
ہوائیں موسم کی تبدیلی کا عندیہ دے رہی تھیں خوشگوار احساس زندگی کو مزید خوبصورت بنا رہا تھا کسی ماہر نفسیات نے انسانی زندگی پر مرتب اثرات کا سبب موسم کو بھی قرار دیا تھا کہ موسم کے مطابق انسان کا مزاج بدلتا ہے خزاں رسیدہ موسم انسان کو اداس کر دیتا ہے اور بہار مزاج پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے لیکن ایک موسم انسان کے اندر کا بھی ھوتا ہے جو اسے ہر لحظہ اپنےمطابق ہی رکھتا ہے عینی بھی ایسے ہی موسموں کی پروردہ تھی اس کا موسم سدا خوشگوار رہتا تھا خزاں میں پتوں کے جھڑنے کی آواز کو وہ پتوں کی پازیب کے طور پر سن کر مسحور ھو جایا کرتی اداسیاں اس سے دور بھاگتیں تھیں کیونکہ وہ زندہ رہنے کا ہنر جانتی تھی وہ کھلکھلاتی تو اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتی اونچی آواز میں گنگنانا بھی اس کے محبوب مشاغل میں شامل تھا تیز رفتاری اس کا خاصہ تھا اسکول کالج اور پھر یونیورسٹی تک وہ بہترین ایتھلیٹ رہی تھی کوئی اس کی رفتار کی گرد کو بھی نہ پا سکتا اسی بنا پر وہ ہر تعلیمی ادارے کی ضرورت بن گئی تھی اور اسے اچھے تعلیمی اداروں میں آرام سے داخلہ ملتا رہا وہ اپنی اسکوٹی پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتی کچھ اوباش اس کی اسکوٹی کا۔پیچھا بھی کرتے لیکن وہ ان سب سے بے نیاز بس اپنی منزل کی طرف گامزن رہتی وہ جانتی تھی کہ گلی کے کتوں سے کس طرح پیچھا چھڑانا ہے لیکن کبھی کبھی کوئی حلق کی ہڈی کی طرح اٹک جاتا ہے رستم بھی ایسے ہی آنا پرست نوجوانوں میں تھا وہ عینی سے دوستی کرنے کا خواہاں تھا یونیورسٹی میں ہر جگہ وہ اس کا پیچھا کرتا کیفے میں کلاس میں یہاں تک کہ راستوں میں بھی ، عینی لڑکوں سے کسی قسم کی دوستی کی قائل نہیں تھی کلاس فیلو بس کلاس فیلو ھوتے ہیں اس سے آگے کچھ نہیں لیکن رستم اس سے صرف دوستی چاہتا تھا جیون ساتھی بنانے کے لئے اس کا معیار کچھ اور تھا عینی نے متعدد بار اس کی سرزنش کی یہاں تک کہ ایک۔روز پیچھا کرنے پر عینی نے اس کی رپورٹ اپنے ڈین سے کر دی اور اس کی اچھی خاصی خاطر داری کروائی یہی وہ چبھن تھی جو رستم کو چین نہ لینے دیتی تھی اس نے کچھ روز معاملہ ٹھنڈا ھونے دیا اور ایک۔روز روڈ پر سفر کرتی عینی کو اپنی گاڑی سے ٹکرا کر گذر گیا عینی کی دونوں ٹانگیں گاڑی کی زد میں آ گئیں لیکن جان بچ گئی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی عینی کی زندگی یکسر بدل گئی امیر زادہ تو اللہ کی سزا سے بے خوف اپنی دنیا میں مگن ھو گیا لیکن عینی کو پل پل کرب میں مبتلا کر گیا وہ جو پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کے خواب بنا کرتی تھی اب ویل چئیر پر آ گئی برق رفتار عینی کے پر کٹر دئیے گئے اب اس کی پرواز ماضی کا قصہ بن گئی والدین کی محبت اور ہمدردی نے عینی کو جینے کا حوصلہ بخشا اور آہستہ آہستہ اس نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا اپنی ڈگری کی تکمیل کرنے وہ یونیورسٹی کے بلانے پر پھر سے یونیورسٹی چلی گئی اسے ویل چئیر پر دیکھ کر رستم اب اس کو طنزیہ نظروں سے دیکھتا لیکن دور دور سے اب وہ اسے دوستی کے بھی قابل نہ سمجھتا تھا اب یہ بھنورا دوسری تتلیوں پر منڈلا رہا تھا لیکن نتیجہ اب بھی وہی نکل رہا تھا کیونکہ اب وہ بدنام ھو چکا تھا لیکن رستم اور اللہ کے سوا فرض عینی جانتی تھی کہ وہ ایکسیڈنٹ رستم نے ہی کیا تھا عینی تو کبھی بد دعا دینے والوں میں سے نہیں تھی اسے یقین تھا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے




