اس کا یقین اسے اس کی منزل سے اور قریب کر دیتا ہے اور اس طرح  اس کے زندگی زرد موسم بھی گنگنانے لگتے ہیں   اور ایک خوبصورت  رنگ ناصر بھی تھا جو عینی کی زندگی میں بہار بن کر آیا تھا  اب دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ھو کر کامیابیوں کی منازل طے کرنے لگے عینی کی معذوری اس کے سفر کو روک نہیں سکی  وہ اپنی زندگی پر یوں گنگناتی رہتینہ چھوڑوں ضبط کا بندھن میں خود کو آزماوں گی
ستائے جس  قدر  دنیا میں پھر بھی مسکراوں گی

Author

Related Articles

Back to top button