نظم

ظہور منہاس کی تین نظمیں

اسٹیچو

اب رعایت بھی کیجیے للہ

مجھ سےغلطی ہوئی ہے مان لیا

آپ ساکت پڑے تھے بستر پر

میں نے سمجھا کوئی سٹیچو ہے

ورنہ بوسہ مری بلا جانے

—————————————————————-

Telescope

شہر امید میں ہے اک خاتون

سر خوشی میں ہے محو خواب ہے وہ

اور اسی کیفیت میں ہر لمحے

اپنے بچے کی نرم گردن پر

فرط ممتا سے بوسے دیتی ہے

شہر سے دور کارخانے میں

ہنس رہی ہے کوئی پتنگ کی ڈور

—————————————————————-

Dilemma

 

شام سے نظم کہنے کی کوشش میں ہوں

نظم کیسے کہوں میں نہیں جانتا

سوچتا ہوں کہ اپنی نئی نظم کی اولیں لائینیں تو ایفکٹیو کہوں تاکہ قاری اسے انڈ تک پڑھ سکے

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے جیب میں کم سے کم کتنے پیسے رکھوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے میرے ماتحت افسر کی کال آئے تو اس سے کیسے ملوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے روم کے ٹمپریچر کی حد کیا رکھوں

اور یہ بھی مرے وہم سے دور ہے نظم کہتے ہوئے کون سے سگرٹوں کو جلائے رکھوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے میرے کمرے میں ہوٹل سٹاف آئے تو اس سے کیا بات ہو

اور سروس کے بارے میں پوچھے اگر تو میں کیا کچھ کہوں

اور اگر کچھ کہوں ، لاونڈنس کیا رکھوں

بات کرتے ہوئے اپنی آنکھوں کو کس زوایے پر رکھوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے کون سا سوپ بہتر ہے میرے لیے

گر ہے معلوم تو اتنا معلوم ہے

یہ جو گرتی ہوئی برف ہے نظم ہے

نیند کا ذائقہ،نیند بھی نظم ہے

نظم ہیں میرے گاوں کے سب واقعے

دودکش سے نکلتا دھواں نظم ہے

ٹھنڈے چشمے پہ آئی ہوئی لڑکیاں

ان کے دامن پہ ابھری ہوئی سلوٹیں

نیم خوابی کی حالت میں روتے ہوئے

پالنے میں پڑے

شیر خواروں کی آئنگ بھری کروٹیں

بالیقیں نظم ہیں

ظہور منہاس

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x