خبریں

کتاب / رازہستی ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

  1. "رازِ ہستی” زرقا فاطمہ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو 2024ء میں ماورا پبلشرز، لاہور سے شائع ہوا اور بیس افسانوں پر مشتمل ہے۔ رڑک، دریا اور برتیے، اسیں گھر پر دیسی ہوئے، بانکڑی، صبح کا ذبح، سچائی کا کرب، گھر سے کیمپ تک، نازک ہے بہت کام، قلی یار دی، جدائی، اکیلا بادشاہ اکلوتی کنیز، مرہم ہے محبت، سامنے نہ سامنے، بے بسی، برف میں دھوپ، ہم کہ ٹھہرے اجنبی، کٹاری، کفارہ، اُس گلی میں، اور عشقِ رمیدہ۔ کتاب کا انتساب "ہر قسم کا رزق دینے والے اللہ کے نام” ہے۔

 

مصنفہ کا اپنا پیش لفظ اس بات کا اعلان ہے کہ یہ تحریریں زندگی کی سچائیوں کا بیان ہیں، خوابوں اور حقیقت کے درمیان کشمکش کا اظہار، اور "تراز و ترازو” سے ماورا ایک عورت کے قلم کی گواہی۔
عنوان کی معنویت
"رازِ ہستی” کا انتخاب بجائے خود ایک علامتی فیصلہ ہے۔ یہ صرف ایک کتاب کا نام نہیں بلکہ مصنفہ کے فکری منصوبے کا اعلانیہ ہے۔ ہر کہانی کسی نہ کسی کردار کے وجود میں چھپے ہوئے کسی راز کی تلاش ہے، خواہ وہ راز خاندانی نظام کی چپقلش میں ہو، طبقاتی فرق کی تلخی میں، یا محبت کے نامکمل رہ جانے میں۔ یہی وجہ ہے کہ خالد شریف نے اپنے پیش لفظ میں اس مجموعے کے دو بنیادی موضوعاتی محور کی نشان دہی کی ہے: اول، مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے 1971ء کے سانحے اور اس کے بعد کیمپوں میں زندگی گزارنے والے اردو بولنے والوں کی اذیت، اور دوم، دیہی پاکستان کی طبقاتی تفریق، جاگیردارانہ ذہنیت، اور غربت کے مسائل۔
ساختیاتی تنوع اور اسلوب
کتاب کے نمونہ صفحات سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ زرقا فاطمہ کا قلم یک رخا نہیں۔ "رڑک” جیسی کہانیوں میں دیہی پنجاب کی مٹی کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ کنویں، بیریوں، اونٹوں، اور دیہاتی لہجے کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کی اَن کہی چاہت کا بیان۔ "اکیلا بادشاہ، اکلوتی کنیز” اور اسی نوع کی کہانیوں میں دیہی معاشرت کی منافقت مولوی کی دکانداری، مذہب کا تجارتی استعمال، اور رشتوں کے فیصلوں میں مادی ترجیحات۔ پر گہری طنزیہ نظر ہے۔ دوسری طرف "گھر سے کیمپ تک” نوعیت کی کہانیوں میں مکالمہ زیادہ جدید، نفسیاتی، اور کلاس بیسڈ سماج پر براہِ راست تنقید کا حامل ہے، جہاں انگریزی کا ایک فقرہ ("People of our class are not too much emotional”) طبقاتی بے حسی کو بے نقاب کرنے کے لیے بطور علامت استعمال ہوا ہے۔ "کفارہ” میں پنجابی شادی بیاہ کے گیتوں ("دو پُتر اناراں دے”) کی شمولیت ثقافتی صداقت اور لوک رنگ کو کہانی کے اندر تک لے آتی ہے، جب کہ "عشقِ رمیدہ” جیسی آخری کہانیوں میں بیانیہ زیادہ شعری، باطنی، اور یادداشت پر مبنی ہو جاتا ہے۔
یہ تنوع دیہی لہجے سے شہری نفسیاتی مکالمے تک، طنز سے شعریت تک مصنفہ کے وسیع مشاہدے اور تجرباتی جسارت کی دلیل ہے۔
موضوعاتی گہرائی
اس مجموعے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہاں عورت محض موضوع نہیں بلکہ مشاہدہ کار اور راوی دونوں ہے۔ نیلم احمد بشیر نے فلیپ پر بجا طور پر لکھا ہے کہ زرقا فاطمہ کے کردار کہانیوں کے گرد و پیش گھومتے ہیں، اور خود کہانی اپنا چہرہ کرداروں کے ذریعے کھولتی ہے یعنی مصنفہ کا اسلوب براہِ راست بیانیے سے زیادہ کردار نگاری اور مکالمے کے ذریعے معنی پیدا کرنے کا ہے۔ یہ ایک پختہ فنی انتخاب ہے، کیونکہ یہی وہ اصول ہے جو منٹو اور بیدی کے افسانے کو ان کے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے دکھانا، بتانا نہیں۔
طبقاتی موضوع پر خاص طور پر "نازک ہے بہت کام” اور "سامنے نہ سامنے” جیسی کہانیوں میں انسانیت، مذہبی فرض، اور سماجی منافقت کے درمیان تناؤ نمایاں ہے۔ شادی کی معیشت جہاں رشتے محبت سے کم اور مالی مصلحت سے زیادہ بنائے جاتے ہیں ایک بار بار لوٹنے والا موضوع ہے، جیسا ک "رقیہ بی بی” کے کردار والی کہانی میں نظر آتا ہے، جہاں ایک باپ غربت کے ہاتھوں مجبور اپنی بیٹی کی شادی بوڑھے سے کر دیتا ہے۔
فنی محاسن
١۔ مکالمہ نگاری کی قوت: زرقا فاطمہ کے مکالمے علاقائی لہجے، نفسیاتی باریکی، اور ڈرامائی تناؤ سے بھرپور ہیں۔ کرداروں کی زبان ان کے طبقے اور پس منظر سے ہم آہنگ ہے۔ جو کسی بھی سنجیدہ افسانہ نگار کی پہلی شرط ہے۔
٢۔ لوک عنصر کا فنکارانہ استعمال: پنجابی بولیاں، شادی کے گیت، اور دیہی محاورہ کہانیوں میں مصنوعی پیوند کی طرح نہیں بلکہ نامیاتی حصہ بن کر آتے ہیں۔
٣۔ عنوانات کی علامتی تراش: "رڑک” (خلش/تڑپ)، "بے بسی”، "برف میں دھوپ”، "عشقِ رمیدہ” یہ سب عنوانات خود ایک شعری معنویت رکھتے ہیں اور قاری کو کہانی کے باطنی موضوع کی طرف اشارہ دیتے ہیں، جو محض اطلاعاتی عنوان سازی سے کہیں بلند تر فنکارانہ حس ہے۔
٤۔ عورت اور مرد دونوں کے دکھ پر یکساں نظر: پیشِ لفظ میں مصنفہ کا یہ دعویٰ کہ وہ "عورت کے دکھ کا مرد کے دکھ سے موازنہ نہیں” کرتیں، خود کہانیوں میں ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے "گھر سے کیمپ تک” کے مکالمے میں مرد کردار کی اپنی نفسیاتی شکستگی کو بھی برابر جگہ ملی ہے۔
تنقیدی پہلو کچھ خدشات
ایک ادبی نقاد کی نظر سے دیکھیں تو چند سوالات ضرور اٹھتے ہیں:
بیانیے کی کثافت بمقابلہ علامتی اختصار: بعض مقامات پر، خصوصاً ابتدائی صفحات میں، جملوں کی بُنت قدرے بھرپور اور طویل ہے، جس سے بعض جگہ افسانے کی روایتی چستی (جو منٹو یا قاسمی کے ہاں نظر آتی ہے) متاثر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ مختصر افسانے کی اصل طاقت "چھپانے” میں ہے، اور بعض کہانیوں میں جزئیات کی فراوانی اس اختصار کو کمزور کر سکتی ہے۔
موضوعاتی تکرار کا امکان: بیس کہانیوں میں طبقاتی تفریق، ناکام محبت، اور خواتین کا استحصال بار بار محور بنتے ہیں۔ جو موضوعاتی یکجہتی کی دلیل بھی ہے اور تکرار کا خطرہ بھی۔ ایک نقاد کی حیثیت سے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ہر کہانی اپنے پیش رو سے مختلف زاویہ نگاہ یا ڈرامائی تکنیک پیش کرتی ہے، یا انداز کی مشابہت قاری کی توجہ کو کسی حد تک یکسانیت کا احساس دے سکتی ہے۔
زبان کا توازن: بعض جگہ علاقائی لہجہ اور معیاری اردو کے درمیان منتقلی قدرے اچانک محسوس ہوتی ہے، جسے مزید نکھار سے ہموار کیا جا سکتا تھا۔
مجموعی تنقیدی فیصلہ
بہ حیثیتِ مجموعی، "رازِ ہستی” ایک ایسی پہلی کتاب ہے جو نووارد ہونے کے باوجود فنی خام کاری سے مبرا ہے۔ زرقا فاطمہ نے کردار نگاری، مکالمہ، اور موضوعاتی سنجیدگی کے اس امتزاج سے کام لیا ہے جو عام طور پر برسوں کی مشق کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ خالد شریف اور نیلم احمد بشیر جیسے معتبر قلم کاروں کی پُرتپاک پذیرائی بے سبب نہیں یہ مجموعہ واقعی اردو افسانے کے اس سلسلے کی کڑی بنتا ہے جو منٹو، انتظار حسین، قاسمی، اور بیدی کے ہاں سماجی شعور اور فنی ہنر کے امتزاج کی روایت سے جوڑتا ہے، خصوصاً 1971ء کے سانحے اور دیہی پاکستان کے طبقاتی استحصال جیسے سنگین موضوعات کے انتخاب میں۔
یہ کتاب محض "عورت کا قلم” کہہ کر الگ نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک سنجیدہ افسانہ نگار کی پہلی پختہ آواز ہے جو زندگی کی تلخیوں کو نہ رومانیانے کی کوشش کرتی ہے، نہ مبالغے کا شکار ہوتی ہے، بلکہ اپنے کرداروں کے دکھ کو ان کی اپنی زبان میں بولنے دیتی ہے — اور یہی کسی بھی بڑے افسانہ نگار کی پہلی اور سب سے دشوار شرط ہے.

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x