
غزل
طارق اسد
آنے والا کوئی زمانہ ہوں
میں ہر اک عہد میں پرانا ہوں
ناوُک انداز دیکھتا کیا ہے
میں ازل سے ترا نشانہ ہوں
خال و خد کیا ہوئے نہیں معلوم
میں کوئی عکسِ غائبانہ ہوں
صرف تیری طرف نہیں آیا
میں کہیں اور بھی روانہ ہوں
مجھ میں لاشیں پڑی ہیں صدیوں کی
میں زمانوں کا سرد خانہ ہوں
Author
URL Copied




