Blogsبلاگبلاگ / کالمز

عید اور احساس محرومی/تحریر : سماویہ اعظم

 

عید ایک ایسا تہوار ہے جو ہر سال ہمارے لیے خوشیوں، مسرتوں اور محبتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے نہ صرف عبادت اور شکرگزاری کا اظہار ہے بلکہ اجتماعی طور پر خوشیاں بانٹنے کا ایک خوب صورت موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں خوب رونق ہوتی ہے، ہر طرف جشن کا سماں ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہے احساسِ محرومی رکھنے والے لوگ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی مجبوری کے باعث اس خوشی میں شامل نہیں ہو پاتے۔ ان میں غریب اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے لیے نئے کپڑے، عمدہ پکوان اور عید کی تیاری صرف خواہشوں کی حد تک رہ جاتی ہے۔ جب وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ان کا دل اداس ہو جاتا ہے اور یہ اداسی اتنی گہری ہوتی ہے کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ احساسِ محرومی صرف پیسے کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے پیاروں سے دور رہتے ہیں، کچھ اپنے کسی عزیز کی جدائی کی وجہ سے اداس ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بیماری یا کسی مجبوری کے باعث اپنے خاندان کے ساتھ عید نہیں منا پاتے۔ ایسے لوگوں کے لیے عید کا دن خوشی کے بجائے اداسی میں گزر جاتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس ہر سہولت موجود ہوتی ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہیں بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اسلام نے عید کے موقع پر صدقہ فطر اس لیے مقرر کیا ہے کہ خوشی صرف امیر طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ ہر شخص اس خوشی میں شامل ہو سکے۔ جب صاحبِ حیثیت لوگ اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تو اس سے غریب لوگ بھی اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں اور ان کے چہروں پر بھی خوشی آ جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کا خیال رکھیں اور اپنی خوشیوں میں انہیں بھی شامل کریں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ جذبہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ لوگ زکوٰۃ اور صدقہ کو صرف ایک فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں جب کہ اس کے پیچھے جو ہمدردی اور احساس ہونا چاہیے وہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ عید کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں، خاص طور پر ان کا جو کسی نہ کسی وجہ سے محرومی کا شکار ہیں۔

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

"مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی دعاؤں کی برکت کی وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔”

(جامع الترمذی حدیث نمبر: ۱۷۰۲)

اگر ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں گے تو نہ صرف ان کے دلوں کا بوجھ ہلکا ہو گا بلکہ ہم بھی دل سے خوش ہوں گے۔ عید صرف نئے کپڑوں اور عمدہ کھانوں کا تہوار نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جو ہمیں دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے، سب کے ساتھ برابر کا سلوک کرنے اور انسانیت کا احساس پیدا کرنے کا سبق دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عید کے موقع پر اپنے رشتے داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مند لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔ کسی ضرورت مند کے گھر راشن پہنچانا، کسی بیمار کی عیادت کرنا یا کسی غریب بچے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دینا ہی دراصل عید کی حقیقی خوشی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عید کے دن کوئی بھی شخص احساسِ محرومی کا شکار نہ رہے اور ہر چہرہ محبت اور اپنائیت سے روشن ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کا خیال رکھیں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو کسی نہ کسی وجہ سے محرومی، تنگ دستی یا مجبوری کا شکار ہیں۔ ہم ان کے دکھ درد کو سمجھ سکیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کریں۔ ہم اپنے معاشرے سے احساسِ محرومی کو کم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ کوئی بھی انسان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔

Author

Related Articles

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x