بلاگبلاگ / کالمز

غریب عوام کا پرسان حال کون ؟

تحریر : سماویہ اعظم

موجودہ دور میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ان کی مشکلات کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ ہر باشعور انسان اس صورتحال پر پریشان ہے۔ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور ایک ماں کی سب سے پہلی ذمہ داری اپنے کم زور اور نادار بچوں کی کفالت ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس جدید دور میں غریب عوام کا کوئی پرسانِ حال نظر نہیں آتا۔ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔ اس افسوس ناک صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بے بسی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ معاشرتی بے حسی ہے جو ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے؟ جب تک معاشرے کے ہر فرد، خاص طور پر صاحبِ ثروت طبقے میں احساسِ زیاں بیدار نہیں ہوتا تب تک اس دلدل سے نکلنا ناممکن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غریب عوام کے مسائل کو محض سیاسی نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بل کہ انہیں حل کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ جب تک غریب لوگوں کی مالی مدد کر کے انہیں اپنے روزگار کے قابل نہیں بنایا جاتا تب تک معاشرے میں امن اور خوشحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ تعلیم اور تربیت کا فقدان بھی غریب عوام کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی دیوار ہے۔ اگر ایک غریب خاندان اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینے سے قاصر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نسل در نسل غربت کے اس چکر کو طول دے رہے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرے تاکہ غریب کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنائے تاکہ غریب کے بچے بھی پڑھ لکھ کر کامیاب انسان بن سکیں۔ تعلیم ہی وہ واحد طاقت ہے جو غریب لوگوں کی حالت بدل سکتی ہے اور ان میں شعور پیدا کر سکتی ہے۔ صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ جب غریب آدمی بیمار ہوتا ہے تو علاج کے اخراجات اسے قرض کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور عملے کی غفلت غریب مریضوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں۔ اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے شفافیت اور سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے تاکہ غریب عوام کو ان کا جائز حق مل سکے اور انہیں علاج کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مہنگائی کے دباؤ نے غریب کسانوں اور مزدوروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان اسی معاشی ناہمواری کا نتیجہ ہے۔ زراعت جو کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اگر وہاں کام کرنے والے کسان ہی خوشحال نہیں ہوں گے تو ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے۔ کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملنا چاہیے تاکہ وہ بھی معاشرے میں سکون اور عزت سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ کرپشن اور بدعنوانی ختم کر کے ایک ایسا صاف نظام بنایا جائے جس کے ذریعے مستحق افراد تک براہِ راست مدد پہنچ سکے۔ دکھاوے کے اقدامات سے صرف وقتی فائدہ ہوتا ہے لیکن مستقل بہتری کے لیے جرات مندانہ فیصلے کرنا ضروری ہیں۔ معاشرتی سطح پر ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اردگرد نظر دوڑانی چاہیے کہ کہیں کوئی پڑوسی، کوئی رشتہ دار یا کوئی ملازم بنیادی ضروریات سے محروم تو نہیں۔ اسلام ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کا درس دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ پڑوسی کا حق سب سے مقدم ہے۔ جب ہم اپنے مال میں سے غریبوں کا حصہ نکالنا شروع کر دیں گے تو معاشرے سے غربت اور محرومی کا خاتمہ خود بخود ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جسے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر نبھانا ہو گا۔ حکومت کی ذمہ داری پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے جب کہ عوام کی ذمہ داری دیانت داری، محنت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔ غریب عوام اس ملک کا اثاثہ ہیں ان کی خوشحالی ہی ملک کی اصل خوشحالی ہے۔ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر انسان کو اس کا جائز حق مل سکے۔ غریب عوام کے پرسانِ حال بننا ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x